جموں‌کشمیر کی موجودہ صورتحال پر این ایس ایف کا پمفلٹ جاری کردیا گیا

اپنے اپنے پرچم لے کر نکلو مل کر وار کرو!

برصغیر کی خونی تقسیم سے جنم لینے والا قضیہ اب ایک المیے کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ چار مختلف حصوں میں بھارت، پاکستان، چین میں تقسیم سابق شخصی ریاست جموں کشمیر میں بسنے والے پونے دو کروڑ انسانوں سے سیاسی، معاشی، جمہوری، شہری حقوق تو 72 سال پہلے ہی چھینے جا چکے تھے، لیکن سامراجی ممالک کے اپنے داخلی تضادات سے توجہ ہٹانے کےلئے اس مقبوضہ و مفتوحہ خطے کے مختلف حصوں میں کھیلا جانے والا کھیل اب اس خطے کو ایک ایسے پھوڑے کی مانند ڈھال چکا ہے کہ جہاں انسانیت سسک، تڑپ اور بلک رہی ہے۔

پانچ اگست 2019ءکو بی جے پی کی بھارتی حکومت نے اپنے زیر قبضہ جموں کشمیر کو وفاق کے زیر انتظام دو الگ الگ علاقوں میں تقسیم کرتے ہوئے وہاں کے باسیوں کو دستیاب انتہائی محدود جمہوری اور سیاسی آزادیاں بھی چھین لیں، یہاں تک کہ ایک متنازعہ خطے میں رائج قانون باشندہ ریاست بھی چھین لیا گیا، جو قانون اس علاقے کے باسیوں کے آبادیاتی اور جغرافیائی تحفظ کا ضامن تھا۔ اس قانون کی موجودگی میں کوئی بھی غیر ریاستی شخص اس خطے کی زمین یا وسائل کو نہیں ہتھیا سکتا تھا اور نہ ہی سرکاری نوکریوں اور تعلیمی اداروں میں کسی غیر ریاستی شخص کا کوئی حق تصور کیا جاتا تھا۔ نئی قانونی سازی کو بھارتی حکومت نے ”جموں کشمیر ری آرگنائزیشن بل “کے نام سے منسوب کیا۔ اور اس اقدام کےلئے مقبوضہ وادی، جموں اور لداخ کو عملاً جیل میں تبدیل کر دیا گیا، چار اگست کو نافذ ہونے والا کرفیو تادم تحریر بدستور برقرار ہے، انٹرنیٹ، لینڈ لائن ٹیلی فون، موبائل نیٹ ورک مکمل طور پر بند ہیں، پورے علاقے کی کوئی خبر باہر نہیں نکلنے دی جارہی ہے، جو کچھ خبریں عالمی میڈیا پر جاری ہو رہی ہیں وہ بھی کاروبار کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے مکمل داستان لکھنے سے محض اس لئے گریزاں ہیں کہ مرکزی دفتر اطلاعات سے منظور شدہ خبریں ہی صحافی اپنے اداروں کو بھیج سکتے ہیں۔ اس لئے جو کچھ میڈیا پر نظر آرہا ہے اصل صورتحال اس سے کہیں زیادہ بھیانک اور خوفناک ہے۔

بھارتی ریاست کی جانب سے ایک منظم پروپیگنڈہ کے ذریعے حقائق کو مسخ کرنےکی کوشش کی جا رہی ہے جبکہ بھارتی فوج مقبوضہ وادی میں دس سے بارہ سال کے بچوں سے لیکر عمر رسیدہ بزرگوں اور خواتین تک کو ٹارچر سیلوں میں بری طرح تشدد کا نشانہ بنانے میں مصروف ہیں۔ چھ ہزار سے زائد افراد کو کالے قوانین کے تحت گرفتار کیا جا چکا ہے۔ معاشی طور پر اس خطے کو مکمل مفلوج کر دیا گیا ہے، وادی کے لوگوں کے روزگار کا سب سے اہم ذریعہ وہاں کے پھل تھے جو مارکیٹوں میں نہ پہنچ سکنے کی وجہ سے گل سڑ گئے ہیں، ادویات، راشن اور روز مرہ ضروریات کی دیگر اشیاءناپید ہیں، اگر کہیں کچھ میسر بھی آئے تو خریدنے کےلئے کسی کے پاس رقم موجود نہیں ہے۔ لیکن آٹھ لاکھ فوج کی موجودگی ، مکمل لاک ڈاﺅن کے باوجود تحریک کا زور تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ نوجوان گلیوں، محلوں، دیہاتوں میں بھارتی ریاستی جبر کے خلاف سینہ سپر ہیں۔جموں ، لداخ کی خبریں عالمی میڈیا پر بھی نشر نہیں ہو رہی ہیں لیکن سٹیٹ سبجیکٹ قانون کے خاتمے کےخلاف غم و غصہ وہاں بھی اسی نوعیت سے موجود ہے۔ جموں کشمیر کی تاریخ میں پہلی بار تمام مقبوضہ حصوں میں مشترکہ جدوجہد کے سر اٹھانے کے مکمل امکانات موجود ہیں۔

دوسری طرف پاکستانی مقبوضہ جموں کشمیر و گلگت بلتستان میں بھی مختلف نوعیت کے ساتھ جبر و بربریت کا سلسلہ جاری ہے، گلگت بلتستان میں سیاسی قیدیوں کو نوے سے پچاس سال تک کی سزائیں سنائی گئی ہیں، سٹیٹ سبجیکٹ رول ختم کرتے ہوئے قیمتی اراضی اور معدنیات کی لوٹ مار جاری ہے۔ آئینی ، سیاسی، سماجی، جمہوری ، شہری و معاشی حقوق پر قدغنیں ، وسائل کی لوٹ مار، ماحول کی تباہی، بیروزگاری، لاعلاجی، جہالت اور فرسودگی کا راج ہے۔ رہی سہی کسر کنٹرول لائن پر پاک بھارت افواج کی فائرنگ سے کشمیریوں کے قتل عام ، املاک کی تباہی اور خوف و وحشت مسلط کر کے نکالی جا رہی ہیے۔

برصغیر پاک و ہند کے حکمران اپنی تاریخی تاخیر زدگی کے باعث اس خطے میں بسنے والے ڈیڑھ ارب سے زائد انسانوں کا کوئی ایک بنیادی مسئلہ بھی حل کرنے کے قابل نہیں ہیں، اسی لئے کشمیر سمیت دیگر تنازعات پرآپسی دشمنی کو ہوا دیکر داخلی تضادات سے توجہ ہٹانے اور لوٹ مار جاری رکھنے میں مصروف ہیں۔اقوام متحدہ سمیت دیگر عالمی ادارے سامراجی گماشتگی کا کردار ادا کر رہے ہیں، نام نہاد مسلم امہ کی قلعی بھی عربوں کی جانب سے مودی کو انعامات سے نوازے جانے کے بعد کھل کر سامنے آچکی ہے۔

ایسے میں جموں کشمیر ، گلگت بلتستان و لداخ میں بسنے والے انسانوں کے دکھوں اور تکالیف کی نجات کےلئے نوجوانوں، محنت کشوں اور طالبعلموں پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس خطے میں بسنے والے مظلوم و محکوم انسانوں کی حقیقی نجات کےلئے سیاسی میدان میں نکل آئیں۔ جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن یہ سمجھتی ہے کہ جموں کشمیر، گلگت بلتستان اور لداخ میں بسنے والے پونے دو کروڑ انسان مختلف قومیتوں میں تقسیم ہیں ،جن کی زبانیں، ثقافت، مذاہب اور مخصوص جغرافیائی حیثیت تاریخی طو رپر رہی ہے، مسئلہ کشمیر نے ان تمام قومیتوں کو ایک کشمیریت میں پرو دیا ہے ، یہی وجہ ہے انکی نجات کا راستہ بھی مشترکہ جدوجہد میں ہی پنہاں ہے، جسے برصغیر پاک و ہند کے محنت کشوں اور نوجوانوں کی جدوجہد کے ساتھ طبقاتی بنیادوں پر جوڑتے ہوئے اس خطے سے سرمایہ دارانہ حاکمیت کا خاتمہ کرتے ہوئے نہ صرف جموں کشمیر کی تمام قومیتوں بلکہ پورے برصغیر کی محکوم و مظلوم قومیتوں کی سیاسی و معاشی خودمختاری کو برقرار رکھتے ہوئے ایک سوشلسٹ فیڈریشن میں پرویا جا سکتا ہے جو نسل انسانی کی بقاءکی ضامن ہو۔

آئیے! غلامی، بربریت، بھوک، ننگ، جہالت، غربت، لاعلاجی اور استحصال کی ہر ایک شکل کے خاتمے کےلئے، ایک حقیقی انسانی آزادی کے حصول اور طبقات سے پاک معاشرے کے قیام کےلئے بلا رنگ ، نسل، مذہب تمام تر تعصبات اور تفریقوں سے بالاتر ہوکر سائنسی نظریات کو اپنائیں، مشترکہ جدوجہد کا آغاز کریں اور ایک آزاد اورحقیقی انسانی معاشرے کی بنیادیں رکھیں۔

چلے چلو کے اب ڈھیرے منزل پر ہی ڈالے جائیں گے۔


مطالبات و پروگرام
٭ قانون باشندہ ریاست کو تمام منقسم خطوں میں اپنی اصل حالت میں بحال کیا جائے۔
٭بھارتی مقبوضہ کشمیر سے کرفیو اور پابندیاں ختم کر کے کشمیریوں کو آزادانہ نقل و حرکت کے مواقع فراہم کئے جائیں۔
٭مسئلہ کشمیر سے جڑے تمام خطوں سے غیر ملکی افواج کا انخلاءکرتے ہوئے عوام کو مستقبل کے فیصلہ جات کا اختیار دیا جائے۔
٭ جموں کشمیر بشمول گلگت بلتستان اور لداخ میں آئینی و سیاسی کھلواڑ بند کرتے ہوئے آئین سازی اور حکومت سازی کا اختیار مقامی باشندوں کو دیا جائے۔
٭ تمام سیاسی قیدیوںکو فوری رہا کرتے ہوئے جموں کشمیر کے تمام حصوں سے سامراجی کالے قوانین کا فوری خاتمہ کیا جائے۔
٭کنٹرول لائن پر فائرنگ اور کشمیریوں کا قتل عام فوری بند کیا جائے۔ کشمیریوں کو آزادانہ آر پار سفر کی اجازت دی جائے۔
٭ نجکاری کا منصوبہ ترک کرتے ہوئے ملازم دشمن پالیسیاں ترک کی جائےں اور محنت کشوں کو ٹریڈ یونین کا حق دیا جائے۔
٭ جدید سائنسی تعلیم ہر سطح پر مفت فراہم کرتے ہوئے تمام نجی اداروں کو ریاستی تحویل میں لیا جائے ،نیز طلبہ کو یونین سازی کا حق دیا جائے۔
٭ صحت کی سہولیات مفت فراہم کرتے ہوئے نجی ہسپتالوں کو قومی تحویل میں لیا جائے اور صحت کے کاروبار پر مکمل پابندی عائد کی جائے۔
٭تمام بیروزگار افراد کو رجسٹرڈ کرتے ہوئے روزگار فراہم کیا جائے بصورت دیگر بیروزگاری الاﺅنس دیا جائے۔
٭محنت کشوں کی کم سے کم تنخواہ ایک تولہ سونے کے برابر کی جائے،کنٹریکٹ ملازمین کو مستقل کیا جائے اور چائلڈ لیبر کا خاتمہ کیا جائے۔
٭صنفی تفریق کا خاتمہ کرتے ہوئے خواتین کو ہر سطح پر آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کئے جائیں۔
٭جموں کشمیر میں پیدا ہونےوالی بجلی کشمیریوں کو مفت فراہم کی جائے، تمام ٹیکسز کا خاتمہ کرتے ہوئے سامراجی لوٹ مار بند کی جائے۔
٭سامراجی منصوبوں بشمول بجلی منصوبہ جات کے معاہدے منسوخ کرتے ہوئے از سر نو حقیقی عوامی نمائندوں کےساتھ معاہدے کئے جائیں۔
٭ بنیادی انفراسٹرکچر کی تعمیر کی جائے ، جدید سڑکوں، ریلوے ٹریکس ، پارکوں اور کھیل کے میدانوں کی تعمیر کی جائے۔
٭ ماحولیاتی تبدیلیوں کا موجب بننے والے تمام سامراجی و نجی منصوبوں کو ختم کرتے ہوئے ماحول دوست اقدامات کئے جائیں تاکہ خطے کے ماحول اور ایکو سسٹم کو محفوظ بنا کر جنگلی حیات اور زندگی کو لاحق خطرات کا تدارک کیا جا سکے۔
٭ تمام منقسم حصوں کے وسائل، ذرائع پیداوار بشمول بیرونی زر مبادلہ کا مکمل اختیار عوامی کمیٹیوں کی اشتراکی تحویل میں لئے جانے کی جدوجہد کرنا۔
٭ جموں کشمیر میں آبادتمام قومیتوں کے حق خودارادیت بشمول حق علیحدگی کو تسلیم کرتے ہوئے رضاکارانہ سوشلسٹ فیڈریشن کےلئے جدوجہد کرنا۔
٭آزادی کی جدوجہد کو طبقاتی بنیادوں پر پاکستان اور بھارت کے محنت کشوں کی تحریک کےساتھ جوڑتے ہوئے تمام محکوم و مظلوم قومیتوں کی سیاسی و معاشی خودمختاری کو برقرار رکھتے ہوئے رضاکارانہ سوشلسٹ فیڈریشن کے قیام کی جدوجہد کرنا۔
٭ دنیا بھر کے محنت کشوں اور محکوم قومیتوں کی جدوجہد کو جوڑتے ہوئے طبقات سے پاک انسانی سماج کے قیام کےلئے جدوجہد کرنا۔


شعبہ نشرو اشاعت: جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن(JKNSF)
مرکزی سیکرٹریٹ: سیکنڈ فلور ،گلف مارکیٹ راولاکوٹ، فون:0092-312-5085424، 0092-334-5025341

اپنا تبصرہ بھیجیں