جموں کشمیر: بڑھتے بھی چلو کے ڈھیرے منزل پر ہی ڈالے جائینگے

کامران خالد
(جنرل سیکرٹری ، جے کے این ایس ایف ضلع پونچھ)

پاکستانی زیر انتظام کشمیر جسے آزادکشمیر کہا جاتا ہے ،کی آزادی کا اندازہ اس بات سے با آسانی لگایا جا سکتا ہے کہ صدر اور وزیراعظم سے زیادہ طاقت اور اختیارات پاکستان کے ایک معمولی سے سیکرٹری کے پاس ہوتے ہیں اور یہاں کی عوام کے چہروں پہ چھایا خوف اور مایوسی اس نہام نہاد آزادی کے ڈھونگ کو کھول کر سامنے لے آتے ہیں۔ کنٹرول لائن کے آر پار کشمیریوں کی زندگی دکھوں اور رسوائیوں سے بھری پڑی ہے۔ایک طرف ہندوستانی حکمران طبقے کے سامراجی عزائم اور مفادات کے حصول کی خاطر بھارتی فوج معصوم کشمیریوں کا خون بہا رہی ہے تو دوسری طرف کی عوام بھی ذلت کی گہرائیوں میں غرق ہے۔غربت ،افلاس،بیماری،لاعلاجی،بے روزگاری،جہالت،غنڈہ گردی اور ریاستی دہشت گردی کا راج ہے، فوج اور ایجنسیوںکی یہاں بالواسطہ حکمرانی ہے اور انکی اجازت کے بغیر یہاں اقتدار کوئی بھی حاصل نہیں کر سکتا ،نتیجتاًسڑکیں ٹوٹی پھوٹی ، علاج ،تعلیم،روزگار،ٹرانسپورٹ،صاف پانی اور دیگر بنیادی سہولیات نہ ہونے کے مترادف ہیں۔معیارتعلیم انتہائی گراوٹ کا شکار ہے، بعض دیہاتوں میں سکول کا نام و نشاں تک نہیں ، اور جن علاقوں میں موجود ہیں وہاں عمارت کھنڈرات کا منظر پیش کر رہی ہوتی ہے،جسکے باعث ایک بڑی تعداد تعلیم سے محروم ہے، بالادست طبقہ اور درمیانے طبقے کی اوپری کچھ پرتوں کو پرائیویٹ تعلیم تک رسائی حاصل ہے، اور جدید نصابی شعبہ جات کی عدم دستیابی کے باعث پاکستان کی طرف رخ کرتے بھی نظر آتے ہیں۔ تعلیم کی کمی کے باعث چائلڈ لیبر میں آئے روز اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

بالکل یہی صورت حال شعبہ صحت کی بھی ہے ، پسماندہ دیہاتوں میں اول تو سڑکیں اور ٹرانسپورٹ کی سہولیات نہ ہونے کی وجہ مریض ہسپتال پہنچنے سے پہلے ہی معمولی سی بیماری کے باعث جان گنوا دیتے ہیں، اور اگر ہسپتال پہنچ بھی جائےں تو مناسب علاج ملنا مشکل ہوتا ہے ، اکثریتی ڈاکٹر صرف مریضوں کو راولپنڈی ریفر کرنے کی تنخواہ لیتے ہیں۔تعلیم کی طرح علاج بھی ایک کاروبار بنا دیا گیا ہے ۔

ناقص ٹرانسپورٹ کی وجہ سے آئے روز حادثات میں درجنوں جانیں ضائع ہو رہی ہیں۔ معاشی اور سیاسی جبر کے ذریعے انکا قومی اور ہر طرح کا استحصال جاری ہے ، مختلف قسم کے ٹیکسوں اور دیگر سامراجی معاشی پالیسیوں کے ذریعے جبر کی چکی میں دوہرا استحصال اور لوٹ مار بھی جاری ہے۔ اس سب پر المیہ یہ کہ دونوں قابض ریاستوں کے حکمران جب اپنے داخلی تضادات کو مٹانے اور عوامی مسائل کو حل کرنے کے قابل نہیں رہتے رہتے تو ان سب پر پردہ ڈالنے اور عوام کی توجہ اصل مسئلے سے ہٹانے کے لیئے کشمیر میں وقتاً فوقتاً جنگ و امن کا ایک ڈرامہ رچانا شروع کر دیتے ہیں۔نہ تو یہ جنگ کرنے کے اہل ہیں اور نہ ہی یہ امن قائم رکھ سکتے ہیں اور اس لڑائی میں دونوں اطراف کے مظلوم کشمیریوں کا خون پانی کی طرح بہایا جاتا ہے۔72 سالوں کی اس نام نہاد آزادی میں یہاں کا عمومی معیار زندگی بہت گر گیا ہے ، کیونکہ ظالم اور مظلوم طبقہ کے نزدیک “آزادی” کے معنی ایک دوسرے سے بالکل متضاد ہوتے ہیں۔ ظالموں کے نزدیک آزادی کا مطلب لوٹ مار کی آزادی ہے جبکہ مظلوم کے نزدیک اس ذلت آمیز زندگی سے چھٹکارا ہی آزادی ہے۔

پاکستانی زیر انتظام کشمیر کی معیشت کا بڑا حصہ بیرون ملک میں موجود کشمیری محنت کشوں کی بھیجی گئی رقوم پر مشتمل ہے۔اور وہ پاکستانی ریاست کو زرمبادلہ فراہم کرنے کا بڑا ذریعہ بھی ہیں ، یہی زرمبادلہ پاکستان اور کشمیر کا حکمران طبقہ بڑی بے دردی سے اپنی عیاشیوں پر صرف کرتا ہے ،حکمران طبقے کی بڑی تعداد ٹمبر اور ڈرگ مافیا پر مشتمل ہے ، بالادست اور کچھ درمیانی پرتوں کا انحصار بیرون ممالک میں محنت کے عوض حاصل ہونے والی مزدوری سے بھیجی رقم پہ ہے جبکہ اکثریت غربت کا شکار ہے ۔

80 کی دہائی میں ہونے والے “ڈالر جہاد” نے عالمی سامراج کے ساتھ ساتھ یہاں کے مقامی حکمرانوں ،جابروں اور آمروں کو بھی کالی دولت کے پہاڑ لگانے کے شاندار مواقع فراہم کئے ،جس میں اسلحہ اور منشیات جیسے کاروبار شامل ہیں۔ اور پھر اس دولت کو اپنی پراکسیوں ، جہادی تنظیموں کی بھرتیوں ، اور اپنی عسکری طاقت کی سیاسی اور سماجی بڑھوتری کے لئے استعمال کیاگیا۔ ایک طرف کالے کاروباروں اور دھندوں سے پیدا کی گئی دولت کے انبار لگے ہیں تو دوسری طرف اس نظام کے اندر دولت کے اس انبار کے باوجود عوام غربت کی لکیر سے بھی نیچے زندگی بسر کرنے پہ مجبور ،تمام تر بنیادی سہولیات سے محروم ہے۔ پاکستانی زیر انتظام کشمیر سے پیدا ہونے والی بجلی کشمیریوں کو مفت فراہم کرنے کے بجائے پاکستانی حکومت کی طرف سے ٹیکس لگنے کے بعد مہنگے داموں بیچ کر عوام کا خون نچوڑا جاتا ہے ،قدرتی وسائل کی لوٹ مار بھی جاری ہے۔ انفراسٹرکچر،سیاحت،صنعت اور دیگر ترقیاتی منصوبوں پر نہ تو سرمایہ کاری کی گئی نہ اس حوالے سے کوئی اقدامات کئے گئے ، ماضی میں جو تھوڑی بہت ترقیاتی منصوبوں پہ سرمایہ کاری کی جاتی رہی اب بحران کی وجہ سے بالکل ختم کر دی گئی ہے۔چیدہ چیدہ ٹھیکے بھی سامراج کی ایما پر ملٹی نیشنل کمپنیوں کو دیے جاتے ہیں تا کہ اس لوٹ مار میں وہ بھی اپنا حصہ ڈال سکیں۔جس پیمانے پر یہاں سرمایہ کاری کی ضرورت ہے موجودہ گلے سڑے نظام کے اندر اسکی گنجائش باقی نہیں۔ اور دن بدن بڑھتا یہ سیاسی ،سماجی اور معاشی بحران آئے روز لوگوں کی زندگیوں میں اپنا اظہار کھل کر کر رہا ہے۔

سرمایہ داری تاریخی طور پر مفلوج اور نا اہلی کی اس نہج پہ کھڑی ہے کہ اب اسکے پیروکار اگر کسی مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو حل کے بجائے مزید مسائل پیدا ہو جاتے ہیں۔بحران کی اس شدت نے حالات ، معیشت ، سیاست ،ثقافت،اخلاقیات ،نفسیات غرض ہر چیر کی قدر کو یکسر تبدیل کر دیا ہے۔لیکن وہیں دوسری طرف ہمیں لوگوں میں اس تمام تر ذلت سے نجات حاصل کرنے کی خواہش، جذبہ اور امید بھی نظر آتی ہے جو کہ فطری طور پہ ہر انسان کے اندر کسی بھی جبر کے خلاف ہوتی ہے ۔وہ یہ جانتے ہیں کہ ہر آنے والے نظام کی طرح یہ ظالم نظام بھی ہمیشہ نہیں رہے گا اور ایک دن اس ذلت،رسوائی اور تکالیف سے بھری زندگی سے چھٹکارا حاصل کر کہ آزادی کا سورج اپنی سر زمین پہ ضرور دیکھیں گے۔

پاکستانی حکمران طبقے کے کشمیر کے بارے میں عزائم اور نیتیں ظاہر ہوتی ہیں ، وہیں مقامی حکمرانوں کا کردار بھی عیاں ہوتا ہے۔ صنعتی شعبے میں سرمایہ کاری نہ ہونے کی وجہ سے کلاسیکی پرولتاریہ موجود نہیں لیکن اسکے باوجود نوجوانوں اور محنت کشوں میں انقلابی نظریات اور انقلاب کی طرف گرمجوشی دیکھنے کو ملتی ہے۔

برصغیر جیسا تاریخی طور پر پسماندہ خطہ آج اس نظام کے بحران میں مظلوم قومیتوں کا قید خانہ بن چکا ہے۔اور قومی استحصال و جبر یہاں کی ایک نہ چھپائی جا سکنے والی حقیقت بن گئی ہے جس میں ان مظلوم قوموں کا حکمران طبقہ خود ملوث ہونے کے ساتھ ساتھ قومی مسئلہ کو اپنے مالی اور سیاسی مفادات کے حصول کی خاطر استعمال بھی کرتا ہے۔مظلوم قوموں کے حکمران بھی قومی استحصال کا خاتمہ نہیں کر سکتے۔ایک طرف نوجوان کسی واضع نظریہ، لائحہ عمل ، تناظر ، پروگرام اور خصوصاً قیادت کے فقدان کی وجہ سے مایوسی کا شکار نظر آتے ہیں تو دوسری جانب شدید معاشی بدحالی اور بیروزگاری انکے جذبات کو بری طرح سے متاثر بھی کر رہی ہے۔نوجوان آج کسی انقلابی راستے کی تلاش میں بھٹک رہے ہیں اور زندگی کے بنیادی مسائل سے چھٹکارے کی امنگ نوجوانوں میں آزادی کی شمع جلائے ہوئے ہے۔کشمیری عوام خاص طور پر نوجوان دونوں قابضین سے ہر طرح کی امید توڑ چکے ہیں۔لیکن موجودہ سرمایہ دارانہ نظام کے اندر حکمران نہ صرف کشمیر بلکہ کسی بھی مظلوم قوم کا قومی مسئلہ حل کرنے کے قابل نہیں ہیں۔

جہاں پاکستان میں قومی استحصال جاری ہے وہیں طبقاتی استحصال بھی شدت سے جاری ہے۔بقول لینن کے ”قومی مسئلہ آخری تجزیہ میں روٹی کا مسئلہ ہے“۔ان حالات اور عالمی معاشی و سیاسی نظام میں کشمیر کی جدوجہد آزادی کو علیحدہ کاٹ کر نہ تو سمجھا جا سکتا ہے نہ ہی کوئی واضع لائحہ عمل اور تناظر پیش کیا جا سکتا ہے کیونکہ ایک جدید قومی ریاست کی بنیاد کے لئے جو معاشی اور سماجی ترقی کی ضرورت ہے وہ یہاں کا حکمران طبقہ حاصل کرنے میں بری طرح ناکام ہے ۔مذاکرات کے ذریعے یا اقوام متحدہ اور دیگر سامراجی اداروں سے مسئلہ کشمیر حل کروانے کی توقعات محض ایک فریب سے زیادہ کچھ نہیں۔حق خودمختاری ہر قوم کا بنیادی حق ہے لیکن موجودہ نظام میں رہتے ہوئے قوموں کے حق خودارادیت کا حصول بھی ایک سراب ہی ہے ۔کشمیر کی آزادی کا واحد حل کشمیر کی اس جدوجہد آزادی کو برصغیر کی طبقاتی جنگ اور پاکستان ، ہندوستان کے محنت کش طبقے کے ساتھ طبقاتی بنیادوں پہ جڑت پیدا کر مشترکہ جدوجہد کو منظم کرنے میں پنہاں ہے۔

اس کےلئے نہ صرف کشمیر کے نوجوانوں اور محنت کشوں بلکہ پاکستان اور بھارت کے محنت کشوں کی آزادی اور انہیں درپیش مسائل سے نجات اس خطے پر سے سرمائے کی حاکمیت کے خاتمے سے مشروط ہے، کشمیر کے محنت کشوں اور نوجوانوں کو اپنی قومی آزادی کی جدوجہد کو طبقاتی بنیادوں پر پاکستان اور بھارت کے محنت کشوں کی اس نظام کے خلاف جدوجہد سے جوڑنا ہوگا۔ تاکہ قومی، علاقائی، نسلی ، فرقہ وارانہ اور دیگر تعصبات کو ہوا دیکر انسانیت کو تقسیم در تقسیم کرتے ہوئے استحصال اور لوٹ مار کرنے کے فارمولے پر قائم اس نظام سرمایہ داری اور اس کے تمام تر ڈھانچوں کے خاتمے کی جدوجہد کو آگے بڑھا یا جائے تاکہ نہ صرف اس خطے سے ہر قسم کے استحصال کا خاتمہ کیا جائے بلکہ اس خطے میں بسنے والی تمام قومیتوں کو خودمختاری اور حقیقی آزادی کا حصول یقینی بناتے ہوئے ایک رضاکارانہ سوشلسٹ فیڈریشن میں پرویا جائے جو نسل انسانی کی اس کرہ ارض میں بقاءکی ضامن ہوگی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں