پاکستان کے وفاقی وزیر برائے ہوا بازی غلام سرور خان نے کراچی میں پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کے مسافر طیارے کو پیش آنے والے حادثے کا ذمہ دار پائلٹ اور ایئر ٹریفک کنٹرولر کو قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں نے مروجہ طریقہ کار کو اختیار نہیں کیا۔
قومی اسمبلی کے اجلاس میں کراچی طیارہ حادثے کی عبوری رپورٹ پیش کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ابتدائی رپورٹ کے مطابق بدقسمت طیارہ پرواز کے لیے 100 فیصد ٹھیک تھا اس میں کسی قسم کی کوئی تکنیکی خرابی نہیں تھی۔
انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کی وجہ سے پروازیں معطل تھیں اور 7 مئی کو اس طیارے نے پہلی فلائٹ لی اور 22 مئی کو حادثے کا شکار ہوا، اس دوران 6مرتبہ کامیاب پروازیں مکمل کی تھیں جن میں 5پروازیں لاہور سے کراچی اور کراچی سے لاہور واپسی کے لیے تھیں اور ایک شارجہ کے لیے تھی۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ دونوں پائلٹس، کیپٹن اور معاون پائلٹ تجربہ کار تھے اور طبی طور پر جہاز اڑانے کے لیے فٹ بھی تھے۔
غلام سرور خان نے کہا کہ ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق پائلٹ نے فائنل اپروج پر کسی تکنیکی خرابی کی نشاندہی نہیں کی تھی جب وہ لینڈنگ پوزیشن میں آیا تب بھی کسی خرابی کی نشاندہی نہیں۔
عبوری رپورٹ جاری کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ رن وے سے 10 میل کے فاصلے پر طیارے کو تقریباً 2 ہزار 500 فٹ کی بلندی پر ہونا چاہیے تھا جبکہ ابتدائی تحقیقات اور ریکارڈ کے مطابق جہاز اس وقت 7 ہزار 220 فٹ کی بلندی پر تھا یہ پہلی بے قاعدگی تھی۔
انہوں نے کہا کہ وائس ریکارڈڈ ہے کہ ایئر ٹریفک کنٹرولر (اے ٹی سی) نے 3 مرتبہ پائلٹ کی توجہ اس جانب مبذول کروائی کہ اس کی اونچائی ابھی بھی زیادہ ہے اور پائلٹ سے کہا گیا کہ لینڈنگ پوزیشن نہ لیں بلکہ ایک چکر اور لگا کر آئیں لیکن پائلٹ نے کنٹرولر کی ہدایات کو نظرانداز کیا۔
غلام سرور خان نے کہا کہ ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق اور یہ ڈیٹا اینٹری ریکارڈر میں بھی موجود ہے کہ رن وے سے 10 ناٹیکل مائلز کے فاصلے پر طیارے کے لینڈنگ گیئرز کھولے گئے لیکن ایک بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ جب جہاز 5 ناٹیکل مائلز پر پہنچا تو لینڈنگ گیئرز واپس اوپر کرلیے گئے۔
اپنی بات جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جہاز کو رن وے پر لچکدار پوزیشن دی جاتی ہے کہ 1500 سے 3000 فٹ پر لینڈ کرسکتا ہے، انہوں نے کہا کہ رن وے کی لمبائی 1100 فٹ ہوتی ہے اور اصولاً طیارے کو 1500 سے 3000 فٹ پر ٹچ ڈاؤن کرنا چاہیے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ لینڈنگ گیئرز کے بغیر حادثے کا شکار طیارے نے 4500 فٹ پر انجن پر 3 مرتبہ ٹچ ڈاؤن کیا اور 3 ہزار سے 4 ہزار فٹ تک رن وے پر رگڑ کھاتا رہا جس میں انجن کو کافی حد تک نقصان پہنچا، اسی دوران پائلٹ نے دوبارہ جہاز کو اڑالیا جبکہ انہیں کوئی ہدایات نہیں دی گئی تھیں نہ پائلٹ نے کوئی ہدایات لی تھیں جس میں دونوں جانب سے کوتاہی تھی۔
غلام سرور خان نے کہا کہ اس میں اے ٹی سی کی بھی کوتاہی ہے کہ جب انہوں نے طیارے کو انجن پر ٹچ ڈاؤن کرتے دیکھا اور آگ نکلتے دیکھی تو انہیں بھی آگاہ کرنا چاہیے تھا لیکن کنٹرول ٹاور نے پائلٹ کو بھی آگاہ نہیں کیا اور پائلٹ نے جہاز کو دوبارہ ٹیک آف کرلیا۔
خیال رہے کہ22 مئی کو کراچی ایئرپورٹ کے قریب ماڈل کالونی میں پی آئی اے کا طیارہ گر کر تباہ ہوگیا تھا جس میں 91 مسافر اور عملے کے 8 افراد سوار تھے جن میں سے 97 افراد جاں بحق ہوئے جبکہ 2 افراد محفوظ رہے۔
بعدازاں اسی روز ی وفاقی حکومت نے طیارہ حادثہ کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل دی تھی، ٹیم کی سربراہی ایئرکرافٹ ایکسیڈنٹ اینڈ انویسٹی گیشن بورڈ (اے اے آئی بی) کے صدر ایئر کموڈور محمد عثمان غنی نے کی۔
علاوہ ازیں پاکستان ایئرلائنز پائلٹس ایسوسی ایشن(پالپا ) نے بین الاقوامی اداروں اور اپنی شمولیت سے پی آئی اے طیارہ حادثے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔
پالپا نے طیارے کی حالت سے متعلق تکنیکی تحقیقات کی تجویز بھی دی تھی اور کہا تھا کہ تفتیش کاروں کو گراؤنڈ اسٹاف اور عملے کے کام کرنے کے حالات پر لازمی غور کرنا چاہیے۔
بعدازاں پی آئی اے کے انجینئرنگ اینڈ مینٹیننس ڈپارٹمنٹ نے حادثے کا شکار ہونے والے مسافر طیارے ایئربس اے-320 کے تکینکی معلومات سے متعلق سمری جاری کردی ہے جس کے مطابق یارے کو رواں سال 21 مارچ کو آخری مرتبہ چیک کیا گیا تھا اور تباہ ہونے والے طیارے نے حادثے سے ایک دن قبل اڑان بھری تھی اور مسقط میں پھنسے پاکستانیوں کو لاہور واپس لایا تھا۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا تھا کہ طیارے کے انجن، لینڈنگ گیئر یا ایئر کرافٹ سسٹم میں کوئی خرابی نہیں تھی، دونوں انجنز کی حالت اطمینان بخش تھی اور وقفے سے قبل ان کی مینٹیننس چیک کی گئی تھی۔
علاوہ ازیں وزیر ہوابازی غلام سرور خان نے طیارہ حادثے پر تمام متاثرہ خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ انکوائری رپورٹ میں وزیر یا چیف ایگزیکٹو کی کوتاہی سامنے آئی تو خود کو احتساب کے لیے پیش کریں گے۔
ان کے علاوہ پی آئی اے کے چیف ایگزیکٹو افسر(سی ای او) ارشد ملک نے کہا تھا کہ مسافر طیارے کے حادثے میں مجھ سمیت جو بھی ذمہ دار ثابت ہوا اس کا احتساب ہوگا۔

