پاکستانی صوبہ سندھ کے ضلع قمبر شہداد کوٹ میں پولیس حکام نے جرگے کی جانب سے قتل کیس کے مبینہ ملزم کی دو کمسن بیٹیوں کو مقتول کے گھر شادی کرانے کا حکم دینے پر کارروائی کرتے ہوئے فیصلہ پر عمل درآمد رکوا دیا۔
پولیس کے مطابق جرگے نے مبینہ قتل کے عوض جن لڑکیوں کا رشتہ دینے کا فیصلہ کیا ان کی عمریں 12 اور 10 سال ہیں۔
جرگے کی جانب سے مبینہ ملزم کو 90 لاکھ روپے بطور جرمانہ ادا کرنے بھی حکم دیا گیا۔ ملزم حسن علی پر الزام ہے کہ انہوں نے دو ماہ قبل ٹیکسی ڈرائیور طالب چانڈیو کا قتل کیا۔
غیر قانونی طور پر منعقدہ جرگے میں طے پایا کہ قتل کے بدلے ملزم حسن علی کو اپنی دو بیٹیوں کا رشتہ دینا ہو گا اور یہ بھی کہا گیا کہ دونوں لڑکیاں شادی کے بعد اپنے والدین سے ملاقات نہیں کر سکیں گی۔ جرگے نے خون بہا کے طور پر ملزم کو 90 لاکھ روپے ادا کرنے کا حکم بھی دیا تھا۔
غیر قانونی جرگے کی اطلاع پر وومین اینڈ چائلڈ پروٹیکشن سیل، ایڈیشنل آئی جی پولیس آفس سکھر ریجن اور وومین اینڈ چائلڈ پروٹیکشن سیل ضلع قمبر شہداد کوٹ کی جانب سے بروقت کارروائی کی گئی جس کی وجہ سے غیر قانونی فیصلے پر عمل درآمد نہ ہو سکا۔
پولیس کے مطابق غیر قانونی جرگہ اللّٰہ ورایو چانڈیو کی سرپنچی میں منعقد کیا گیا جو کہ پولیس کے ریٹائرڈ ڈی ایس پی ہیں۔ جرگہ کرنے والے تین ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا لیکن مرکزی ملزم ریٹائرڈ ڈی ایس پی تاحال مفرور ہیں۔
جرگہ کرنے والے ملزمان کے خلاف ایف آئی آر نمبر 243/2019 تھانہ قمبر سٹی میں درج کر لی گئی ہے۔
ایس ایس پی ضلع قمبر شہداد کوٹ کی جانب سے ملزمان کی جلد گرفتاری کے لیے ڈی ایس پی اور ایس ایچ او کو احکامات جاری کر دے گئے ہیں۔
یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ عدالت عظمیٰ کی جانب سے جرگے اور پنچائیت منعقد کرنے کو غیر قانونی اقدام قرار دیا گیا ہے۔ سپریم کورٹ کے ایک فیصلے میں کہا گیا ہے کہ جرگہ اور پنچائیت کی صورت میں نجی عدالت لگانے سے انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہوتی ہے اور فراہمی انصاف کے حوالے سے پاکستان کے اقوام عالم سے کیے گئے معاہدوں کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔

