تحریر: نائلہ رفیق
سہ پہر زلزلے کے دو سخت جھٹکے سہنے کے بعد سبھی خوفزدہ سے تھے. ذرا سی آہٹ پہ یکدم اٹھ کے بیٹھ جاتے. مگر صبیحہ تو ایک لمحے کو سکوں سے نہیں لیٹی. وہ بار بار مڑ کر ساتھ لیٹی ماں کو دیکھتی پھر جیسے کسی سوال کو حلق میں دھکیل کر ڈھیلی پڑ جاتی.
شریفو بیٹی کی بے چینی دیکھ رہی تھی. جانتی تھی کہ وہ حساس ہے. ذرا سی بات پہ گھنٹوں سوچتی رہتی ہے. اس کی شٹاپو کھیلتی بیٹی کا ایک پاؤں لڑکپن کے چو خانے میں تھا اور دوسرا جوانی کے.
اس کی مسلسل کروٹوں سے تنگ آ کر شریفو نے پوچھ ہی لیا کہ زلزلے کا ایسا بھی کیا خوف کونسا پہلی بار آیا. ماں کی آواز سے حوصلہ ملتے ہی اس کی جبراً روکی گئی آواز حلق کے زنداں سے لپک کر نکلی
“ماں”!
جی میری بچی
اگر زلزلے میں ہمارا گھر گر جائے
اللہ نہ کرے پتر
ماں بتا ناں… اگر گر جائے اور ہم دب جائیں . تو ہمارے کپڑے پھٹ جائیں گے؟
شاید
شاید نہیں ماں پکا بتا
ہاں پتر پھٹ جائیں گے
بالکل؟
شا….. ہاں بالکل
جو لوگ ہمیں نکالیں گے انہیں پتہ تو نہ چلے گا کہ دبنے سے پھٹ گئے یا پہلے سے پھٹے تھے؟
ارے نہ پتر کہاں پتہ چلنا…. دبنے والوں کے فوٹو نئیں دیکھے؟ ان کی تو شکلیں نئیں پہچانی جاتیں کپڑوں کا کیا پتہ چلنا.
اچھااااااا؟؟؟؟؟ اچھا ماں
صبیحہ کا چہرہ کھل اٹھا. دونوں ہاتھوں کے کرے میں بھنچی قمیض کے چرمرائے دامن کو جھٹک کر ٹانگوں پہ پھیلاتے اس نے بے چینی کو بھی جھٹک دیا. چند ہی لمحات میں وہ گہری نیند کی گھاٹیوں میں اتر گئی.
شریفو نے اس کی قمیض کے سوراخوں سے دیکھا. شلوار کے گھٹنے پہ لگی گرہ کھل جانے سے کپڑے میں تازہ سلوٹوں کا پھول سا بن گیا تھا……. غربت کے کانٹوں نے اس میں چھید کر رکھا تھا.

