Site icon Daily Mujadala

معاہدہ کراچی اور ایکٹ 74غلامی کی بدترین دستاویزات: 4اور24اکتوبر کی حکومت کو اعلامیہ کے مطابق بحال کیا جائے، لبریشن فرنٹ

جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین سردار محمد صغیر خان ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ معاہدہ کراچی اور ایکٹ 74 غلامی کی بدترین دستاویز ات ہیں جنہیں فوری منسوخ کیا جائے۔ پاکستانی جموں کشمیر اور گلگت بلتستان کو باہم ملا کر ایک آزاد ، خودمختار اور انقلابی حکومت قائم کی جائے جو نہ صرف تحریک آزادی کشمیر کو اپنے زور بازو سے چلائے بلکہ کورونا وائرس جیسی وباﺅں سمیت تعلیم، صحت، روزگار اور انفراسٹرکچر جیسے مسائل سے کشمیریوں کو نجات دلانے کےلئے عملی اقدامات کر سکے۔ چار اور چوبیس اکتوبر کی حکومت کو اسکے اعلامیہ کے مطابق بحال کرنے کے بعد ہی بھارت کو عالمی سطح پر دباﺅ میں لایا جا سکتا ہے کہ وہ پانچ اگست کے بعد اٹھائے گئے اقدامات واپس لے، گزشتہ ستر سال کی پالیسی کے تحت صرف کشمیریوں کو بیووقوف بنایا جا رہا ہے۔

میڈیا کو جاری کئے گئے اپنے ایک خصوصی بیان میں انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کی وباءکے باعث احتجاجی پروگرامات کا انعقاد نہیں کیا جا رہا ہے،لیکن اس وبائی کیفیت میں ایک مرتبہ پھر یہ عیاں ہو رہا ہے کہ معاہدہ کراچی کے ذریعے سے جموں کشمیر کے عوام سے آئینی، سیاسی اور مالی اختیارات چھینے گئے ہیں اور مقامی حکومتوں کو مفلوج اور مطیع بنا کر کشمیری عوام کو بے یار و مدد گار چھوڑ دیا گیا ہے۔ جو نوآبادیاتی نظام کی ایک بدترین مثال ہے۔

انہوں نے کہا کہ معاہدہ کراچی کے ذریعے نہ صرف گلگت بلتستان کو جموں کشمیر سے الگ کرتے ہوئے براہ راست پاکستانی قبضے میں لیا گیا ہے بلکہ چار اور چوبیس اکتوبر کو انقلابی حکومت کے اختیارات پر شب خون مارتے ہوئے اسے ایک پاکستانی ریاست کی مطیع حکومت کے درجے تک محدود کر دیا گیا ہے۔ معاہدہ کے تحت جموں کشمیر کے عوام کی جدوجہد سے قائم حکومت سے دفاع، خارجہ امور، کرنسی، مواصلات سمیت ہر طرح کے مالیاتی اختیارات کو چھین لیا گیا، اس کے علاوہ جموںکشمیر کے ایک بڑے حصے گلگت بلتستان کا انتظام و انتصرام حکومت پاکستان کے سپرد کر دیا گیا تھا۔ جس کے بعد گلگت بلتستان کے عوام کو دہرے مظالم کا شکار رکھا گیا، ایف سی آر کے کالے قوانین ان پر لاگو کر کے ان سے جانوروں سے بھی بدتر سلوک کیا گیا۔ گلگت بلتستان سے سٹیٹ سبجیکٹ قوانین کا خاتمہ کرتے ہوئے نہ صرف شہریوں کے حقوق کو سلب کیا گیا بلکہ بھارت کو بھی موقع دیا گیا کہ وہ کشمیرپر اپنے قبضے کو مزید موثر اور مضبوط کر سکے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے ہی نقش قدم پر چلتے ہوئے بھارت نے اپنے زیر قبضہ جموں کشمیر کو دو حصوں میں تقسیم کرتے ہوئے وفاق کے زیر انتظام منسلک کر دیا، شہری قوانین میں ترمیم کرتے ہوئے جموں کشمیر کی شناخت اور آبادیاتی ہیت کو تبدیل کرنے کے منصوبے کو عمل جامہ پہنا دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کو یہ اقدامات واپس لینے پر مجبور کرنے کےلئے بھی پاکستان کو اپنے اقدامات واپس لینے ہونگے، بالخصوص معاہدہ کراچی کو منسوخ کرنے کا اعلان کرنا پڑے گا وگرنہ احتجاج اور بیان بازی سے کشمیریوں کو مزید بیووقوف نہیں بنایا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایک نمائندہ، انقلابی حکومت ہی کشمیر میں پائے جانے والے وسائل کو قومی تصرف میں لیتے ہوئے انہیں آبادی پر مساویانہ بنیادوں پر خرچ کر سکتی ہے اور تعلیم، صحت، انفراسٹرکچر اور روزگار جیسے مسائل کو حل کرتے ہوئے ایک صحت مند معاشرے کی بنیاد رکھ سکتی ہے۔

Exit mobile version