پاکستانی زیر انتظام جموںکشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں ایک اورسرکاری گاڑی سے پولیس نے شراب برآمد کرتے ہوئے دو ملزمان کو گرفتار کرلیا ہے. ملزمان میںسے ایک محکمہ صحت کا ملازم ہے، جبکہ سرکاری گاڑی بھی ضبط کر لی گئی ہے.
مظفرآباد کے مقامی صحافیوں کے مطابق پولیس نے ساتھرا کے مقام پر ایک کارروائی کے دوران محکمہ صحت عامہ کی سرکاری گاڑی نمبر MDGP 153سے سات بوتل شراب برآمد کرتے ہوئے دو ملزمان کو گرفتار کیا ہے.
گرفتار ملزمان میںمحکمہ صحت کا ملازم احسن شاہ سکنہ شوکت لائن اور عبدالرحمان سکنہ کردلہ شامل ہیں.
مظفرآباد میںپولیس کی ایک ہفتے میںیہ دوسری کارروائی ہے جس میں سرکاری گاڑی سے شراب برآمد کرتے ہوئے ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے.
اس سے قبل چند روز پہلے بھی ایک کارروائی کے دوران ایک سرکاری گاڑی سے چھ بوتل شراب برآمد کرتے ہوئے دو سرکاری ملازمین (ڈرائیوروں) کو گرفتار کیا گیا تھا.
واضح رہے کہ پاکستانی زیر انتظام جموںکشمیر میںبھی آئین پاکستان کی روح کے مطابق شراب کی خرید و فروخت اور ترسیل پر پابندی عائد ہے. پاکستان میںاقلیتوںکو لائسنس کی بنیادی پر شراب حاصل کرنے اور استعمال کی اجازت ہے لیکن پاکستانی زیرانتظام جموںکشمیر میں مذہبی اقلیتوں کی ناہونے کے برابر تعداد کو بھی اس طرحکی کوئی اجازت حاصل نہیںہے.
یہی وجہ ہے کہ پاکستانی زیرانتظام جموںکشمیر میںغیر قانونی طور پر شراب کی ترسیل منشیات کی طرح ہی کی جاتی ہے. اس وجہ سے پنجاب کے مختلف شہروںمیںدیسی بھٹوںپر تیار کی گئی شراب اس خطے میںبڑی تعداد میںپہنچائی جاتی ہے اورایک بڑی تعداد اس کے استعمال کی وجہ سے طرحطرحکی بیماریوںکا شکار ہے.

