جرمنی کے شہر میونخ میںہونے والی سکیورٹی کانفرنس کی رپورٹ میںکہا گیا ہے کہ کشمیر میں ہونے والے کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے ہندوستان اور پاکستان کے درمیان تصادم کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
خبر رساں ادارے ساوتھ ایشین وائر کے مطابق اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کشمیر اس سال کے 10 بڑے تنازعات میں شامل ہے۔
اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بھارت اور پاکستان کے مابین کشیدگی نے کشمیر کے بحران کو ایک بار پھر توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔
تاہم اس رپورٹ میں اسلام آباد کی دہشت گردی کو ریاستی پالیسی کے طور پر استعمال کرنے اور ہندوستان کو نشانہ بنانے میں پاکستان کی طرف سے دہشت گرد گروہوں کے کردار کا دعویٰکرتے ہوئے یہ کہا گیاہے کہ بھارتی زیر انتظام جموںکشمیر میںدہشت گردی کا کوئی بھی واقع انڈیا اور پاکستان کے مابین تصادم کو ہوا دے سکتا ہے۔
رپورٹ میںکہا گیا ہے کہ بھارت کسی بھی دہشت گردی کے واقع کا سخت رد عمل دے سکتا ہے، جو خطے میںکشیدگی کو ہوا دے گا۔
مذکورہ رپورٹ کو بھارتی نشریاتی اداروں نے شہ سرخیوںمیںشائع کرتے ہوئے پاکستان مخالف پروپیگنڈہ کے طور پراستعمال کیا ہے، تاہم غیر جانبدارانہ مبصرین میونخ سکیورٹی کانفرنس میں بھارتی موقف کی پذیرائی کو پاکستان کی سفارتی ناکامی سے جوڑ رہے ہیں.
دوسری طرف عالمی ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ بھارتی زیر انتظام جموں کشمیر میںمسلح کارروائیوںمیںپاکستانی مداخلت کا عنصر اب نہ ہونے کے برابر باقی رہ چکا ہے، ماضی میں جس مسلحتحریک کے روحرواںکے طور پر پاکستانی ریاست موجود رہی ہے، موجودہ وقت میںاس تحریک پرپاکستان کا کنٹرول نہ ہونے کے برابر رہ چکا ہے، تاہم ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ پاکستانی ریاست کے جانب سے اس طرحکے اقدامات کو ابھی تک مکمل طور پر ترک نہیںکیا ہے.
ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کی جانب سے اب بھی مسلح عسکریت کو کشمیر مسئلہ میںاپنی بقاء کے ایک ٹول کے طور پر دیکھا جا رہا ہے.
میونخ سکیورٹی کانفرنس کی رپورٹ میں یہ بھی کہاگیا ہے کہ امریکہ افغانستان میںاپنی فوجوں کو کم کرنے کی تیاری کر رہا ہے ، پاکستان نے جس طرح انسداد دہشت گردی کی کوششوں میں اپنا کردار ادا کیا ہے ،وہ بین الاقوامی دہشت گرد گروہوں کو دوبارہ سے طاقت حاصل کرنے سے روکنے کی کوششوں کا مرکزی حصہ بن گیا ہے۔

