پاکستان میں خوراک کی پیداوار نہیں حفاظت بڑا چیلنج ہے، شرکاء ورکشاپ جامعہ پونچھ

جامعہ پونچھ راولاکوٹ کی فیکلٹی آف ایگریکلچر کے شعبہ فوڈ سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی کے زیر اہتمام ”پھلوں کو محفوظ و غزائی مصنوعات کی تیاری کے طریقے“پرایک روزہ ورکشاپ میں شرکاء کو پھلوں کو محفوظ بنانے اور دیگر مصنوعات کی تیاری کے مختلف مراحل سے آگاہی کے ساتھ اس کی عملی تربیت بھی دی گئی۔ ورکشاپ کے مہمان خصوصی وائس چانسلر پروفیسر Emeritus ڈاکٹر محمد رسول جان (پرائیڈ آف پرفارمنس،ستارہ امتیاز)جبکہ صدارت ڈین فیکلٹی آف ایگریکلچر پروفیسر ڈاکٹر عبد الحمید نے کی۔ورکشاپ کے ریسورس پرسن ممتاز سکالر اور قراقرم انٹر نیشنل یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر سرتاج علی تھے۔

اس موقع پر وائس چانسلر نے اپنے خطاب میں کہا کہ شرکاء کی جانب سے جو سوالات اٹھائے گئے ہیں ہم نے ان پر پہلے سے ہی کام شروع کر رکھا ہے ہم اپنی زمہ داریوں کی ادائیگی کیلئے ہر ممکن کو شش کر رہے ہیں اور کسانوں اورکمیونٹی کیدوسرے افراد کی محکمہ زراعت کے تعاون سے ہر ممکن معاونت کرینگے۔انھوں نے کہا کہ زرعی اعتبار سے یہ سرزمین سونا اگلنے کے قابل ہے ہم کو شش کررہے ہیں کہ ہم اس کو سونا اگلنے کے قابل بنا سکیں۔ کسانوں کو اگر یقین ہو کہ زمینوں سے ہمارا گزارا ہو سکتا ہے تو وہ اسی صورت میں اس جانب مائل ہو نگے ہم انشاء اللہ ان کی امیدوں پر پورا اتریں گے۔ دریں اثنا ء ڈین فیکلٹی آف ایگریکلچر پروفیسر ڈاکٹر عبد الحمید نے کہا کہ آج کی ورکشاپ ایگریکلچر فیکلٹی میں منعقدہ عالمی کانفرنس کا ہی تسلسل ہے۔ہم زراعت کے فروغ کیلئے وسیع پیمانے پر کوششیں کررہے ہیں اسی مقصد کیلئے ہم نے ملک بھر اور بیرون ملک سے بھی سائنسدانوں کو یہاں بلایا تا کہ ان کے تجربات سے استفادہ کر کہ زراعت کو جدید خطوط پر استوار کیا جا سکے۔ہم نے کانفرنس کی سفارشات تیار کی ہیں اور حکومت کو بھی کہا کہ ان سفارشات کی روشنی میں قانون سازئی کی جا ئے جس کے زراعت پر دورر س اثرات مرتب ہو نگے۔ہم اس مقصد کیلئے کام کرنے والے اداروں کے درمیان تعاون کو فروغ دینگے تاکہ بہتر نتائج سامنے آ سکیں۔انھوں نے کہا کہ جامعہ پونچھ کی فیکلٹی آف ایگریکلچر کے زراعت کے شعبہ میں گراں قدر خدمات ہیں ہم اس میں مذید بہتری کی جانب کو شاں ہیں۔ہم تمام متعلقہ شعبوں کی کوششوں کو یکجا کر کہ آ گے بڑھنا چاہتے ہیں۔اور باہمی تعاون کو فروغ دینگے جس کے بہتر نتائج سامنے آ ئیں گے۔انھوں نے ورکشاپ کے انعققاد میں تعاون پر محکمہ زراعت کے اعلی حکام،سول سوسائٹی کے سرکردہ افرادکا شکریہ ادا کیا۔ورکشاپ کے ریسورس پرسن ڈاکٹر سرتاج علی نے شرکاء کو پھلوں کو محفوظ بنانے اور دیگر مصنوعات کی تیاری کے مختلف مراحل پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ انھوں نے ملٹی میڈیا کی مدد سے مصنوعات کی تیاری کے مختلف مراحل کی وضاحت کی۔
ورکشاپ میں جامعہ پونچھ کے فیکلٹی ممبران،طلبہ،کسانوں،محکمہ زراعت راولاکوٹ کے ڈپٹی ڈائریکٹر عامر ملک،محکمہ زراعت باغ کے ڈپٹی ڈائریکٹر سردار زرین،سوشل ریفارمز کونسل راولاکوٹ کے صدر عبد الخالق ایڈووکیٹ،پروفیسر خضر اور صحافیوں سمیت معاشرے کے مختلف شعبوں سے وابستہ افراد نے شرکت کی۔

ریسورس پرسن ڈاکٹر سرتاج علی نے پھلوں کو محفوظ بنانے اور مصنوعات کی تیاری کے مراحل کے ساتھ ساتھ شرکاء کے سوالوں کے جواب بھی دیئے۔ورکشاپ کے دوسرے سیشن میں مصنوعات کی تیاری اور محفوظ بنانے کے طریقوں کی عملی تربیت بھی دی گئی۔ڈاکٹر سرتاج علی نے شرکاء کو خوبانی کو خشک کرنے کے طریقہ کار،پھل کی چنائی،سلفر کا دھواں لگانا،پھلوں سے ”جیم بنانے کا طریقہ کار،فارمولہ،آلو بخارے کی چٹنی،پھلوں سے رس نکالنا،ٹماٹر کی چٹنی کے اجزائے ترکیبی،پھلوں کا ملا جلا آچار اور اس کے اجزائے ترکیبی اور دیگر طریقہ کار سے متعلق تفصیل سے بتایا۔اس موقع پر انھوں نے کہا کہ خوراک انسانی کا انتہائی اہم اور بنیادی جزو ہے اس وقت دنیا کیلئے سب سے بڑا چیلنج خوراک کو محفوظ بنانا ہے۔پاکستان میں خوراک کی پیداوار کی کمی نہیں لیکن اس پیداوار کی سیفٹی بڑا مسلہ اور چیلنج ہے۔انسانی جسم میں غذا کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔پھل اور سبزیاں اللہ کی نعمتیں ہیں جن کے محفوظ استعمال سے انسانی صحت کو بھی بہتر بنایا جا سکتا ہے۔پھل اور سبزیوں کا استعمال انسانی جسم کی تعمیر اور اسے تندرست اور توانا بنانے کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔متوازن خوراک تندرستی کیساتھ بیماریوں کی روک تھام کیلئے بھی بہت ضروری ہے۔انھوں نے کہا کہ پھلوں کا استعمال عمر اور وقت کے حساب سے بھی کیا جانا ضروری ہے۔انھوں نے کسانوں پر زور دیا کہ وہ پھلوں اور سبزیوں کیلئے علاقے کی موزونیت کا بھی خاص خیال رکھیں۔جو ماحول جس سبزی یا پھل کیلئے موزوں ہو وہی کاشت کیا جائے تو اس کے بہت ہی اچھے نتائج سامنے آ ئیں گے۔انھوں نے پھلوں کی محفوظ بنانے کے حوالے سے بتایا کہ پھل اتارتے وقت یہ بات آپ کے پیش نظر ہونی چاہیے کہ آپ ایک زندہ چیز کی حفاظت اور اس کی لائف بڑھانے سے متعلق کام کر رہے ہیں اور اس عمل بے احتیاطی اس زندگی پر اثر انداز ہوسکتی ہے اور اس کی کارآمد لائف متاثر ہو سکتی ہے یا کم ہو سکتی ہے۔پھلوں یا سبزیوں کے زخمی ہونے پر جراثیم حملہ آ ور ہو جاتے ہیں اس لئے پھلوں کو محفوظ بناتے وقت اس بات کا خاص خیال رکھنا ہو گا کہ ان کو نہایت احتیاط سے اتارا جائے جتنی زیادہ حفاظت ہو گی اتنی اس کی لائف اور قیمت بھی بڑھے گی۔اس موقع پر انھوں نے پھلوں کی مارکیٹنگ اور انھیں اچھی حالت میں مارکیٹ تک پہچانے کے طریقہ کار پر بھی بات کی انھوں نے کہا کہ دنیا میں پھلوں کو محفوظ بنانے کیلئے نت نئے طریقے آ گئے ہیں لیکن ہم نے اپنے وسائل اور ٹیکنالوجی کو ملحوظ خاطر رکھ کر ہی بات کرنا ہو گی۔اس موقع پر انھوں نے شرکاء کے مختلف سوالوں کے جوابات بھی دیئے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں