Site icon Daily Mujadala

راولپنڈی میں فوجی طیارہ آبادی پر گر کر تباہ، کم از کم 18 افراد ہلاک، 12 زخمی ہو گئے

راولپنڈی میں پیر اور منگل کی شب فوجی طیارے کے حادثے میں کم از کم 18 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

ہلاک شدگان میں پانچ فوجی اور 13 شہری شامل ہیں جبکہ 12 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق آرمی ایوی ایشن کا ایک چھوٹا طیارہ معمول کی پرواز کے دوران راولپنڈی کے علاقے موہڑہ کاہلو میں حادثے کا شکار ہوا۔

کنگ ایئر 350 طیارہ جو عموماً ریکی یا مسافروں کی منتقلی کے لیے استعمال ہوتا ہے، رات دو بجے کے قریب اس علاقے میں واقع مکانات پر گرا جس سے اس پر سوار دو پائلٹوں لیفٹننٹ کرنل ثاقب اور لیفٹننٹ کرنل وسیم کے علاوہ نائب صوبیدار افضل، حوالدار ابن امین اور حوالدار رحمت ہلاک ہو گئے۔

طیارہ گرنے سے متعدد مکانات میں بھی آگ لگ گئی اور اب تک ضلعی انتظامیہ کے مطابق اس حادثے میں 13 شہریوں کی ہلاکت کی تصدیق کی جا چکی ہے جن میں سات خواتین اور ایک بچہ بھی شامل ہیں۔

حادثے کے بعد پاکستانی فوج اور ریسکیو 1122 کے عملے نے جائے حادثہ پر پہنچ کر امدادی کارروائیاں کیں اور وہاں لگنے والی آگ بجھائی۔

حادثے میں زخمی ہونے والے افراد کو کمبائنڈ ملٹری ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ راولپنڈی کے ڈپٹی کمشنر نے منگل کی صبح ہسپتالوں کا دورہ کیا اور اس موقع پر ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بتایا کہ شہر کے تینوں بڑے ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔

طیارہ جن مکانات پر گرا ان میں یامین کا مکان بھی شامل تھا اور وہ خود بھی حادثے کے وقت وہیں موجود تھے۔ انھوں نے بی بی سی اردو کی فرحت جاوید کو بتایا کہ ’دو بجے کا وقت تھا۔ ہوش نہیں تھا، پتا ہی نہیں تھا کہ کیا ہو رہا ہے۔ ایک دم بندہ نیند سے اٹھے تو کچھ سمجھ بھی نہ آتا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنے مکان کی پہلی منزل پر موجود تھے کہ ایک زوردار آواز آئی اور پھر پیٹرول پھیل گیا اور آگ بھڑک اٹھی۔

’ایک دم اٹھا ہوں، بیگم کو اٹھایا، بچی کو کھڑکی سے نکالا، پھر سیڑھیوں سے نیچے اترا اور والد اور والدہ کو آواز دی پھر انھیں دوسری جانب سے نکالا۔

یامین کے مطابق مکان کی نچلی منزل پر ان کے بھائی اپنی اہلیہ اپنے تین سالہ بیٹے کے ہمراہ سوئے ہوئے تھے جو اس حادثے میں مارے گئے۔

’بھائی، بھابی اور ان کا تین سال کا بچہ تھا وہ نہیں رہے، راکھ ہو گئے وہ بالکل۔ ان کی کھڑکی بھی بند تھی اور دروازہ بھی۔ بڑی کوشش کی انھیں نکالنے کی لیکن وہ جل گئے، خاک ہو گئے۔ کچھ بھی نہیں بچا۔‘

حادثے کی خبر آتے ہی سوشل میڈیا پر #BahriaTown اور #planecrash کے ہیش ٹیگ ٹرینڈ کرنے لگے اور متعدد افراد نے تصاویر اور ویڈیوز شئیر کیں جس میں مبینہ طور پر گرنے والی جہاز کی پرواز اور اس کے گرنے کے مناظر نظر آ رہے ہیں۔

بعض افراد نے گرنے والے جہاز میں لگی ہوئی آگ کی تصاویر اپنے گھروں کی چھتوں سے کھینچ کر سوشل میڈیا پر شائع کیں۔

یاد رہے کہ یہ پہلی بار نہیں کہ وفاقی دارالحکومت کی حدود میں کوئی طیارہ آبادی پر گر کر تباہ ہوا ہو۔

اس سے قبل 20 اپریل 2012 کو نجی ایئر لائن بھوجا ایئر کی کراچی سے اسلام آباد آنے والی پرواز راولپنڈی کے گاؤں حسین آباد کے قریب گر کر تباہ ہوئی تھی۔ اس حادثے میں 127 افراد ہلاک ہوئے تاہم زمین پر کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔

Exit mobile version