بھارت کی قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے)نے جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے سربراہ یاسین ملک اور دیگر علیحدگی پسند رہنماؤں، مسرت عالم ، شبیر شاہ اور آسیہ اندرابی کے خلاف شدت پسندوں کی مالی معاونت کے مقدمے میں این آئی اے کی خصوصی عدالت میں چارج شیٹ داخل کر دی ہے۔ عدالت نے این آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ ملزموں کو چارج شیٹ فراہم کریں ۔ساؤتھ ایشین وائر کے مطابق اس مقدمہ کی اگلی سماعت 7 نومبر کو ہوگی۔
یاسین ملک کی تنظیم جموں کشمیر لبریشن فرنٹ پر مرکزی حکومت نے پابندی عائد کی ہوئی ہے۔
ساؤتھ ایشین وائر کے مطابق ایجنسی نے ان پر الزام لگایا تھا کہ انہوں نے 2010 اور 2016 میں دہشت گردی کی کارروائیوں اور پتھراؤ کرنے کے لئے پاکستان سے مبینہ طور پر فنڈز وصول کیے ۔
یاسین ملک کو ریاستی پولیس نے ماہ فروری کی 22 تاریخ کو حراست میں لیکر پولیس تھانہ کوٹھی باغ میں مقید کردیا تھا۔ بعد ازاں 7 مارچ کو انہیں پی ایس اے کے تحت کوٹ بلوال جموں منتقل کیا گیا جہاں سے بعد ازاں انہیں 9 اپریل کو تہاڑ جیل دلی منتقل کیا گیا ۔
واضح رہے یاسین ملک نے 1994 میں عسکریت پسندی کو خیر باد کہا تھا جس کے بعد وہ سیاسی سطح پر سرگرم ہوگئے تھے۔ انہوں نے سابق وزرائے اعظم اٹل بہاری واجپئی اور منموہن سنگھ کے ساتھ مذاکرات بھی کئے۔ اس دوران انہیں امریکہ اور پاکستان جانے کی بھی اجازت دی گئی تھی جہاں وہ کئی ماہ تک مقیم رہے ۔
این آئی اے نے 2017 میں دہشت گردی کی مالی اعانت کے لئے بالترتیب میر واعظ عمر فاروق اور سید علی شاہ گیلانی کی سربراہی میں حریت کانفرنس کے دو دھڑوں سے تعلق رکھنے والے متعدد علیحدگی پسندوں کو گرفتار کیا تھا۔

