Site icon Daily Mujadala

کورونا: پاکستانی کشمیرمیں داخلہ بند، ناقص حکمت عملی سے ہزاروں مسافر پھنس گئے

کورونا وائرس کے باعث نافذ کی گئی ہیلتھ ایمرجنسی کے پیش نظر پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر میں‌ پبلک ٹرانسپورٹ کے داخلے پر پابندی عائد کئے جانے کے نوٹیفکیشن پر عملدرآمد شروع کر دیا گیا ہے.

جمعہ اورہفتہ کی درمیانی شب بارہ بجے سے پابندی عائد کی گئی تھی لیکن ہفتہ کی صبح سے پاکستانی کشمیر کے تمام انٹری پوائنٹس سے گاڑیوں‌کا داخلہ روک دیا گیا جس کی وجہ سے ہزاروں‌کی تعداد میں‌مسافر انٹری پوائنٹس پر پھنس کر رہ گئے.

پبلک ٹرانسپورٹ کے کشمیر میں‌داخلے پر پابندی کا نوٹیفکیشن جاری ہونے کے بعد انتظامیہ کی جانب سے بروقت ٹرانسپورٹرز کو پابند نہیں کیا گیا، جس کی وجہ سے ٹرانسپورٹ راولپنڈی اسلام اور پاکستان کے دیگر شہروں‌سے کشمیر کےلئے روانہ ہو گئی اور انٹری پوائنٹس پرروکے جانے کی وجہ سے ہزاروں مسافر بارش اور سرد موسم میں‌پاکستانی زیر انتظام کشمیر کے انٹری پوائنٹس پر رک گئے.

میرپور سے صحافی عتیق احمد سدوزئی نے مجادلہ سے گفتگو میں‌کہا ہے کہ میرپورشہرمیں‌داخلے کےلئے تمام انٹری پوائنٹس کو مکمل سیل کر دیا گیا ہے، کسی بھی طرح‌کی پبلک ٹرانسپورٹ میرپور میں‌داخل نہیں‌ہو رہی ہے. انتظامیہ نے صرف ذاتی گاڑیوں‌کو داخلے کی اجازت دے رکھی ہے، پرائیویٹ ٹیکسی اور بکنگ کی دیگر گاڑیوں‌کے داخلے پر بھی پابندی عائد ہے.

اسی طرح‌مظفرآباد سے فواد صادق عباسی کے مطابق پاکستانی زیر انتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفرآبادمیں‌بھی ہر طرح کی پبلک ٹرانسپورٹ کے داخلے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے اور کوہالہ انٹری پوائنٹ پر گاڑیوں‌کو روک دیا گیا ہے. اندرون شہر بھی پرائیویٹ گاڑیاں اور رکشہ چل رہے ہیں جن میں‌4 سے زائد سواریوں‌کی اجازت نہیں‌دی گئی ہے.

پونچھ ڈویژن کو راولپنڈی اسلام آباد سے ملانے والے انٹری پوائنٹس آزاد پتن اور ٹائیں‌ڈھلکوٹ پر بھی گاڑیوں روک دیا گیا ہے جس کی وجہ سے ہزاروں مسافر پھنسے ہوئے ہیں. مسافروں‌کا کہنا ہے کہ انتظامیہ کی ناقص حکمت عملی کی وجہ سے انہیں‌مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے. ایک المیے سے نبرد آزما ہونے کےلئے نااہل انتظامیہ نے اس سے بڑے المیے کو جنم دے دیا ہے.

اسسٹنٹ کمشنر سدھنوتی ممتاز کاظمی نے مجادلہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ سدھنوتی انتظامیہ نے رات بارہ بجے سے قبل ہی سدھنوتی کے تمام ٹرانسپورٹرز کے ساتھ مشاورت کرتے ہوئے پبلک ٹرانسپورٹ کو چلنے سے روک دیا تھا، جس کی وجہ سے آج ہفتہ کو کوئی بھی پبلک ٹرانسپورٹ سدھنوتی سے نہیں‌نکلی اور نہ ہی راولپنڈی اسلام آباد سے سدھنوتی کی طرف روانہ ہوئی. لیکن چونکہ آزاد پتن سدھنوتی کی حدود میں‌آتا ہے اور آزاد پتن سے راولاکوٹ، باغ، حویلی سمیت پورے پونچھ ڈویژن کی ٹرانسپورٹ داخل ہوتی ہے، دیگر اضلاع کے ٹرانسپورٹرز نے حکومتی پابندی پر عملدرآمد نہیں‌کیا جس کی وجہ سے انٹری پوائنٹس پرلوگ پھنس گئے ہیں.

ممتاز کاظمی کا کہنا تھا کہ انتظامیہ پوری تندہی سے مسافروں‌کو سہولیات دینے اور حکومتی نوٹیفکیشن پر پابندی کے سلسلے میں‌کام کر رہی ہے، پھنسے مسافروں‌کو پہنچائے جانے کا انتظام بھی کیا جا رہا ہے. لیکن ظہر کے بعد کسی کو آگے جانے کی اجازت نہیں‌دی جائے گی. ٹرانسپورٹرز کو اس مشکل وقت میں‌ہیلتھ ایمرجنسی پر عملدرآمد کرنا ہوگا. عوام، انتظامیہ اور حکومت مل کر ہی اس وباء پر قابو پا سکتے ہیں. ممتاز کاظمی کا کہنا تھاکہ صرف ذاتی استعمال کی گاڑیوں‌کو داخلے کی اجازت دی جا رہی ہے. پرائیویٹ ٹیکسی گاڑیوں کو بھی داخل نہیں‌ہونے دیا جائے گا. اس لئے عوام اس پابندی پر عملدرآمد کریں‌تاکہ انتظامیہ کو بھی آسانی ہو اور لوگوں‌کو مشکلات کا سامنا بھی نہ کرنا پڑے.

پابندی پر عملدرآمد نہ ہونے کےلئے ٹرانسپورٹرز اور انتظامیہ ایک دوسرے پر الزام تراشی کر رہے ہیں. ایک پبلک ٹرانسپورٹ ڈرائیور نے مجادلہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انتظامیہ نے مذکورہ نوٹیفکیشن سے متعلق ٹرانسپورٹرزکو کوئی اطلاع نہیں دی. قبل ازیں‌وزیراعظم کی پریس ریلیز اخبارات میں شائع ہوئی لیکن اس کے بعد انتظامیہ نے ٹرانسپورٹرز کو بتایا کہ ابھی پابندی سے متعلق کوئی فیصلہ نہیں‌ہوا. اسی لئے گاڑیاں‌بیس مارچ کو بھی معمول کے مطابق چلتی رہیں. اچانک اکیس مارچ کی صبح گاڑیوں‌کو آزاد پتن پل پر روک دیا گیا ہے. جس کی وجہ سے مسافروں‌کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے.

راولاکوٹ کے ایک انتظامی اہلکار نے مجادلہ کو بتایا کہ رات دس بجے نوٹیفکیشن موصول ہونے کے بعد راولاکوٹ اور ضلع پونچھ بھر کے ٹرانسپورٹرز کو ٹیلیفونک رابطوں‌کے ذریعے پابندی سے متعلق آگاہ کیاگیا تھا لیکن ٹرانسپورٹرز نے عملدرآمد نہیں‌کیا جس کی وجہ سے اس مشکل صورتحال کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے.

ادھر پاکستانی زیر انتظام جموں‌کشمیرمیں چار نئے کیس رپورٹ ہوئے ہیں‌جن کے ٹیسٹ نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ سائنسز کو بھیج دیئے گئے ہیں. نئے رجسٹر ہونے والے کیسز میں‌دو مظفرآباد، ایک باغ اور ایک کوٹلی سے ہے.

محکمہ صحت عامہ جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق پاکستانی زیر انتظام کشمیر میں کرونا وائرس کے شبہ میں اب تک کل40افراد کے ٹیسٹ کرائے گئے ہیں، جن میں سے 16کی رپورٹ ایک دو روز میں موصول ہو جائے گی جبکہ ایک شخص میں کرونا وائرس کی تصدیق ہو چکی ہے اور23افراد کے ٹیسٹ منفی آئے ہیں اور ان میں کرونا وائرس کی موجودگی نہیں پائی گئی۔

گزشتہ24گھنٹوں کے دوران4نئے افراد کے کرونا کے شبہ میں ٹیسٹ کروائے گئے ہیں جن کی رپورٹ ابھی نہیں آئی ۔ پریس ریلیز کے مطابق تمام انٹری پوائنٹس پر محکمہ صحت کا عملہ انتظامیہ کے تعاون سے آنے والے تمام مسافروں کی سکریننگ کررہا ہے اور اس سلسلہ میں کرونا کا شبہ ہونے کی صورت میں افراد کو قریبی قرنطینہ سینٹرز میں منتقل کیا جارہا ہے۔

Exit mobile version