ناروے میں قرآن کی بے حرمتی کے معاملے پر نارویجین سفیر کو دفتر خارجہ اسلام آباد طلب کر کے پاکستان کی جانب سے شدید احتجاج ریکارڈ کرایا گیا۔
دفتر خارجہ سے جاری ہونے والے اعلامیے کے مطابق ہفتے کو ناروے کے سفیر کو دفتر خارجہ طلب کیا گیا اور انہیں پاکستانی عوام کے جذبات اور شدید تحفظات سے آگاہ کیا گیا۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق ’ناروے کے شہر کرسٹین سینڈ میں قرآن کی بے حرمتی سے پاکستان سمیت دنیا بھر میں ایک ارب 30 کروڑ مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچی، آزادی اظہار کے نام پر ایسے اقدامات کو ہرگز جائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔‘
ترجمان کے مطابق ’پاکستان نے ناروے کی حکومت سے ذمہ داروں کو کٹہرے میں لانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مستقبل میں ایسے واقعات کو روکنے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔‘
دوسری جانب پاکستان نے ناروے کے حکام کو اپنے تحفظات سے آگاہ کرنے کے لیے دارالحکومت اوسلو میں اپنے سفیر کوضروری ہدایات بھی جاری کیں۔
اس واقعے کے خلاف دنیا بھرمیں مسلمان سراپا احتجاج ہیں اور انہوں نے قرآن مجید کی بے حرمتی کرنے والے افراد کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔
یاد رہے کہ ناروے کے شہر کرسٹین سینڈ میں میں 16 نومبر کو دائیں بازو کی اسلام مخالف تنظیم (سیان)کے کارکنوں نے ریلی نکالی جس میں قرآن پاک کی بے حرمتی کی گئی۔ اس موقع پر وہاں موجود الیاس نامی مسلمان شخص نے قرآن پاک کو جلانے والے تنظیم کے رہنما لارس تھورسن پر حملہ کر دیا۔
اس کے بعد پولیس نے لارس تھورسن اور الیاس کو موقع پر حراست میں لے لیا۔

