حکومتی قرضے اور واجبات: ’پاکستانی معیشت کی نوے کی دہائی میں واپسی‘

ملک کی موجودہ معاشی حالت اور معیشت پر قرضوں کے بوجھ کا موازنہ اگر نوے کی دہائی کے آواخر میں پاکستان کو درپیش معاشی حالات سے کیا جائے تو کچھ غلط نہ ہو گا۔

نوے کی دہائی کے آخری برسوں میں ملک کے سیاسی اور معاشی حالات کافی مخدوش تھے جبکہ پاکستان پر جوہری ہتھیاروں کے تجربات کے باعث عالمی سطح پر شدید معاشی پابندیاں بھی عائد کی گئی تھیں۔

اگرچہ اب پابندیاں تو نہیں ہیں مگر سٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے ملکی معیشت پر پڑے قرضوں کے بوجھ کے حوالے سے حال ہی میں جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق ملک کے مجموعی قرضے اور واجبات (لائبیلیٹیز) ملک کی معیشت کے مجموعی حجم سے بھی بڑھ چکے ہیں۔

ماہر معاشیات اور اکنامک ایڈوائزی کمیٹی کے رکن ڈاکٹر اشفاق حسن نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ معیشت پر قرضوں اور واجبات کے بوجھ کی ایسی صورتحال سنہ 1999 میں تھی۔

اعدادوشمار کے مطابق مالی سال 2018-19 (پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کا پہلا مالی سال) میں پاکستان پر قرضوں اور واجبات کا بوجھ 29.9 ٹریلین روپے سے بڑھ کر 40.2 ٹریلین روپے تک پہنچ گیا ہے یعنی صرف گذشتہ مالی سال میں قرضوں اور واجبات میں 10.3 ٹریلین روپے کا ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔

اگر ملک کی مجموعی پیداوار یا جی ڈی پی کے تناسب سے دیکھا جائے تو قرضوں اور واجبات کی یہ رقم پاکستان کے جی ڈی پی کے 104.3 فیصد کے برابر جا کھڑی ہوئی ہے۔

حکومتی قرضوں اور واجبات میں کیا فرق ہے؟
ڈاکٹر اشفاق حسن کے مطابق حکومتی قرضے جنھیں پبلک ڈیٹ (یا عوامی قرضے) کہا جاتا اس میں اندرونی اور بیرونی قرضے دونوں شامل ہیں اور ان کو ادا کرنے کی ذمہ داری بلاواسطہ حکومت کی ہوتی ہے۔

مالیاتی امور پر نظر رکھنے والے صحافی شہباز رانا کا کہنا ہے کہ سٹیٹ بینک کی جانب سے جاری کردہ حالیہ اعدادوشمار کے مطابق اس وقت ملک کا مجموعی حکومتی قرضہ 31.8 ٹریلین روپے ہے جس میں 34.5 فیصد بیرونی قرضہ (جو کہ بین الاقوامی مالیاتی اداروں اور ممالک سے حاصل کیا جاتا ہے) جبکہ 65.5 فیصد اندرونی قرضہ ہے (جو کہ حکومت عموماً نجی بینکوں سے حاصل کرتی ہے)۔

جبکہ واجبات (لائییلیٹیز) قرض کی وہ شکل ہے جس کی ادائیگی کی ذمہ داری بلاواسطہ تو نہیں مگر بالواسطہ حکومت کی ہی ہوتی ہے کیونکہ ان قرضوں کے حصول کے عوض ریاست پاکستان کی جانب سے ضمانت (گارنٹیز) دی جاتی ہیں۔

واجبات وہ قرضہ ہے جو پبلک سیکٹر انٹرپرائزز یا عوامی شعبے کے کاروباری ادارے جیسا کے پی آئی اے یا پاکستان سٹیل ملز حاصل کرتے ہیں۔ واجبات کو نجی قرضہ بھی کہا جاتا ہے اور سٹیٹ بینک کے مطابق گذشتہ مالی سال ان کا حجم 2.5 ٹریلین روپے تھا۔

ڈاکٹر اشفاق حسن کے مطابق ‘چاہے پرائیوٹ سیکٹر کی جانب سے حاصل کیا گیا قرضہ ہو (یعنی واجبات) اس کو واپس ہونا ہوتا ہے اور اس کے لیے بھی ڈالر کی ضرورت ہو گی جو ملکی معیشت سے ہی نکلے گا اور اس کا اثر معیشت پر اتنا ہی پڑتا ہے جتنا پبلک ڈیٹ یا حکومتی قرضے کا۔’

قرضہ اور ملکی مجموعی پیداوار میں تناسب؟
ڈاکٹر اشفاق حسن کے مطابق کسی ملک پر قرض کے بوجھ کو ناپنے کے کئی پیمانے ہیں جن میں قرض کا مقروض ملک کی مجموعی پیداوار (ڈیٹ ٹو جی ڈی پی ریشو)، یا ملک کے مجموعی محصولات (ڈیٹ ٹو ریوینیو) یا پھر زرِمبادلہ کے ساتھ تناسب شامل ہیں (ڈیٹ ٹو فارن ایکسچینج)۔

‘یہ وہ مختلف پیمانے جس کے ذریعے کسی مقروض ملک پر قرضے کے بوجھ کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔’

انھوں نے کہا کہ صرف لفظ قرض معاشی صورتحال اور قرضوں کے بوجھ کی مکمل طور پر عکاسی نہیں کر سکتا اس لیے اسے مجموعی پیداوار، زرمبادلہ، یا محصولات کے تناظر میں دیکھا اور سمجھا جاتا ہے۔

ملک پر قرضوں کے موجودہ بوجھ پر بات کرتے ہوئے اشفاق حسن کا کہنا تھا کہ ‘یہ نوے کی دہائی کی واپسی ہوئی ہے۔’

قرضوں کے بڑھتے بوجھ کی وجوہات
ڈاکٹر اشفاق حسن کے مطابق عمران خان اور ان کی ٹیم کی پاکستانی معیشت کے حوالے سے جو توقعات تھیں درحقیقت وہ اتنی درست نہیں تھیں۔ ‘انھیں حکومت سنبھالنے کے بعد پتا چلا کہ حالات ان کی توقعات سے کہیں زیادہ خراب ہیں۔’

اور ان معاشی مشکلات سے نمٹنے کے لیے متعلقہ محکموں میں جس نوعیت کے انسانی وسائل اور مہارتوں کی ضرورت تھی موجودہ حکومت کو ان کی کمی کا بھی سامنا تھا اور اس وجہ سے مشکلات میں کمی کے بجائے اضافہ ہوا۔

ان کا کہنا تھا کہ موجودہ معاشی صورتحال کی سب سے بڑی وجہ حکومت کا آئی ایم ایف کے پاس جانا تھا۔

‘اس نہج تک پہنچانے میں جتنی حکومت ذمہ دار ہے اتنا ہی ذمہ دار آئی ایم ایف ہے۔’

‘آئی ایم ایف کے کہنے پر روپے کی قدر کو بہت زیادہ گرایا، ڈسکاؤنٹ ریٹ اور شرحِ سود میں اضافہ کیا گیا۔ صرف روپے کی قدر کو گرانے اور ڈسکاؤنٹ ریٹ میں اضافے سے ملک کے مجموعی قرض میں 4400 ارب روپے کا قرضہ بڑھا ہے۔’

صحافی شہباز رانا کے مطابق گذشتہ حکومت جاتے ہوئے 8500 ارب کے لگ بھگ گردشی قرضے چھوڑ گئی تھی اور موجودہ حکومت نے گذشتہ مالی سال کے دوران تقریباً 200 ارب روپے کے گردشی قرضے کلئیر کیے ہیں جس کے باعث بوجھ میں اضافہ ہوا۔

انھوں نے کہا حکومتی اخراجات اور آمدن میں عدم توازن اس صورتحال کی چند بڑی وجوہات میں سے ایک ہے۔

’حکومت کے پہلے سال میں حکومتی اخراجات میں مجموعی طور پر 20 فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ محصولات میں چھ فیصد کمی ہوئی ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ گذشتہ برس شرح سود میں ہونے والے لگ بھگ 7.5 فیصد اضافے کی وجہ سے مجموعی قرضوں میں تقریباً 724 ارب روپے کا مزید اضافہ ہوا ہے۔

پاکستان پر اس کے اثرات کیا ہوں گے؟
ڈاکٹر اشفاق حسن کا کہنا تھا کہ اب اتنے بےتحاشہ قرضے اتارنے کے لیے پاکستان کو مزید قرضے لینے پڑیں گے اور یہ سلسلہ چلتا رہے گا جسے معاشی اصطلاح میں ‘ڈیٹ ٹریپ’ یا قرضوں کی دلدل میں دھنس جانا کہتے ہیں اور ایسی صورتحال میں پرانا قرض اتارنے کے لیے نئے قرض لیے جاتے ہیں۔

شہباز رانا کے مطابق اس کے پاکستان کی معیشت پر انتہائی نقصان دہ اثرات ہوں گے۔

’اس کا مطلب یہ ہے کہ اب پاکستان کی آمدن کا ایک بڑا حصہ قرض کی رقم پر ادا کیے جانے والے سود کی مد میں جائے گا۔ اور ایسا ہونے کی صورت میں معاشی اور معاشرتی ترقی کے لیے درکار رقم سے کٹوتیاں کی جاتی ہیں اور یہ صورتحال نہ صرف بیروزگاری کو جنم دے گی بلکہ غربت میں اضافے کا باعث بنے گی۔‘

اپنا تبصرہ بھیجیں