Site icon Daily Mujadala

کشمیر ملائشیا میں اسلامی ممالک کی سربراہی کانفرنس کا اہم نکتہ، وزیراعظم عمران خان شرکت سے گریزاں

بدھ کے روز سے مسلم اکثریتی ممالک کے ملائیشیا کی زیرقیادت کوالالمپور سربراہ کانفرنس کے ایجنڈے میں کشمیر کی صورتحال کلیدی امور میں شامل ہوگی۔اس اجتماع کو اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی)کی ایک منی آرگنائزیشن کے طور پر دیکھا جارہاہے ۔

میزبان ملائشیا نے عالم اسلام کا قائد بننے کی وزیر اعظم مہاتیر محمد کی کوششوں کے ایک حصے کے طور پر یہ اجلاس منعقد کیا ہے جس میں پاکستان ، ترکی ، قطر اور انڈونیشیا کو مدعو کیا ہے۔

خبر رساں ادارے ساؤتھ ایشین وائر کے مطابق کچھ اطلاعات میں کہا گیا ہے کہ ایران کو بھی اس سربراہی اجلاس میں مدعو کیا گیا ہے ، لیکن اس بارے میں ابھی تک کوئی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔

تاہم میڈیا رپورٹس میں‌یہ بھی دعویٰ‌کیا گیا ہے کہ ایران کو مذکورہ اجلاس میں‌مدعو کئے جانے پر سعودی عرب کے شدید تحفظات ہیں، اور سعودی عرب نے وزیراعظم پاکستان عمران خان پر بھی دباؤ ڈالا ہے کہ وہ اس کانفرنس میں شرکت نہ کریں، جس کے بعد گزشتہ شب سے پاکستانی میڈیا پر بھی یہ خبر گردش کر رہی ہے کہ وزیراعظم عمران خان مصروفیات کی وجہ سے اس اجلاس میں شاید شرکت نہ کر سکیں، انکی جگہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نمائندگی کرینگے.

ملائشیا اور ترکی دونوں نے 5 اگست کو آئین کے آرٹیکل 370 کے تحت سابقہ ریاست جموں و کشمیر کو دی جانے والی خصوصی حیثیت سے دستبردار ہونے کے بعد سے مسئلہ کشمیر پر پاکستان کی حمایت کی ہے ۔جبکہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کاکشمیر سے متعلق بھارت کے اقدام پر غیر جانبدارانہ موقف رہاہے۔

ستمبر میں نیویارک میں ترکی ، پاکستان اور ملائیشیا سے متعلق سہ فریقی اجلاس کے دوران اس سربراہی اجلاس کے منصوبے کو حتمی شکل دی گئی تھی۔

خبر رساں ادارے ساؤتھ ایشین وائر کے مطابق پاکستان سربراہی اجلاس میں مسئلہ کشمیر کو ایک اہم نکتے کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کرے گا۔ تاہم انڈونیشیا کسی ایسے اقدام کی پشت پناہی شاید ہی کرے۔

نیوز ویب سائٹ القمر آن پر لکھے جانے والے ایک مضمون کے مطابق پچھلے کچھ برسوں میں ، انڈونیشیا نے او آئی سی کے کشمیر کے بارے میں سخت بیانات اپنانے کے اقدامات کی مخالفت کی ہے۔

القمرآن لائن کے مطابق او آئی سی میں ہونے والی گزشتہ پیشرفتوں سے آگاہ ماہرین کے مطابق ، اگرچہ یہ سربراہی اجلاس مستقبل قریب میں او آئی سی کو تقسیم نہیں کرسکتا ، لیکن ترکی کے حمایت یافتہ ملائشیا کی یہ واضح کوشش ہے کہ اسلامی دنیا میں سعودی عرب کے قائدانہ کردار کو چیلنج کریں۔ ملائشیا کے وزیر داخلہ سیری مجاہد یوسف راوا نے حال ہی میں کہا کہ کوالالمپور سمٹ 2019 ایک اہم پلیٹ فارم ہوگا جو دنیا میں اسلام کے حقیقی پیغام کو پہنچائے گا ، اور اسی طرح بنیاد پرستی اور اسلامو فوبیا سے متعلق امور حل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

پاکستان کے لیے سعودی عرب، ترکی، ملائیشیا، ایران، بحرین اور دیگر مسلمان ملک غیر معمولی اہمیت کے حامل ہیں۔ یہ مسلم ممالک پاکستان کی مالی مدد میں پیش پیش رہتے ہیں۔ اس بار بھی پاکستان کو ان ہی عرب مسلم ممالک نے مالی امداد فراہم کی ہے۔ پاکستان خطے کی ایک اہم ضرورت ہے اس بات کو تسلیم کرنا ہو گا.

تاہم دوسری طرف اگر دیکھا جائے تو پاکستان کا معاشی اور سیاسی انحصار سعودی عرب پر زیادہ ہونے کی وجہ سے پاکستان سعودی عرب کی مخالفت کا متحمل نہیں‌ہو سکتا. یہی وجہ ہے کہ مذکورہ سربراہی اجلاس میں‌پاکستان کی شرکت محض حاضری تک محدود رہ سکتی ہے.

Exit mobile version