Site icon Daily Mujadala

چیف جسٹس آف پاکستان عارف شاہد قتل کیس پر سو موٹو ایکشن لیں، آصف اشرف

یونائیٹڈ کشمیر جرنلسٹس ایسوسی ایشن (یکجا) کے کنونیئر آصف اشرف نے چیف جسٹس آف پاکستان سے عارف شاہد کیس میں سوموٹو ایکشن لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت پاکستان اور ذمہ دار اداروں سے بھی زینب کیس کی طرح انصاف کے تقاضے پورے کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔

اپنے ایک پریس ریلیز میں انہوں نے کہا کہ ایک ایسے وقت جب معصوم بچی زینب کے پر اسرار قتل کو حکومت پاکستان ریاستی اداروں کے تعاون سے بے نقاب کر گئی اور درندہ صفت قاتل پھانسی چڑھا لیا گیا۔ سات سال قبل 13 مئی 2013؁ء کو راولپنڈی کے حساس علاقے اڈیالہ میں پر اسرار طور پر قتل ہونے والے ممتاز کشمیری قوم پرست راہنما سردار عارف شاہد کے قتل پر بھی انصاف کے لیے آواز اٹھائی جائے۔

آصف اشرف نے جسٹس گلزار احمد سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس قتل کا نوٹس لیں چار سال سے اس قتل کی فائل بند پڑی ہے۔ پاکستان کے حساس علاقے میں ہونے والا قتل اور پھر اس پر قانون کا حرکت میں نہ آنا بہت سارے سوالیہ نشان پیدا کر رہا ہے۔افسوس کا مقام یہ ہے کہ قوم پرستی کا لبادہ اوڑھے کشمیری سیاست کار انا کے خول میں بند ہو کر اس قتل پر چپ سادھے ہیں اور بہت سارے مصلحت کے ساتھ ڈر کے خوف میں چپ ہیں۔

حالات کا تقاضہ ہے کہ ایک انسان کے بلا وجہ قتل پر سکوت توڑا جائے۔ پاکستان کی دوسری بڑی عدالت اسلام آباد ہائی کورٹ نے جب تین سال کے کیس کے باوجود سردار عارف شاہد پر لگائے گئے الزامات مسترد کیے۔ اس کے چند دن بعد ان کا قتل اور چار سال سے خاموشی کوئی معنی نہیں رکھتی۔

آصف اشرف نے توقع کی کہ نا صرف جسٹس گلزار احمد اس کا نوٹس لیں گے بلکہ پاکستان کی ساری حکومت اور ریاست بھی اپنی ذمہ داریاں پوری کرے گی، انہوں نے پاکستانی زیر انتظام کشمیر کے وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر کو یاد کروایا کہ وہ بھی اس وقت کیا گیا اپنا وعدہ پورا کرتے اب حکومت پاکستان اور دیگر اداروں سے مل کر اس قتل کو بے نقاب کروائیں۔

Exit mobile version