پاکستان کے زیر انتظام جموںکشمیر میںلاک ڈاؤن میںسختی کا اطلاق اٹھارہ مئی کی رات بارہ بجے ہو گا. جبکہ اٹھارہ مئی کی ہی صبح مظفرآباد ، باغ سمیت مختلف اضلاع میںکروڑوںروپے کے تعمیراتی ٹینڈر کھولے جائیںگے. باغ کے کنٹریکٹرز کا الزام ہے کہ نصف سے زائد ٹینڈر سرکاری ملازمین نے بھرے ہوئے ہیں. جو گورنمنٹ کنٹریکٹرز کے ساتھ سراسر نا انصافی ہے.
صحافی ثاقب راٹھور کے مطابق ضلع باغ کی تعمیراتی سکیموںکے ٹینڈر اٹھارہ مئی کو کھولے جائیںگے. ذرائع کے مطابق 80 کروڑ سے زائد مالیت کی سکیموںکے یہ ٹینڈر باغ کے تینوں حلقوںشرقی، غربی اور وسطی میںسڑکوںسمیت دیگر منصوبہ جات پر مبنی ہونگے. مجموعی طور پر تین حلقوںکی 39 سکیموںکے ٹینڈر کل ہونگے. جس کےلئے بیس سے زائد کمپنیاںمیدان میںہیں.
مالی سال 2020کی ترقیاتی اسکیموں کے ٹینڈر مارچ میں ہونے تھے تاہم حکم امتناعی کے باعث ٹینڈر کا عمل تاخیر کا شکار ہوئے۔ رواں برس شرقی باغ کے لیے 21کروڑ روپے،وسطی باغ کے لیے 24کروڑ روپے جبکہ جبکہ غربی باغ کے لیے 18کروڑ روپے کے فنڈز مختص کیے گئے ہیں. باغ ڈی ایچ کیو کی تکمیل کے لیے 11کروڑ50لاکھ روپے جبکہ باغ جوڈیشل کیمپلکس کی تعمیر کے لیے 5کروڑ 97لاکھ روپے کا بجٹ مختص کیا گیا ہے۔ ٹینڈر پیر کو 10سے12بجے باکس ہوں گے جبکہ آدھے گھنٹے کے وقفے کے بعد کھولے جائیں گے۔
دارالحکومت مظفرآباد میںبھی اٹھارہ اور انیس مئی کو تعمیراتی ٹینڈر کھولے جائیںگے، تاہم عدالتی حکم امتناعی کے باعث تین کلومیٹر سڑکوںکے ٹینڈر تاحکم ثانی ملتوی کر دیئے گئے ہیں.
واضح رہے کہ تمام اضلاع میںمارچ اور اپریل میںتعمیراتی ٹینڈر کھولے جانے تھے، جو بوجہ لاک ڈاؤن اور عدالتی حکم امتناعی تاخیر کا شکار ہوئے. کچھ اضلاع میں اپریل میںتعمیراتی ٹینڈر جاری کئے گئے اور تعمیراتی کام بھی شروع کروایا گیا. تاہم کچھ اضلاع میںحکم امتناعی جاری ہونے کی وجہ سے تعمیراتی ٹینڈر تاخیر کا شکار ہوئے.
دوسری جانب سیاسی و سماجی شخصیات کا کہنا ہے کہ حکومت نے تعمیراتی بجٹ سے ممبران اسمبلی، سیاسی رہنماؤں کو نوازنا ہوتا ہے، اس کے علاوہ محکمہ تعمیرات عامہ کے افسران کی بھی کمائی کا سب سے بڑا ذریعہ یہ تعمیراتی منصوبے ہی ہوتے ہیں. اس وجہ سے وبائی کیفیت میںنافذ العمل ہیلتھ ایمرجنسی میںبھی تعمیراتی سکیموںکو موخر نہیںکیا گیا. اور نہ ہی لاک ڈاؤن کے متاثرین کےلئے حکومت نے کوئی اقدام کیا ہے. بلکہ فنڈز لیپس ہونے سے بچانے کےلئے تعمیراتی ٹینڈرز لاک ڈاؤن کے دوران جاری کئے جارہے ہیں اور اس کےلئے ایس او پیز پر ماضی میںبھی عملدرآمد نہیںکیا گیا.
تاجروںکا کہنا ہے کہ حکومت نے لاک ڈاؤن میںنرمی ہی صرف اسی لئے کی تھی کہ تعمیراتی کام شروع ہو سکیںاور تعمیراتی منصوبوں کےلئے مختص بجٹ کو استعمال میںلایا جائے ، سکیموںکی بندر بانٹ باآسانی ہو سکے. یہی وجہ ہے کہ آخری ٹینڈرز کھولے جانے کے دن کے اختتام سے دوبارہ لاک ڈاؤن کو سخت کر دیا جائے گا.
سیاسی و سماجی رہنماؤںنےمطالبہ کیا ہے کہ جاری منصوبہ جات کےلئے مختص تعمیراتی بجٹ کے علاوہ جو نئے منصوبہ جات اور شاہرات کی مرمتی اور پختگی کےلئے بجٹ مختص کیا گیا تھا ان تمام سکیموںکو فی الفور منسوخکر تے ہوئے لاک ڈاؤن متاثرین کےلئے ریلیف پیکیج دیا جائے. لوکل گورنمنٹ، ضلع کونسل، کارپوریشن سمیت دیگرمحکمہ جات کی تعمیراتی سکیموںکےلئے مختص فنڈز بھی فی الفور منسوخکئے جائیں اور فوری طور پر ٹرانسپورٹرز، باربرز ، دیہاڑی داروں اور لاک ڈاؤن سے متاثر محنت کشوںکو مالیاتی پیکیج فراہم کر کے انکی مشکلات کم کی جائیں.

