Site icon Daily Mujadala

ہندو انتہاء پسند تنظیم کا تین کشمیری طلبہ کی زبان کاٹنے پر تین لاکھ روپے انعام کا اعلان

بھارت کی ایک انتہاء پسند ہندو تنظیم شری رام سینا نے پاکستان کی حمایت میں نعرے لگانے والے تین کشمیری طلبہ کی زبانیں‌کاٹ کر لانے والے شخص یا اشخاص کو تین لاکھ روپے انعام دینے کا اعلان کیا ہے.

یہ اعلان تنظیم کے اعزازی سیکرٹری سید لنگا سوامی کی جانب سے سامنے آیا ہے. خبر رساں ادارے ساؤتھ ایشین وائر کے مطابق انہوں نے مبینہ طور پر یہ بات بدھ کے روز ایک پروگرام میں خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہی اور کہا ، “ملک دشمنوں کے لئے یہاں کوئی جگہ نہیں ہے”۔

کناڈا میں چھتراپتی شیواجی مہاراج کے یوم پیدائش کے موقع پر سوامی نے کہا کہ، میں آپ کو بتا رہا ہوں کہ جن لوگوں نے پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگایا،وہ اس وقت جیل میں ہیں۔ وہ زبانیں جن سے انہوں نے پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگایا ۔ان زبانوں کو کاٹ کر لائیں ، شری رام سینا انہیں ہر زبان کے بدلے 1لاکھ روپیہ دے گی۔

کرناٹک کے ہبلی شہر میں تعلیم حاصل کرنے والے بھارتی زیر انتظام جموں و کشمیر سے تعلق رکھنے والے تین طلبا کو اتوار کے روز پاکستان نواز نعرے لگا کر ملک سے غداری کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق پیر کے روز جب انہیں جوڈیشل مجسٹریٹ فرسٹ کلاس کورٹ کے احاطے میں لایا گیا تومشتعل عوام نے ان تینوں پر حملہ کردیا۔جب کہ دائیں بازو کی متعدد تنظیموں نے ایک مظاہرہ کیا اور عدالت میں “بھارت ماتا کی جے ” کے نعرے لگائے۔

کے ایل ای انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی میں سول انجینئرنگ کے تین طالب علم طالب مجید ، باسط آصف صوفی اور عامر محی الدین کا تعلق کشمیر کے علاقہ شوپیاں سے ہے۔

پولیس کے مطابق ان تینوں طلبا نے پلوامہ حملے کی پہلی برسی کے موقع پر ایک ویڈیو بنایا تھا جس میں وہ مبینہ طور پر ‘پاکستان زندہ باد’، ‘ہم کیا چاہتے آزادی ‘ اور ‘فری کشمیر’ کے نعرے لگا رہے ہیں۔

ویڈیو وائرل ہونے کے بعد پولیس نے تینوں طلباکو گرفتار کیا تھا۔ساوتھ ایشین وائر کے مطابق پولیس نے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات میں پتا چلا کہ ان تینوں کا تعلق جموں و کشمیر کے ضلع شوپیاں سے ہے۔ پرنسپل کی طرف سے دائر کردہ شکایت پر ان کے خلاف آئی پی سی کی دفعہ 153 اے بی اور 124 اے کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔

مذکورہ طلبہ کی زبانیں کاٹنے والوں‌کےلئے انعامی رقم کا اعلان کرنے والی تنظیم شری رام سینا ایک دائیں بازو کی ہندو انتہاء پسند تنظیم ہے، جو میڈیا پر توجہ حاصل کرنے کے لئے مختلف انتہاء پسندانہ سرگرمیوں‌میں‌مصروف رہتی ہے، کسینوز، کلبوں اور پب وغیرہ پر حملے کرنے اور ہندو مسلم دشمنی کو ابھارنے جیسے اقدامات کرنے کے حوالے سے مشہور ہے. حال ہی میں‌کشمیری طلبہ کی زبانیں کاٹنے پرلوگوں‌کو اکسانے کے حوالے سے میڈیا پر اس تنظیم کو مشہوری مل رہی ہے.

Exit mobile version