راولاکوٹ میں‌لاک ڈاؤن: خلاف ورزی کرنیوالے درجنوں‌گرفتار، متاثرین کی مدد کےلئے شہری متحرک

پاکستانی زیر انتظام جموں‌کشمیر کے ڈویژنل ہیڈکوارٹر راولاکوٹ میں‌کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے تدارک کےلئے مکمل لاک ڈاؤن پانچویں روز میں‌داخل ہو چکا ہے.

پبلک ٹرانسپورٹ، رکشہ، ٹیکسی سمیت تمام تر دفاتر کو مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے. حکومتی فیصلہ کے مطابق بینک، بیکری، کریانہ سٹور، میڈیکل سٹورز اور دیگر مراکز کو محدود وقت تک کھلا رکھا گیا ہے.

راولاکوٹ شہر میں‌پولیس کی بھاری نفری تواتر کے ساتھ ایس ایچ او سردار اعجاز خان کی قیادت میں‌گشت پر معمور ہے. منگل کے روز بھی لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی کرنے پر درجنوں‌افراد کو گرفتار کر کے مستقبل میں‌لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی نہ کرنے کی ہدایات جاری کرنے کے بعد رہا کر دیا گیا ہے.

گرفتار کئے جانے والے زیادہ تک رکشہ ڈرائیور تھے. تاہم انہیں‌مستقبل میں‌خلاف ورزی نہ کرنے کی یقین دہانی پر رہا کر دیا گیا.

پولیس نے شہر بھر میں‌اعلان کے خلاف کھولی گئی چند ایک دکانوں‌کو بھی بند کروایا، تاہم اکثریتی دکانیں‌تاجروں‌نے خود ہی رضاکارانہ بند کر رکھی تھیں. البتہ اوقات کار پر عملدرآمد کےلئے پولیس نے شام چھ بجے کے بعد شہر بھر میں‌تمام سبزی ، فروٹ کی دکانوں، کریانہ سٹورزاور دیگر کھلے کاروباروں‌کو بند کروا دیا.

راولاکوٹ شہر میں‌ہوٹلز کی مکمل بندش کی وجہ سے شہریوں‌کو شدید مشکلات کا سامنا رہا. بالخصوص دیہاڑی داری پر کام کرنے والے محنت کشوں‌کو کھانے پینے کے حوالے سے مشکلات کا سامنا رہا. تاہم مقامی نوجوانوں نے رضاکارانہ بنیادوں‌پرچندہ کرتے ہوئے پیر اور منگل کی شام دیہاڑی داری پر کام کرنے والے محنت کشوں‌کو ایک وقت کا کھانا مہیا کیا. اور مستقبل میں‌بیکرز ایسوسی ایشن اور فلاحی ادارے مسلم ہینڈز نے بھی بدھ سے راولاکوٹ میں کھانا مہیا کرنے کا اعلان کر رکھا ہے.

اس کے علاوہ راولاکوٹ کے شہریوں‌نے لاک ڈاؤن ریلیف فنڈ کے نام سے ایک مہم کا بھی آغاز کیا ہے، جس میں‌ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل سردار جاوید ناز ایڈووکیٹ کی سربراہی میں سول سوسائٹی اراکین، سیاسی و سماجی رہنماؤں، تاجروں‌اور دیگر شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے خواتین و حضرات نے بھرپور شرکت کرتے ہوئے متاثرین خاندانوں‌تک راشن پہنچانے کے حوالے سے اقدامات شروع کر دیئے ہیں. لاک ڈاؤن کے دورانیہ میں‌ضرورت مند شہریوں‌کو خوراک پہنچانے کےلئے شہر اور نواحی علاقہ جات میں‌مختلف لوگوں‌نے کمیونٹی شیئرنگ کے ذریعے مہم کا آغاز کر دیا ہے.

Leave a Reply

Translate »
%d bloggers like this: