کلبھوشن تک قونصلر رسائی : ’جادھو پر منفی بیانیہ دہرانے کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے‘

انڈیا کا کہنا ہے کہ پاکستان میں جاسوسی، دہشت گردی اور سبوتاژ کے الزامات کے تحت سزائے موت پانے والے اس کے شہری کلبھوشن جادھو پر منفی بیانیہ دہرانے کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔

انڈین وزارتِ خارجہ کے ترجمان کی جانب سے یہ بات انڈین سفارتکار کی اسلام آباد میں کلبھوشن جادھو سے ملاقات کے بعد کہی گئی ہے۔

وزارتِ خارجہ کے ترجمان رویش کمار نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی کہ کلبھوشن جادھو کو قونصلر رسائی کا حق دے دیا گیا ہے۔

کلبھوشن سے ملاقات کے لیے انڈین ڈپٹی ہائی کمشنر گورو اہلووالیہ پیر کو اسلام آباد میں دفترِ خارجہ پہنچے جہاں انھوں نے تین گھنٹے کا وقت گزارا۔

پاکستان کے دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق کلبھوشن کی انڈین سفارتکار سے ملاقات 12 بجے دوپہر شروع ہوئی اور دو گھنٹے تک جاری رہی۔

بیان کے مطابق یہ ملاقات حکومتِ پاکستان کے نمائندوں کی موجودگی میں ہوئی تاہم انڈین درخواست پر گفتگو کی زبان کے حوالے سے کوئی پابندی عائد نہیں کی گئی تھی۔

دفترِ خارجہ کے مطابق معاملات کو شفاف رکھنے کے لیے اس بات چیت کو ریکارڈ بھی کیا گیا اور اس بارے میں انڈین حکام کو پہلے ہی مطلع کر دیا گیا تھا۔

انڈین وزارتِ خارجہ کے ترجمان رویش کمار کا کہنا تھا کہ پاکستان میں انڈین ہائی کمشنر پیر کو کلبھوشن جادھو سے ملے اور یہ ملاقات عالمی عدالت انصاف کے 17 جولائی 2019 کے فیصلے کے مطابق ہوئی۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ‘ہمیں تفصیلی رپورٹ کا انتظار ہے لیکن یہ واضح ہے کہ (کلبھوشن) جادھو پر منفی بیانیہ دہرانے کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے تاکہ پاکستان کے غلط دعوؤں کو فروغ ملے۔’

انڈیا کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کہا انڈین حکومت تفصیلی رپورٹ حاصل کرنے کے بعد مستقبل کے لائحہ عمل کا تعین کرے گی اور اس چیز کا جائزہ لیا جائے گا کہ عالمی عدالتِ انصاف کے احکامات کی کتنی پاسداری کی جا رہی ہے۔

ترجمان نے مزید کہا کہ وزیر خارجہ نے کلبھوشن جادھو کی والدہ سے بات کی ہے اور انھیں ملاقات کے احوال سے آگاہ کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘(انڈین) حکومت اس بات پر پرعزم ہے کہ جادھو کو انصاف ملے اور وہ انڈیا واپس صحیح سلامت پہنچیں۔’

خیال رہے کہ پاکستان نے اتوار کو انڈیا کو ایک مرتبہ پھر کلبھوشن جادھو تک قونصلر رسائی کی پیشکش کی تھی جو انڈیا نے قبول کر لی تھی۔

پاکستان کے دفترِ خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے اتوار کو ٹوئٹر پر اپنے پیغامات میں کہا تھا کہ ’انڈین جاسوس کمانڈر کلبھوشن جادھو کو جو کہ انڈین بحریہ کے حاضر سروس افسر اور را کے ملازم ہیں، قونصلر رسائی دو ستمبر 2019 کو دی جائے گی۔‘

ان کے مصدقہ اکاؤنٹ سے کی گئی ٹویٹ میں کہا گیا کہ ’یہ عمل ویانا کنونشن، عالمی عدالتِ انصاف کے فیصلے اور پاکستانی قوانین کے مطابق ہو گا۔‘

پاکستان کی جانب سے یہ پیشکش ایک ایسے موقع پر سامنے آئی جب انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کے خاتمے اور اسے مرکز کے زیرِ انتظام علاقہ بنائے جانے کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات انتہائی کشیدہ ہیں۔

یہ عالمی عدالت انصاف کے کلبھوشن کے معاملے میں فیصلے کے بعد دوسرا موقع ہے کہ پاکستان کی جانب سے کلبھوشن جادھو تک قونصلر رسائی کی بات کی گئی ہے۔

اس سے قبل پاکستان نے گذشتہ ماہ کے آغاز میں باضابطہ طور پر انڈیا کو کلبھوشن جادھو تک قونصلر رسائی دینے کی پیشکش کی تھی۔ تاہم اس پیشکش کے جواب میں انڈیا نے پاکستان سے مطالبہ کیا تھا کہ کلبھوشن جادھو کو ‘دباؤ اور سزا کے خوف سے پاک’ ماحول میں قونصلر رسائی فراہم کرے۔

پاکستان نے دسمبر 2017 میں کلبھوشن جادھو کی ان کی والدہ اور اہلیہ سے ملاقات کروائی تھی۔
یاد رہے کہ 17 جولائی کو عالمی عدالت انصاف نے اپنے فیصلے میں پاکستان کو حکم دیا تھا کہ وہ مبینہ جاسوس کی سزائے موت پر نظر ثانی کرے اور قونصلر رسائی دے۔

عدالت نے قرار دیا تھا کہ پاکستان نے کلبھوشن جادھو کو قونصلر تک رسائی نہ دے کر ویانا کنونشن کی شق 36 کی خلاف ورزی کی ہے۔

پاکستان کی ایک فوجی عدالت نے اپریل 2017 میں کلبھوشن جادھو کو جاسوسی، تخریب کاری اور دہشت گردی کے الزامات میں موت کی سزا سنائی تھی۔

اس فیصلے کے خلاف انڈیا نے مئی 2017 میں عالمی عدالت انصاف کا دورازہ کھٹکھٹایا تھا اور استدعا کی تھی کہ کلبھوشن کی سزا معطل کرکے ان کی رہائی کا حکم دیا جائے۔

عالمی عدالت نے انڈیا کی یہ اپیل مسترد کر دی تھی تاہم پاکستان کو حکم دیا تھا کہ وہ ملزم کو قونصلر تک رسائی دے اور ان کی سزایے موت پر نظرِ ثانی کرے۔

کلبھوشن جادھو کے بارے میں پاکستان کا دعوی ہے کہ وہ انڈین بحریہ کے حاضر سروس آفسر ہیں جنھیں سنہ 2016 میں پاکستان کے صوبے بلوچستان سے گرفتار کیا گیا تھا۔

پاکستان ایک عرصے سے بلوچستان میں بلوچ علیحدگی پسند عناصر کی پشت پناہی کرنے کا الزام انڈیا پر عائد کرتا رہا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں