ن لیگ کے مرکزی رہنمائوں کے مقدمات کی سماعت کرنے والے جج تبدیل ہو گئے

پاکستان میں حزبِ اختلاف کی جماعت پاکستان مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنماؤں رانا ثنا اللہ، مریم نواز، شہباز شریف اور حمزہ شہباز کے خلاف مختلف مقدمات کی سماعت کرنے والے ججوں کو اچانک تبدیل کر دیا گیا ہے۔

پاکستان کی وزارتِ قانون نے اس حوالے سے ایک نوٹیفیکیشن بھی جاری کر دیا ہے۔ تبدیل کیے جانے والے ججز میں احتساب عدالت ایک اور پانچ کے ججوں کے علاوہ انسدادِ منشیات کی خصوصی عدالت کے جج مسعود ارشد شامل تھے۔

وہ ن لیگ کے رہنما اور رکن قومی اسمبلی رانا ثنا اللہ کے خلاف منشیات سمگلنگ کے مقدمے میں ان کی ضمانت کے لیے دائر درخواست پر سماعت کر رہے تھے۔

بدھ کو دورانِ سماعت ہی ان کو معلوم ہوا کہ ‘ان کی خدمات لاہور ہائی کورٹ کو واپس کر دی گئی ہیں’ جس کے بعد انھوں نے عدالت میں اعلان کیا کہ وہ مزید اس مقدمے کی سماعت نہیں کر پائیں گے۔

تاہم وزارتِ قانون کی طرف سے جاری کردہ نوٹیفیکیشن پر دو روز قبل یعنی پیر 26 اگست کی تاریخ درج تھی۔ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج مسعود ارشد نے کمرہ عدالت میں بتایا کہ ‘انہیں عوامی رابطے کی سروس واٹس ایپ کے ذریعے معلوم ہوا ہے کہ ان کی خدمات واپس کیے جانے کا نوٹیفیکیشن جاری ہو چکا ہے۔’

ان کے علاوہ نوٹیفیکیشن کے ذریعے جن دو ججوں کی خدمات لاہور ہائی کورٹ کو واپس کی گئی ہیں ان میں احتساب عدالت کے ڈیوٹی جج نعیم ارشد شامل ہیں جو مریم نواز اور یوسف عباس کے خلاف چوہدری شوگر ملز کیس، شہباز شریف کے خلاف رمضان شوگر ملز اور حمزہ شہباز کے خلاف مبینہ بد عنوانی کے مقدمات سن رہے تھے۔

تاہم ان ہی تین ججوں کی خدمات واپس کرنے کا جس طرح فیصلہ کیا گیا اس پر قانونی ماہرین اور حزبِ اختلاف کی جماعتیں سوال اٹھا رہی ہیں۔

جج نے رانا ثنا اللہ کا مقدمہ دورانِ سماعت چھوڑ دیا
ن لیگ کے رہنما رانا ثنا اللہ کو بدھ کو خصوصی عدالت برائے انسدادِ منشیات لاہور میں ان کی طرف سے دائر ضمانت کی درخواست پر سماعت کے لیے پیش کیا گیا۔ سماعت کے آغاز پر ان کے وکلا نے عدالت کے سامنے دلائل دیے۔

اس کے بعد استغاثہ نے عدالت سے استدعا کی کہ وہ ان دلائل کے جواب میں چند فیصلوں کا حوالہ دینا چاہتے ہیں جس کے لیے انھیں وقت درکار ہے۔

اس غرض سے ایک گھنٹے کا وقفہ دینے کے بعد جب جج مسعود ارشد دوبارہ کمرہ عدالت میں واپس آئے تو انھوں نے بتایا کہ وہ مزید اس مقدمے کی سماعت نہیں کر پائیں گے۔ رانا ثنا اللہ کے وکلا کے استفسار پر انھوں نے بتایا کے ان کی خدمات واپس کر دی گئی ہیں۔

رانا ثنا اللہ کے وکیل کے مطابق قانونی طور پر نوٹیفیکیشن جاری ہونے سے قبل وہ سماعت نہیں چھوڑ سکتے تھے۔ اس پر جج نے بتایا کہ نوٹیفیکیشن جاری ہو چکا ہے جس کے حوالے سے انھیں واٹس ایپ پر پیغام کے ذریعے علم ہوا ہے۔

تاہم یہ واضح نہیں کہ دو روز قبل جاری ہونے والے نوٹیفیکیشن کے بارے میں جج مسعود ارشد کیسے لا علم رہے۔

’کاز لسٹ معمول کے مطابق لگی ہوئی تھی‘

رانا ثنا اللہ کے وکلا کی ٹیم کے رکن محسن رضا ایڈووکیٹ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ جج ارشد مسعود کی عدالت کی بدھ کے لیے معمول کے مطابق کاز لسٹ لگی ہوئی تھی یعنی وہ معمول کے مطابق مقدمات سن رہے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ انھیں خدشہ ہے کہ ‘حکومت کی طرف سے رانا ثنا اللہ کی ضمانت کی درخواست کے مقدمے کو بے جا طول دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔’

محسن رضا کا کہنا تھا کہ عام طور پر ایک سپیشل پوسٹ پر تعینات جج یا خصوصی جج کو اس کی مقررہ تین سال کی مدت سے قبل واپس نہیں بھیجا جاتا جبکہ جج مسعود ارشد کو ابھی دو سال اور پانچ ماہ ہی گزرے تھے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ عموماً یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ خصوصی جج کی خالی ہونے والی نشست پر نئی تقرری میں وقت لگتا ہے۔

‘یعنی اس طرح کوشش کی جا رہی ہے کہ رانا ثنا اللہ کو جس قدر ممکن ہو جیل ہی میں رکھا جا سکے۔’

ان کا کہنا تھا کہ عام طور پر جب کسی جج کی خدمات وقت سے قبل واپس کی جائیں تو اس کی وجوہات بتائی جاتی ہیں۔

‘واٹس ایپ پیغام کی اہمیت نہیں’
پاکستان کے سابق اٹارنی جنرل اور قانونی ماہر عرفان قادر کے مطابق نوٹیفیکیشن جاری ہو گیا تو اس بات کی اہمیت نہیں کہ جج کو اس کا علم کس ذریعے سے ہوا۔

‘ہوتا تو یہ ہے کہ متعلقہ جج کو اطلاع دی جاتی ہے اور بتایا جاتا ہے کہ نوٹیفیکیشن بھی ہو چکا ہے۔ بعض اوقات آجکل تو یہ اطلاع ای میل کے ذریعے بھی دی جا سکتی ہے۔’

تاہم ان کا کہنا تھا کہ ’جس موقع پر جج کو سماعت سے ہٹایا گیا اس کو دیکھنا ضروری ہے۔‘

عرفان قادر کا کہنا تھا کہ ایسے جج جو اس قدر بڑے مقدمات کی سماعت کر رہے ہوں ان کو دورانِ سماعت تبدیل کرنا سوالات اٹھاتا ہے اور اسے متنازعہ بناتا ہے۔

‘کیا صرف ان ہی کے جج تبدیل ہونے تھے؟ اور وہ بھی اس وقت جب سماعت اہم موقع پر ہو۔’

ان کا کہنا تھا کہ قانونی طور پر حکومت کسی جج کی خدمات واپس کرنے کے لیے وجوہات بتانے کی پابند نہیں ہے تاہم اس وقت جب ان اقدامات کے حوالے سے عوام میں تشویش ہو اور تنقید کی جا رہی ہو تو ‘کسی ذمہ دار شخص کو سامنے آنا چاہیے اور وجوہات بتانی چاہئیں۔’

اپنا تبصرہ بھیجیں