عمران خان کا معاشی پیکیج: 200 ارب غریبوں‌کےلئے، 200 ارب صنعت کاروں‌کیلئے

وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے کورونا وائرس کی وجہ سے بننے والی ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے معاشی پیکیج کا اعلان کر دیا ہے۔

پیکیج میں لیبر کے لیے دو سو ارب روپے کی امداد کے علاوہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں پندرہ روپے فی لیٹر کمی کا اعلان بھی شامل ہے۔جبکہ ایکسپورٹرز کو ٹیکس ریلیف دینے کےلئے ایک سو ارب اور چھوٹی صنعتوں کو آسان قرضوں‌کےلئے ایک سو ارب روپے کے معاشی پیکیج کا اعلان کیا گیا ہے.

اعلان منگل کو وزیر اعظم عمران خان نے اسلام اباد میں سینیئر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ لاک ڈاؤن ایک مشکل فیصلہ تھا۔

دو سو ارب کے پیکیج کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ہم صوبوں کے ساتھ بھی بات چیت کر رہے ہیں تاکہ اس کو مزید موثر بنایا جا سکے۔

’انڈسٹری، امپورٹ اور ایکسپورٹ کو فوری طور پر سو ارب روپے کے ٹیکس ریفنڈ دیے جائیں گے۔ سمال اور میڈیم انڈسٹری کے لیے سو ارب روپے رکھے گئے ہیں، آسان اقساط پر قرضے بھی دیے جائیں گے۔‘

عمران خان نے کہا کہ ڈیڑھ سو ارب روپے کا فنڈ مختص ہے جو چار مہینے میں تین ہزار روپے فی خاندان کے حساب سے بے روزگار ہونے والے افراد میں تقسیم کیے جائیں گے۔ ’یوٹیلٹی سٹورز کو مزید پچاس ارب روپے دے جا رہے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ پیکیج میں 50 ارب روپے میڈیکل ورکرز کے لیے رکھے گئے ہیں۔ بجلی اور گیس کے بلوں میں بھی صارفین کو ریلیف دیا جائے گا۔

’تین سو یونٹ خرچ کرنے والے صارف تین مہینے کی قسط میں بل دے سکیں گے۔‘

وزیر اعظم نے کہا کہ افراتفری کے بجائے دانش مندی سے کام لینا ہو گا۔ ’امریکہ دو ہزار ارب کا پیکج دے رہا ہے، اس کا بھی حال دیکھ لیں۔‘

اس موقع پر وزیر اعظم نے میڈیا ورکرز کے لیے بھی پیکیج تیار کرنے کا اعلان کیا۔ ایک سوال کے جواب میں عمران خان نے کہا کہ ان سے پوچھے بغیر کوئی فیصلہ نہیں ہوتا۔
کرفیو کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ دوسرے ملکوں اور پاکستان میں کرفیو لگانے میں بہت فرق ہے۔

امیر آدمی کو اس سے زیادہ فرق نہیں پڑے گا لیکن غریب بہت متاثر ہو گا

انہوں نے کہا کہ کورونا کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے تاہم فی الوقت کرفیو نہیں لگایا جائے گا۔

یہ لاک ڈاؤن کی آخری سٹیج ہو گی۔

اگر کرفیو لگانا پڑا تو پہلے پوری تیاری کرنا ہو گی۔ رضاکاروں کی پوری فورس بنانا ہو گی جس کے ذریعے غریبوں کے گھروں تک کھانا پہنچایا جائے گا۔

’یہ ٹی ٹوئنٹی کا میچ نہیں ہے، ہو سکتا ہے یہ صورت حال چھ مہینے تک چلی جائے، ہمیں جلدبازی کے بجائے دانش مندانہ فیصلے کرنا ہوں گے‘

ان کا کہنا تھا کہ ٹرانسپورٹ بند کرنے سے بہت سے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ کیونکہ سپلائی کا سلسلہ رک جائے گا اسی طرح اگر باہر نکلنے والوں کو پکڑ کر جیلوں میں ڈالا گیا تو اس سے وہاں بھی کورونا کا وائرس پھیل سکتا ہے۔

انہوں نے کہا چین میں پاکستانی طالب علموں کے حوالے سے پاکستان نے جو طریقہ کار اختیار کیا وقت نے اس کو درست ثابت کر دیا ہے۔

شرح سود کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ اس میں ردو بدل کا فیصلہ سٹیٹ بنک کرے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے ملک میں فیصلے ایلیٹ طبقے کی سہولت کے لیے کیے جاتے رہے ہیں، کسی بھی قسم کا غلط فیصلہ کر کے تباہی نہیں لانا چاہتے۔

کورونا سامنے آنے کے بعد چین کے مقابلے میں ایران سے پاکستانیوں کی واپسی پر نرم پالیسی اختیار کیے جانے کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ یہ وقت میڈیا پرایسی باتیں کرنے کا نہیں، پاکستان میں جتنی آزادی میڈیا کو حاصل ہے مغرب کے کسی ملک میں نہیں۔ ایران چین کی طرح کورونا کو ڈیل نہیں کر سکا ہم کیا کرتے وہاں جو پاکستانی تھے کیا ان کو واپس نہ لیتے۔ اسی طرح میڈیا کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال پر وزیراعظم نے کہا کہ اس وقت کورونا پر بات کریں میڈیا پر نہیں۔ اگر میڈیا پر ہی بات کرنی ہے تو پریس کانفرنس ختم کر دیتے ہیں۔

Leave a Reply

Translate »
%d bloggers like this: