جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کا ”آزادی لانگ مارچ “کل سات ستمبر کو راولاکوٹ سے روانہ ہوگا، ہزاروں کی شرکت متوقع

جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کا ”آزادی لانگ مارچ “ سات ستمبر کو راولاکوٹ سے تیتری نوٹ کی جانب روانہ ہو گا۔ ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن راولاکوٹ، جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن، نیشنل عوامی پارٹی ، سروراجیہ انقلابی پارٹی ، انجمن تاجران کے دونوں دھڑوں سمیت دیگر سیاسی، سماجی تنظیموں و شخصیات نے بھی آزادی لانگ مارچ میں شرکت کا بھرپوراعلان کر دیا ہے، گزشتہ روز ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن راولاکوٹ کے اجلاس میں چیئرمین لبریشن فرنٹ سردار محمد صغیر خان نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی اور بار ممبران کو ”آزادی لانگ مارچ“ میں شرکت کی باضابطہ دعوت دی اور اپنے پروگرام اور مطالبات سے آگاہ کیا، بار ممبران نے متفقہ طور پر مارچ کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے بھرپور شرکت کا اعلان کیا۔

چئیرمین جموں کشمیر لبریشن فرنٹ سردار محمد صغیر خان ایڈووکیٹ کا کنٹرول لائن کی طرف آزادی لانگ مارچ کے حوالے سے ویڈیو پیغام

Posted by Daily Mujadala on Thursday, September 5, 2019

چیئرمین جموں کشمیر لبریشن فرنٹ سردار محمد صغیر خان ایڈووکیٹ نے مارچ کے شیڈول کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سات ستمبر کو دن بارہ بجے راولاکوٹ شہر سے قافلے ہجیرہ، تیتری نوٹ کےلئے روانہ ہونگے، بارہ بجے سے دو بجے تک تاجران شٹر ڈاﺅن کر کے شرکاءمارچ کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کریں گے، تاجروں کے عہدیداران اور ممبران لانگ مارچ کا حصہ بھی ہونگے، انہوں نے کہا کہ باغ، مظفرآباد اور دیگر علاقوں سے قافلے راولاکوٹ جمع ہونگے، جبکہ میرپور ڈویژن سے قافلے براستہ کوٹلی کنٹرول لائن کی طرف روانہ ہونگے۔

سردار محمد صغیر خان کا کہنا تھا کہ تیتری نوٹ کراسنگ پوائنٹ پر احتجاجی دھرنا دیا جائے گا جو غیر معینہ مدت تک ہو گا۔ احتجاجی دھرنا میں بھارتی مقبوضہ کشمیر میں کرفیو، فوجی جبر اور غلامی کے خلاف سینہ سپر کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا جائے گا،کنٹرول لائن پر فائرنگ کے متاثرین سے اظہار یکجہتی کیا جائے گا، فائرنگ فوری بند کئے جانے کا مطالبہ کیا جائے گا، اس کے علاوہ غیر ملکی افواج کے جموں کشمیر سے مکمل انخلاءکے مطالبہ سمیت دیگر مطالبات کے گرد احتجاجی دھرنا دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ مارچ مکمل طور پر پر امن رہے گا، کنٹرول لائن کراس کرنے سمیت کسی بھی مہم جوئی کا ارتکاب نہیں کیا جائے گا، لیکن تیتری نوٹ کراسنگ پوائنٹ پر دھرنا دینے سے اگر انتظامیہ یا ریاست کی جانب سے روکا گیا تو اسکی مزاحمت کی جائے گی، اور حالات ذمہ اری انتظامیہ و ریاست کی ہو گی۔

انکا کہنا تھا کہ جموں کشمیر لبریشن فرنٹ نے تمام آزادی پسند اور ترقی پسند قوتوں سے مارچ میں بھرپور شرکت کی اپیل کی ہے، جو ہمارے پروگرام اور مطالبات سے اتفاق کرتے ہیں وہ اپنے جھنڈوں، بینرز اور پلے کارڈز سمیت اس لانگ مارچ میں شرکت کرتے ہوئے ایک مشترکہ پیغام دینے میں ہمارا ساتھ دیں، ہزاروں کی تعداد میں لبریشن فرنٹ کے کارکنان، دیگر ترقی پسند و آزاد پسند کارکنان کے علاوہ عام شہری و نوجوان اس لانگ مارچ کا حصہ بنیں گے، پورے پاکستان مقبوضہ جموں کشمیر میں رابطہ مہم عروج پر ہے۔ ہزاروں کے تعداد میں کارکنان، عام شہری اور نوجوان کنٹرول لائن پر پہنچ کر نہ صرف بھارتی مقبوضہ کشمیر کے مظلوم و محکوم عوام اور کنٹرول لائن کے متاثرین کے ساتھ اظہار یکجہتی کرینگے بلکہ غیر ملکی افواج کے جموں کشمیر سے انخلاءکا مطالبہ کرتے ہوئے کشمیر کی حقیقی آزادی کی صدائیں بھی بلند کریں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں