بولان ، جعفر ایکسپریس پٹڑی سے اتر گئی،20جاں بحق،120سے زائد زخمی، انجمن، 5بوگیاں تباہ تعمیراتی کام کی بندش کیخلاف انجمن تاجران نے پرتشدد احتجاج کی دھمکی،22نومبر کی ڈیڈ لائن دیدی عالمی منڈی میں کمی کے باوجود حکومت نے پٹرولیم قیمتوں میں اضافہ کر دیا محکمہ برقیات کی نااہلی، حلقہ چار پونچھ میں برقی لائنیں زندگیوں کیلئے خطرناک صابر شہید سٹیڈیم میں بین الاضلاعی انٹر بورڈ چمپئن شپ کی اختتامی تقریب کا انعقاد باغ، سادات محلہ میں خوفناک آتشزدگی، دو مکانات خاکستر، لاکھوں روپے کا نقصان مسلم لیگ âنáکے راجہ فاروق حیدر نے 38 ووٹ لے کردو تہائی اکثریت سے قانون ساز اسمبلی کے بارہویں قائد ایوان کا منصب حاصل کرلیا۔ آزاد جموں و کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کا اجلاس نومنتخب اسپیکر شاہ غلام قادر کی زیر صدارت ہوا جس میں ریاست کے نئے وزیر اعظم کا چنائو کیا گیا۔ اسمبلی میں قائد ایوان کے لیے مسلم لیگâنáکے فاروق حیدر، پیپلزپارٹی کے چوہدری یاسین اور تحریک انصاف کے غلام محی الدین مدمقابل تھے تاہم مسلم لیگ âنáکے راجہ فاروق حیدر نے 48میں سے38 ووٹس کے ساتھ واضح اکثریت حاصل کی اور آزاد کشمیر کے نئے وزیراعظم منتخب ہوگئے۔ پیپلزپارٹی کے چوہدری یسین اور پی ٹی آئی کے محی الدین کو 5،5 ووٹ ملے۔ 49 نشستوں کے ایوان میں âنáلیگ 36 نشستوں کے ساتھ سب سے بڑی جماعت ہے۔ اس کے علاوہ پیپلز پارٹی کی 4، مسلم کانفرنس کی 3، تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کی 2،2 جب کہ ایک آزاد رکن اسمبلی کا ممبر ہے، مسلم لیگâنáکو جماعت اسلامی، پیپلز پارٹی کو آزاد امیدوار جب کہ تحریک انصاف کو مسلم کانفرنس کی بھی حمایت حاصل تھی۔

تازہ خبریں

پھر اکتوبر، پھر تباہی، تاویلیں بھی وہی

100لفظوں کی کہانیوں میں بہت تھوڑا لکھ کر بہت زیادہ کچھ بیان کر دیا جاتا ہے، ایسی ہی ایک کہانی حالیہ چھبیس اکتوبر کے تباہ کن زلزلہ کے بعد کسی لکھاری کے دماغ سے نکلی، کہانی نگار لکھتا ہے کہ ٹھیکیدار نے سکول تعمیر کرنے کا ٹھیکہ لیا، ناقص تعمیرات کرکے ڈھیروں مال بنایا، متعلقہ محکمہ جات نے اس کام کو درست قرار دینے کی رشوت حاصل کر لی، ٹھیکیدار نے حاصل کئے گئے ناجائز منافع سے اپنی زلزلہ پروف کوٹھی تیار کر لی، کچھ عرصہ بعد زلزلہ ہوا تو سکول کی عمارت گر گئی، کئی بچے عمارت کے نیچے دب کر جاں بحق کئی زخمی ہو گئے، دوسرے دن مسجد میں مولانا صاحب وعظ فرماتے ہوئے کہتے ہیں کہ زلزلے اور دیگر آفات خدا کی طرف سے آزمائش اور عذاب ہیں جو ہمارے اعمال کا نتیجہ ہیں، سامنے بیٹھا ٹھیکیدار بے شک بے شک کا ورد کئے جا رہا تھا۔ چھبیس اکتوبر کے زلزلہ نے دبئی سے ہندوستان تک کی زمین کو ہلا کر رکھ دیا، سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ براعظم ایشیاء اور افریقہ کی پلیٹیں آپس میں ٹکرا رہی ہیں، جس کی وجہ سے ہندوستان کچھ ملی میٹر کے حساب سے سالانہ کم ہو رہا ہے، شاید یہ بہت سوں کیلئے بہت خوشی کی خبر بھی ہو لیکن گھٹائی کا یہ سلسلہ اتنا کم ہے کہ آنیوالے ہزاروں سال تک بھی یہ گھٹائی نظر نہیں آنیوالی، لیکن اس میں فکر و اندیشے والی بات یہ بتائی جاتی ہے کہ ہندوستان، پاکستان ، افغانستان کی بارڈر پر واقع یہ فالٹ لائن جو کوہ ہمالیہ سے ہندو کش کے درمیان واقع ہے، فالٹ لائن انتہائی پیچیدہ صورتحال اختیار کر چکی ہے جس کی وجہ سے زلزلوں کا یہ سلسلہ لگاتار جاری رہے گا، برطانوی خبر رساں ایجنسی کی ایک رپورٹ کے مطابق ان زلزلوں کی بڑی وجوہات میں ایک وجہ ماحولیاتی آلودگی کا بڑھتا ہوا سلسلہ اور اس کے تدارک کیلئے اقدامات کا نہ ہونے کے برابر ہونا بھی ہے، ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ہمالیائی فالٹ لائن کے نزدیک ترین علاقوں میں ہونیوالے زلزلوں کی گہرائی ایک سو سے دوسو کلومیٹر تک ہونے کی وجہ سے زمین کی اوپری سطح کم ہلتی ہے جسکی وجہ سے وقتی ظاہری نقصانات کم ہوتے ہیں، یعنی انسانی جانوں کے ضیاں اور تعمیرات کے منہدم ہونے کے امکانات بہت کم ہوتے ہیں، لیکن فالٹ لائن سے 100یا اس سے زیادہ کلومیٹر کے فاصلے پر آنیوالے زلزلوں کی گہرائی انتہائی کم ہوتی ہے جس کی وجہ سے زمین کی اوپری سطح زیادہ ہلتی ہے اور ظاہری نقصانات بھی بہت زیادہ ہوتے ہیں، اس کی ایک مثال حال ہی میں نیپال میں ہونیوالا زلزلہ ہے جو زمین سے محض چھ سے آٹھ کلومیٹر گہرائی میں تھا اور ریکٹر سکیل پر اسکی شدت7.8بتائی گئی تھی، جبکہ 2005میں کشمیر میں آنیوالا زلزلہ فالٹ لائن سے تین سو کلومیٹر دور اور محض چھبیس کلومیٹر گہرائی میں وقوع پذیر ہوا جس کی ریکٹر سکیل پر شدت7.6بتائی گئی تھی لیکن نیپال سے بھی زیادہ نقصان کشمیر میں اس لئے ہوا کہ یہ زلزلہ فالٹ لائن سے تین سو کلومیٹر دور ہوا، جبکہ نیپال کا زلزلہ ایک سو کلومیٹر کے فاصلہ پر ہوا تھا، زلزلوں کا یہ سلسلہ زمین کی طرح کے اور دیگر کئی سیاروں پر بھی جاری رہتا ہے، زمین پر بھی ہر سال 7.0شدت کے دو سے تین زلزلے ہوتے رہتے ہیں، لیکن نقصانات انکی گہرائی اور فالٹ لائن سے فاصلے کی نسبت سے کم یا زیادہ ہوتے ہیں،دیگر سیاروں اور سیارچوں پر ہونیوالے زلزلے اس سے بھی زیادہ شدت کے ہوتے ہیں اور حالیہ سائنسی تحقیق کے مطابق زمین جیسے کئی اور دیگر سیارے ابھی اس کائنات کا حصہ بن سکتے ہیں یا پھر حصہ ہوتے ہوئے دریافت نہیں ہو سکے ہیں۔ اس ساری کتھا کے بیان کئے جانے کا مقصد کہیں بھی یہ ثابت کرنا نہیں کہ زلزلے کے رونما ہونے کے حوالے پائی جانیوالی مذہبی یا دیگر آراء کو درست کیاجائے، کیوں کہ آراء کے درست یا غلط ہو جانے سے زلزلوں سے ہونیوالے نقصانات کا ازالہ بھی ممکن نہیں اور نہ ہی ان زلزلوں کو روکا جا سکتا ہے، البتہ اتنا ضرور ہو سکتا ہے کہ نقصان کے بعد ان ذمہ داران کی عوامی سطح پر آگاہی ہو سکتی ہے کہ جو زلزلوں کی وجوہات اور حالات کو بھانپتے ہوئے بھی نقصانات کم کرنے کیلئے اقدامات کیوں نہیں کئے جا سکے اور کیا عمل کرتے ہوئے یہ اقدامات کئے جا سکتے ہیں۔ قدرتی آفات اور جنگیں جہاں انسانی نفسیات پر خوفناک اثرات مرتب کرتے ہیں، انفراسٹرکچر کو تباہ و برباد کر تے ہوئے انسانی سماجوں کو اجاڑ کر رکھ دیتے ہیں وہاں یہ قدرتی آفات اور جنگیں خوفناک حد تک منافع بخش کاروبار کی شکل بھی اختیار کر جاتے ہیں، 2005ء کے کشمیر میں ہونیوالے تباہ کن زلزلے کے بعد تعمیر نو وبحالی کے نام پر ملنے والی بھیک سے بھی مختلف اور بھیانک اثرات مرتب ہوئے، ایک طرف اربوں ڈالرز پر مبنی بیرونی امداد کاروں کی فراہم کی گئی بھیک سے حکمرانوں کی تجوریاں بھری گئیں، ٹھیکیدار نوازے گئے، یا پھر ادارہ در ادارہ قائم کرتے ہوئے تعمیر نو و بحالی کے راگ الاپتے ہوئے آج دس سال بعد تعمیراتی کام اسی حالت میں موجود ہے جبکہ فنڈز کے ختم ہونے کے اعلانات کب کے کئے جا چکے ہیں، فنڈز ملنے کے وقت کے اعلانات کو اگر دیکھا جائے تو بیرونی امداد کاروں کی جانب سے ہی فراہم کردہ امداد سے آزادکشمیراور خیبرپختونخواہ کے شہر بالاکوٹ کو تعمیرات کا ایک نیا شاہکار بنانے کے دعوؤں سے بھرپور تھے، لیکن آزادکشمیر میں تو پھر بھی کہیں امداد ی رقم کے تیس سے پچاس فیصد تک خرچ ہونے کے آثار محکمہ جات کی بھرمار، لگژری گاڑیوں اور کچھ عمارتوں کی صورت ملتے ہیں، چہ جائیکہ اکثریتی تعمیر کردہ عمارتیں امدادکاروں نے براہ راست ہی تعمیر کروائیں، جو تعمیرات بالواسطہ بذریعہ محکمہ جات قائم کردہ حکومت پاکستان و آزادکشمیر ہونا تھیں انکی رفتار کچھوے کی رفتار سے بھی کم ہوتے ہوئے اب مکمل بریک لگ چکی ہے، دوسرے اثرات انسانی محرومیوں کو بیچنے والے غیر سرکاری اداروں کی جانب سے بیرونی امداد کاروں سے حاصل کردہ بھیک سے آگے بھیک دینے کے عمل سے انسانی زندگیوں پر مرتب ہوتے ہیں، جن کی واضح مثال ہم 2005ء کے زلزلہ کے بعد گاڑیوں کے پیچھے امدادی سامان حاصل کرنے کی دوڑ میں شامل لوگوں اور ان لوگوں کے درمیان ہونیوالے تصادموں سے لے سکتے ہیں، یا پھر جو گاؤں گاؤں، قصبہ قصبہ امدادی سامان فراہم کرنیکی خاطر فارم فروخت کرتے ہوئے تصویرکاری کرتے غیر سرکاری تنظیموں کے اہلکاران کی جانب سے پھیلائی گئی غلاظت و انسانی محرومی کے ناجائز استعمال سے ابھرنیوالی تصاویرکے رخ بھی ہیں اس سے اس چیز کو آسانی سے سمجھا جا سکتا ہے۔ ابھی ایک اور قدرتی آفت نے اس کرہ کی محروم و محکوم زندگیوں کو آلیا ہے، جس سے شاید ہی کسی سرمائے کے دھنی، کسی ٹھیکیدار، کسی ملک مالک، کسی جاگیردار، کسی چوہدری، کسی وڈیرے کے ڈیرے، دیوار یا کتے تک کو بھی متاثر کیا ہے لیکن سینکڑوں مطلوم و مجبور انسانوں کی زندگی بھر کی کمائی و محنت کو ضرور نیست و نابود کر دیا ہے، میڈیائی ، غیر سرکاری تنظیماتی و حکومتی کاروباریوں کو زلزلے کے نقصانات کا اتنا کم ہونا بہت ہی ناگوار گزرا ہے کیونکہ جس قدر توقع تھی اسقدر مال کمایا نہیں جا سکے گا، لیکن اگر ان سب بیوپاروں ، آفات و مظالم کا شکار ہونیوالوں کے شعوری ادراک اور انکے اس کھیل کو بے نقاب کرنے کیلئے میدان عمل میں آنے کی دیر ہے، ایک زلزلہ ایسا بھی ہوگا جو اس بکھیڑے کے الجھاؤ میں لوٹ مار کرنیوالوں اور دکھوں اور تکلیفوں کے ذمہ داروں کو انکے تحفظ کنندہ کے ہمراہ نیست و نابود کر دے گا۔

مگر صاحب مکھی اڑ رہی ہے

حاضری دینے جا رہے ہیں اور ان کے پیچھے مسلح افواج کی ہائی کمان چل رہی ہے ۔ نریندر مودی انڈیا کے وزیرِ اعظم کم اور فیصل آباد کا گھنٹہ گھر زیادہ ہیں۔ یہ ممکن ہی نہیں کہ اہم انتظامی فیصلے کی کوئی فائل پردھان منتری بھون چھوئے بغیر بالا بالا گذر جائے اور مودی جی کو کانوں کان خبر نہ ہو۔

اورجانیے

کھوتے وزیر رکھنے کی ابتدا کب ہوئی

ابک بادشاہ نے اپنے بہنوئی کی سفارش پر ایک شخص کو موسمیات کا وزیر لگا دیا۔ ایک روز بادشاہ شکار پر جانے لگا تو روانگی سے قبل اپنے وزیر موسمیات سے موسم کا حال پوچھا ۔وزیر نے کہا کہ موسم بہت اچھا ہے اور اگلے کئی روز تک اسی طرح رہے گا۔ بارش وغیرہ کا قطعاً کوئی امکان نہیں۔ بادشاہ اپنے

اورجانیے

شاہراہ غازی ملت لینڈ سلائیڈنگ کے باعث مکمل بند

سلائیڈنگ کے باعث ٹریفک کےلئے مکمل طور پر بند ہو چکی ہے، محکمہ شاہرات کا عملہ لینڈ سلائیڈنگ سے متاثرہ شاہراہ کو کھولنے کے عمل میں مصروف ہے، لیکن محکمہ کے ذمہ داران کے مطابق شاہراہ کو کھولنے میں تین سے چار روز لگ سکتے ہیں، گزشتہ روز افسر مارکیٹ کے نزدیک بھاری لینڈ سلائیڈنگ کے باع

اورجانیے