حویلی:گھاس کاٹتے ہوئے لاپتہ ہونیوالے دو نوجوانوں کو بھارت نے دہشت گرد قرار دیدیا

12دن قبل کنٹرول لائن حویلی سے گھاس کاٹتے ہوئے لاپتہ ہونے والے دو کسان نوجوانوں خلیل احمد اور نظیم کھوکھر کو بھارت نے دہشت گرد قرار دیکر بڑی کارروائی کا دعویٰ کر تے ہوئے انکی گرفتاری ظاہر کر دی ہے۔

بھارتی نشریاتی ادارے ذی نیوز نے دونوں نوجوان کسانوں کی تصاویر جاری کرتے ہوئے یہ دعویٰ کیا ہے کہ بھارت نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک بڑی کامیابی حاصل کر لی ہے، بھارتی سکیورٹی ایجنسیوں نے حال ہی میں دو دہشت گردوں کو گرفتار کیا ہے جو پاکستانی شہری ہیں اور انہوں نے دوران تفتیش یہ قبول کیا ہے کہ اسلام آباد بھارتی یونین میں تشدد پھیلانے کےلئے خفیہ طریقے استعمال کرنے میں مصروف عمل ہے۔

بھارتی نشریاتی ادارے نے دونوں کسانوں کی گرفتاری کو بنیاد بنا کر یہ دعویٰ کیا ہے کہ دفعہ370کو غیر موثر کئے جانے کے بعد اسلام آباد معمولات زندگی کو برباد کرنے کےلئے دہشت گردوںکو استعمال کر رہا ہے۔ بھارتی ادارے نے دعویٰ کیا ہے کہ گرفتار دہشت گردوں خلیل احمد اور نظیم کھوکھر نے تسلیم کر لیا ہے کہ پاکستانی فوج نے انہیں عسکری تربیت دینے کے بعد جموں کشمیر میں بھارتی فورسز کو ٹارگت کرنے کےلئے ان سے دراندازی کروائی ہے۔

خلیل احمد اور نظیم کھوکھر کے حوالے سے یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ پاکستانی زیر انتظام کشمیر میں لشکر طیبہ کے کیمپوں میں دہشت گردوں کو بھیجا جا رہا ہے جہاں انہیں تربیت دی جا رہی ہے۔ پاکستان نے لشکر طیبہ کے سات دہشت گردوں پر مشتمل گروپ کو کشمیر بھیجا گیا تھا ، خلیل احمد اور نظیم کھوکھر بھی اسی گروپ کا حصہ تھے، گروپ میں تین افغان شہری بھی تھے۔

مذکورہ خبر کو ہی بنیاد بنا کر بھارتی نشریاتی ادارے نے پاکستان پر الزام عائد کیا ہے کہ پاکستان لمبے عرصے سے بھارت کے خلاف دہشت گردوں کو استعمال کر کے پراکسی وار میں ملوث ہے۔ پاکستانی فورسز کنٹرول لائن پر سیز فائر کی خلاف ورزی کرتے ہوئے دہشت گردوں کی در انداز ی کےلئے کور فائر دیتی ہیں۔ دہشت گرد گروپوں کی دوبارہ در اندازی جموں کشمیر کی مقامی آبادی کےلئے ایک ایک بڑا خطرہ بن رہی ہے۔

خلیل احمد اور نظیم کھوکھر 21اگست کو لاپتہ ہوئے
پاکستانی زیر انتظام کشمیر کے ضلع حویلی میں کنٹرول لائن کے قریب سے اکیس اگست کو دو نوجوان لاپتہ ہوئے تھے، اہل خانہ نے پولیس کو رپورٹ درج کرواتے ہوئے انکی بازیابی کی اپیل کر رکھی تھی۔ اہل خانہ نے خدشے کا اظہار بھی کیا تھا کہ دونوں نوجوان غلطی سے ایل او سی کے قریب چلے گئے ہوں جہاں سے بھارتی فوج نے انہیں گرفتار کر لیا ہو۔

خاندانی ذرائع کے مطابق 24سالہ نظیم کھوکھر اپنے ہم عمر کزن خلیل کیانی کے ساتھ بدھ کی صبح مویشیوں کےلئے گھاس لانے قریبی جنگل میں گئے تھے، دوپہر کے وقت تک واپس نہ لوٹے جس کے بعد اہل خانہ نے تلاش کرنا شروع کیا اور پھر پولیس کو اطلاع دی گئی، پولیس نے رپورٹ درج کر کے لاپتہ نوجوانوں کی تلاش جاری رکھی ہوئی تھی۔

برطانوی نشریاتی ادارے انڈی پینڈنٹ اردو نے مقامی صحافی ثروت سلطان کیانی کے حوالے سے لکھا تھا کہ یونین کونسل ہلاں کے گاﺅں ٹیڈا بن کے رہائشی دو نوجوان 21اگست کو ایل او سی کے قریبی علاقے بٹالن سے لاپتہ ہوئے تھے۔ ثروت کیانی کے مطابق یہ علاقہ بھارتی فوجی چوکیوں کے بالکل سامنے ہے ، حویلی کے مختلف علاقوںمیں سے غلطی سے ایل او سی عبور کر جانے کے واقعات ماضی میں پیش آتے رہے ہیں تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ بٹالن کے علاقے میں ا س طرح کا کوئی واقعہ اس سے قبل پیش نہیں آیا۔

لاپتہ نوجوانوں کے رشتہ دار ابرار کیانی نے برطانوی نشریاتی ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہم نہیں جانتے کہ ان کے ساتھ کیا ہوا۔ کوئی حادثہ پیش آیا، گولیوں کا نشانہ بن گئے یا پھر بھارتی فوج نے پکڑ لیا۔ بس ایک امید قائم ہے کہ انہیں گرفتار کر لیا ہو اور وہ زندہ ہوں۔

حویلی سے ہی تعلق رکھنے والے ایک اور صحافی راجہ ثاقب راٹھور نے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایل او سی کے بالکل سامنے موجود جنگل میں سے گھاس کاٹتے ہوئے بھارتی فوج نے انہیں گرفتار کیا اور یہ گرفتار بھارتی فوج کی جانب سے پاکستان پر الزام عائد کرنے کےلئے ایک سازش ہے۔ بھارتی فوج اور میڈیا نے حسب روایت معصوم نوجوانوں کو دہشت گرد قرار دیکر جموں کشمیرمیں جاری نوجوانوں کی اپنی تحریک کو پاکستانی سازش کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کی ہے۔

نوجوانوں کے اہل خانہ نے کہا ہے کہ دونوں نوجوان گھاس کاٹنے گھر سے نکلے تھے، انکا کسی قسم کی مسلح تنظیم سے کوئی تعلق کبھی نہیں رہا اور نہ ہی وہ کسی اسطرح کی سرگرمی میں ملوث نکلے، گھاس کاٹتے نوجوانوں کو گرفتار کر کے ان پر اس طرح کے الزامات لگانا قابل مذمت ہے۔ انہوں نے پاکستانی حکام سے اپیل کی کہ انکے بیٹوں کو بازیاب کروانے اور واپس لانے کےلئے اقدامات کئے جائیں۔ بھارتی سازش کو بے نقاب کیا جائے اور انہیں انصاف فراہم کرنے کےلئے اقدامات کئے جائیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں