چین میں‌گدھے کی کھال سے دواؤں‌کی تیاری، گدھے دنیا بھر میں‌نایاب ہونیکا خدشہ

جرمن نشریاتی ادارے ڈی ڈبلیو پر شائع ہونیوالی ایک رپورٹ کے مطابق چین میں گدھے کی کھال سے ایک انتہائی مقبول روایتی دوا بنائی جاتی ہے۔ چین کی ایک ارب سے زائد کی بڑی آبادی میں اس دوا کی بڑھتی طلب سے دنیا میں گدھوں کی تعداد میں کمی پیدا کرنا شروع کر دی ہے۔

ایک تازہ رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں گدھے کی کھالیں جس طرح چین ایکسپورٹ کی جا رہی ہیں، اس تجارتی عمل سے اگلے پانچ برسوں میں دنیا بھر میں گدھوں کی نصف تعداد ختم ہو کر رہ جائے گی۔ سالانہ بنیاد پر چین میں دوا سازی کے لیے پچاس لاکھ گدھوں کی کھالیں استعمال کی جاتی ہیں۔

گدھوں کی نسل کو درپیش اس خطرے کے بارے میں خصوصی رپورٹ برطانوی تنظیم ڈونکی سینکچری (Donkey Sanctuary) نے مرتب کی ہے۔ اس تنظیم کے چیف ایگزیکٹو مائیک بیکر نے جمعرات اکیس نومبر کو رپورٹ پیش کرتے ہوئے چین میں گدھے کی کھالوں کے استعمال کو ناقابلِ قبول قرار دیا۔

گدھے کی کھال سے جیلیٹین حاصل کر کے جو دوا تیار کی جاتی ہے، اس کا نام ایجیاؤ ہے۔ یہ ایک جیل نما دوا ہے اور اس کا انتہائی وسیع استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ خصوصی دوا نزلہ زکام سے لے کر بڑھتی عمر کے اثرات کو سست کرنے میں استعمال کی جاتی ہے۔ اس دوا کو مقامی معالج بے پناہ فوائد کی حامل قرار دے کر اسے کئی امراض کے لیے تجویز کرتے ہیں۔

چین میں پائے جانے والی گدھوں کی تعداد سن 1992 میں ہی چھہتر فیصد کم ہو گئی تھی اور اس طرح وہاں یہ ایک ناپید ہونے والی جانوروں کی نسل خیال کی جاتی ہے۔ دوا سازی کے لیے چینی تاجر گدھے کی کھالیں ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکا سے امپورٹ کرتے ہیں۔ گزشتہ کئی برسوں میں چین میں گدھے کی کھالیں امپورٹ کرنا یا انہیں حاصل کر کے بیچنا ایک منافع بخش کاروبار بن چکا ہے۔

ڈونکی سینکچری کے مطابق اس وقت دنیا بھر میں موجود گدھوں کی تعداد چھیالیس ملین کے قریب ہے۔ اور جس طرح ان کی کھپت چین میں کی جا رہی ہے، یہ تعداد اگلے پانچ برسوں میں نصف ہونے کا قوی امکان ہے۔ رپورٹ کے مطابق فوری طور پر چینی حکومت ایجیاؤ کے استعمال کو کنٹرول تو نہیں کرے گی اور نہ ہی کھالیں امپورٹ کرنے پر کوئی پابندی لگائے گی۔

محققین کے مطابق گدھے کی کھالوں کے لیے کسی بھی گدھے کو انتہائی ظالمانہ انداز میں ہلاک کیا جاتا ہے۔ ان کے بدن کی آلائشوں کو کھلے عام تعفن پیدا کرنے کے لیے پھینک دیا جاتا ہے۔ محققین کا یہ بھی کہنا ہے کہ کھالیں حاصل کرنے کے بعد بسا اوقات بقیہ گوشت گلنے سڑنے کے لیے چھوڑ دیا جاتا ہے اور جو انسانی حیات کے ساتھ ماحول کے لیے انتہائی نقصان دہ ہوتا ہے۔

ریسرچرز کے مطابق اس وقت صحت مند گدھے بہت ہی کم ہیں اور عموماً گدھوں میں کوئی نہ کوئی مرض پایا جاتا ہے

یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ بسا اوقات غیر صحت مند گدھے کی کھال کو بھی دواسازی کے لیے استعمال کرنے سے گریز نہیں کیا جاتا اور ایجیاؤ کا استعمال مضر صحت بھی ہو سکتا ہے۔ ریسرچرز کے مطابق اس وقت صحت مند گدھے بہت ہی کم ہیں اور عموماً گدھوں میں کوئی نہ کوئی مرض پایا جاتا ہے اور یہ دوا سازی کے لیے بھی مناسب نہیں ہے۔

تاریخی اعتبار سے قدیمی ادوار میں ایجیاؤ نامی دوا صرف بادشاہوں کے لیے وقف ہوتی تھی اور اس خاص دوا کو درباری طبیب ہی تیار کرنے کی شاہی اجازت رکھتے تھے۔ آج کل ایجیاؤ چین کے ساحلی صوبوں جیانگ سُوژی جیانگ اور شںڈونگ میں خاص طور پر تیار کی جا رہی ہے۔ شنڈونگ صوبے کی ڈونگ کاؤنٹی سن 1723 سے ایجیاؤ دوا تیار کرنے کی شہرت رکھتی ہے۔

Leave a Reply

Translate »
%d bloggers like this: