اقتصادی تعاون اور ترقی کی تنظیم (او ای سی ڈی) نے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو عالمی معیشت کےلئے بہت بڑا خطرہ قرار دیتے ہوئے بدترین معاشی بحران کی پیش گوئی کر دی ہے.
او ای سی ڈی کا کہنا ہے کہ عالمی معیشت اس سال صرف 2.4 فیصد ترقی کریگی جو 2009 کے بعد سب سے کم اور نومبر میں کی جانے والی 2.9 کی پیش گوئی سے بھی کم ہے.
عالمی نشریاتی ادارے الجزیرا کے مطابق پیرس میں قائم پالیسی فورم نے پیش گوئی کی ہے کہ 2021 میں عالمی معیشت 3.3 فیصد کی نمو کو اس صورت بحال کر سکتی ہے کہ اس سال کی پہلی سہ ماہی میںہی وبائی مرض پر قابو پا لیا جائے. تاہم فورم نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ وائرس پورے ایشیاء ، یورپ اور شمالی امریکہ میں پھیلتا ہے تو اس سال عالمی سطح پر نمو 1.5 فیصد تک کم ہوسکتی ہے۔
او ای سی ڈی کے چیف ماہر معاشیات لارنس بون نے رائٹرز نیوز ایجنسی کو بتایا کہ ، “اس منفی منظرنامے کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ اس نے بہت سارے ممالک کو کساد بازاری میں ڈال دیا ہے ، یہی وجہ ہے کہ ہم متاثرہ علاقوں میں جلد از جلد اقدامات کرنے کی اپیل کر رہے ہیں۔”
انہوں نے کہا کہ حکومتوں کو تنخواہوںمیںاضافہ کرتے ہوئے صحت کے نظام کی مدد کرنے یا مشکلات کا شکار کمپنیوںکے ساتھ اوور ٹائم اور شارٹ ٹائم ورکنگ سکیموں کے تحت کام کرنے والے محنت کشوںکےلئے ٹیکس میںچھوٹ دینے کی ضرورت ہے۔ انہوںنے کہا کہ حکومتیں ایسی کمپنیوںکو سوشل چاجز میںکٹوتی، ویلیو ایڈڈ ٹیکس معطل کرنے سمیت دیگر معاشی ریلیف بھی فراہم کر سکتی ہیں.
مرکزی بینک مشکلات سے دوچار مالیاتی منڈیوں کو راحت بخش سگنل فراہم کرسکتے ہیں کہ وہ مانیٹری پالیسی کو مزید آسان بنانے اور ضرورت پڑنے پر بینکوں کو لیکویڈیٹی فراہم کرنے کے لئے تیار کھڑے ہیں۔
لارنس بون کا کہنا تھا کہ ہم صحت کے بحران میں مالی بحران کو شامل نہیں کرنا چاہتے۔
ریاستہائے متحدہ امریکہ کے فیڈرل ریزرو ، یورپی سنٹرل بینک اور بینک آف جاپان کے عہدیداروں نے حالیہ دنوں میں اشارہ کیا ہے کہ وہ ضرورت پڑنے پر اس سے بھی زیادہ کرنے کے لئے تیار ہیں۔
لارنس بون نے کہا کہ جی 20 میں مربوط صحت ، مالی اور مالیاتی پالیسی کے ردعمل سے نہ صرف مضبوط اعتماد کا پیغام جائے گا بلکہ قومی اقدامات کے اثر میں کئی گنا اضافہ ہوگا۔
فرانسیسی وزیر خزانہ برونو لی مائیر نے پیر کو کہا کہ اب تک بین الاقوامی ہم آہنگی جی 7 ممالک تک محدود ہے ، جن کے وزرائے خزانہ اس ہفتے ایک کانفرنس کال کریں گے۔
او ای سی ڈی کے مطابق اگر صورتحال ڈرامائی طور پر خراب نہیں ہوتی ہے تو چین رواںسال کی مندی کا خمیازہ برداشت کریگااور اس نے 2020 کی اوسط شرح نمو کو 30 سال کی کم ترین سطح پر 4.9 فیصد تک کم کردیا ، جو نومبر میں مقرر کردہ اوسط 5.7 فیصد سے کم ہے۔
او ای سی ڈی کی پیش گوئی کے مطابق دنیا کی دوسری سب سے بڑی معیشت (چین) 2021 میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ سے پہلے کی سطح پر واپس آئے گی ،لیکن ایسا اسی صورت ہوگا کہ اگر موجودہ صورت پر قابو پالیا گیا۔ اگر صورتحال مزید خراب ہوئی تو عالمی معیشت کو شدید خطرہ لاحق ہو جائیگا

