ڈیلرز ایسوسی ایشن کا محکمہ خوراک کے ذمہ داران پر مالیاتی خرد اور نااہلی کا الزام

آٹا ڈیلر ایسوسی ایشن راولاکوٹ نے محکمہ خوراک کے ذمہ داران پرمالیاتی خرد برد اور نااہلی کے سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے احتجاج کی دھمکی دیدی ہے.

آٹا ڈیلرز ایسوسی ایشن راولاکوٹ کے صدر سردار محمد عزیز خان نے دیگر عہدیداران کے ہمراہ گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سپلائی ڈپو راولاکوٹ میں سیکڑوں من آٹا بلیک کر کے اہلکاران فروخت کرتے ہیں، محکمہ کے لائسنس یافتہ ڈیلرز کو آٹا فراہم کرنے کی بجائے مہنگے داموں باہر فروخت کر کے محکمہ کے ذمہ داران خود مال بنا رہے ہیں، سپلائی ڈپو اکثر اوقات بند رہتا ہے، لائسنس یافتہ ڈیلرز کو وقت پر آٹا فراہم نہیں کیا جاتا جبکہ ڈی ایف سی اعجاز احمد اور انسپکٹر خوراک و انچارج سپلائی ڈپو حمید خان نوٹس لینے سے گریزاں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سرکاری طور پر لائسنس یافتہ ڈیلرز کو فی من آٹے کا بیگ 1427سے 1450روپے میں فراہم کیا جا رہا ہے جسے 1500روپے میں ڈیلرز فروخت کرنے کے پابند ہوتے ہیں، جبکہ بلیک میں 1470سے زائد روپے میں آٹا ڈیلرز کو اندھیرے میں رکھ کر فروخت کیا جاتا ہے جو پھر عام صارفین کو بھی مہنگے داموں دستیاب ہوتا ہے۔

انکا کہنا تھا کہ محکمہ کے قواعد و ضوابط کے مطا بق ڈیلرز بینک میں رقم جمع کروا کر واﺅچر انچارج ڈپو کو دیکر آٹا وصول کرنے کے پابند ہوتے ہیں لیکن انچارج ڈپو نقد رقم لیکر آٹا فراہم کرتے ہیں جس وجہ سے مالیاتی خرد برد کے زیادہ اندیشے موجود رہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر فوری طور پر نوٹس نہ لیا گیا تو سرکاری ڈیلرز احتجاج کرنے پر مجبور ہونگے، اس موقع پر سردار عزیز کے ہمراہ اشتیاق احمد، نزاکت حسین، ریشم خان، سہیل یونس، شکیل خان، اشتیاق خان اور دیگر سرکاری ڈیلرز بھی موجود تھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں