کشمیر کی تازہ ترین صورتحال: سرینگر اور دیگر علاقوں میں گرفتاریاں جاری، کرفیو میں نرمی

ریاض مسرور
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، سرینگر

80 سالہ غلام محمد نابینا ہیں اور انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں ضلع بڈگام میں چک پہرو کے رہائشی ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ دو روز قبل رات کے وقت اُن کے کم سن نواسے کو سیکیورٹی فورسز نے گرفتار کر لیا۔ وہ کہتے ہیں کہ اس واقعے کے خلاف ان کی بستی میں احتجاج ہوا لیکن فورسز نے مظاہرین کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے مظاہرین کو منتشر کر دیا۔

’اب علاقے میں ایک خوفناک خاموشی ہے۔‘

اسی طرح سرینگر کے نواحی علاقے جناب صاحب، صورہ کے 40 سالہ الطاف احمد بھی مقامی پولیس تھانے میں قید ہیں۔ اُن کے والد کچھ عرصہ پہلے انتقال کر چکے ہیں۔ اُن کی والدہ کہتی ہیں کہ عید سے قبل وہ بھیڑ بکریوں کا ریوڑ منڈی سے واپس گھر لا رہے تھے کہ انھیں سیکیورٹی فورسز نے دھر لیا۔

جناب صاحب، صورہ میں کئی دنوں سے حالات کشیدہ ہیں۔ 8 اگست کو یہاں ہزاروں لوگوں نے انڈین حکومت کی جانب سے جموں و کشمیر کو حاصل خصوصی آئینی خود مختاری کو ختم کرنے اور جموں و کشمیر اور لداخ کو مرکز کے زیرانتظام الگ الگ خطے قرار دینے کے خلاف احتجاج کیا تھا۔

اس احتجاجی مارچ کے دوران پولیس نے دھاتی چھرّوں اور ہوائی فائرنگ سے جلوس کو منتشر کیا تھا۔

اس واقعے کے فوراً بعد اس علاقے میں فورسز کا گشت تیز کر دیا گیا۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ الطاف احمد کے علاوہ بژھ پورہ، نائنٹی فیٹ، الہٰی باغ، آنچار، اور جناب صاحب صورہ کے علاقوں سے درجنوں افراد کو پولیس نے گرفتار کر لیا۔

الطاف کے چچا غلام محمد کوندو کہتے ہیں کہ 2016 کی احتجاجی تحریک کے دوران فورسز کی فائرنگ سے اُن کا بڑا بیٹا بھی زخمی ہوگیا تھا، جو پانچ روز بعد انتقال کر گیا۔ کوندو کہتے ہیں: ‘وہ دماغی طور پر معذور تھا، وہ کوئی پتھراؤ وغیرہ کا مطلب بھی نہیں جانتا تھا۔’

انڈین حکومت کے حالات معمول پر آنے کے دعوے مگر مقامی لوگوں کا گرفتاریاں جاری ہونے کا الزام
کشمیر میں گرفتاریوں کو تین سطحوں پر عمل میں لایا گیا ہے۔ پانچ اگست کے فیصلے سے دو ماہ قبل علیحدگی پسندوں کی بڑی تعداد کو گرفتار کیا گیا۔ فیصلے کے بعد سابق وزرائے اعلیٰ اور وزراء سمیت سینکڑوں ہند نواز سیاسی رہنما اور کارکن گرفتار کیے گئے اور اب عوامی ردعمل کو روکنے کے لیے بڑے پیمانے پر گرفتاری مہم چھیڑ دی گئی ہے۔

جموں و کشمیر حکومت کے ترجمان روہت کنسل اور ریاستی پولیس کے ترجمان وی کے بیردی اعتراف کرتے ہیں کہ ‘جن لوگوں کے بارے میں خدشہ ہو کہ وہ امن میں رخنہ ڈال سکتے ہیں انہیں احتیاطی حراست میں لیا گیا ہے’ لیکن مسلسل اصرار کے باوجود حکومت گرفتار کیے گئے افراد کی تعداد نہیں بتا رہی۔

سرینگر میں ایک سرکاری افسر نے نام مخفی رکھنے کی شرط پر بتایا کہ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران صرف سرینگر ضلعے سے اُن کے پاس گرفتاریوں سے متعلق ایک ہزار سے زیادہ لوگ فریاد لے کر آئے۔ اُن کا کہنا ہے: ‘حالانکہ ہم اس معاملے میں کچھ نہیں کرسکتے، لیکن لوگوں کو لگتا ہے کہ سرکاری افسر اُن کے بچوں کو چھڑوا سکتا ہے۔’

سرینگر، بڈگام، شوپیان، کولگام اور دوسرے اضلاع میں اکثر پولیس تھانوں کے باہر لوگوں کی بڑی تعداد روزانہ دیکھی جا سکتی ہے۔

یہ لوگ تھانوں میں قید اپنے بچوں سے ملاقات یا انہیں کھانا دینے کے لیے آتے ہیں۔ سرینگر کے راج باغ پولیس سٹیشن کے باہر جمع بھیڑ میں سے ایک شخص نے بی بی سی کی ٹیم سے کہا کہ ‘دیکھیں جناب، ہم نے کچھ بولا تو ہمارے بچے پر مصیبت آئے گی۔ آپ دوسری جگہ جاؤ، کشمیر کے تو ہر تھانے میں ہمارے بچے قید ہیں۔’

جناب صاحب صورہ، تیل بل درگاہ اور دوسرے مقامات پر مقامی نوجوانوں نے اپنی بستیوں کی اندرونی سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی کرکے انہیں آمد و رفت کے لیے بند کردیا ہے۔

یہ نوجوان کہتے ہیں کہ رات کے دوران سیکورٹی فورسز کی گاڑی آکر نوجوانوں کو گرفتار کرتی ہیں چنانچہ انھوں نے سڑکوں کو بند کر دیا ہے اور اب وہ رات بھر گشت کرتے ہیں۔

‘اہلکار رات کو گرفتار کرنے آتے ہیں اور بچوں کو مارتے ہیں’
انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں حالات معمول پر آنے کے حکومتی دعوؤں کے برعکس سرینگر کے مقامی لوگوں کا دعویٰ ہے کہ رات کے اوقات میں کشمیری نوجوانوں کو گرفتار کرنے کا سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔

وادی کی تازہ ترین صورتحال سامعین تک پہنچانے کے لیے شروع کیے جانے والے بی بی سی اردو کے خصوصی ریڈیو پروگرام ’نیم روز‘ میں بات کرتے ہوئے سرینگر سے نامہ نگار ریاض مسرور نے بتایا کہ مقامی لوگوں کے مطابق سکیورٹی اہلکار رات کے اوقات میں گھروں پر چھاپے مار کر نوجوانوں کو گرفتار کر رہے ہیں۔

کشمیر کی صورتحال پر بی بی سی اردو کی خصوصی کوریج

خیال رہے کہ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق کشمیر میں پانچ اگست کے بعد سے چار ہزار سے زیادہ افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے اور ان میں سے بہت سوں کو وادی کے قید خانوں میں جگہ نہ ہونے کی وجہ سے انڈیا کے مختلف شہروں میں منتقل کیا گیا ہے۔

گرفتاریوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے سری نگر رہائشی اکبر ڈار نے بی بی سی کے نامہ نگار کو بتایا ‘ہمارے دو لڑکے اٹھائے گئے ہیں۔ شاید باہمی تناؤ یا کسی اور وجہ سے۔ رات کے ٹائم پر لے گئے۔‘

جب ان سے پوچھا گیا کہ ان کی گرفتار افراد سے ملاقات ہوئی ہے تو اکبر ڈار کا کہنا تھا ’جی ہاں۔‘

ریاض مسرور کے مطابق ان کی ملاقات ایک ایسی خاتون سے بھی ہوئی ہے جن کے بیٹے کو پرسوں رات گرفتار کر کے تھانے لے جایا گیا اور لڑکے کے نابینا دادا سڑک پر رو رہے تھے۔

اس سوال پر کہ وہ کہاں ہیں ان کی والدہ کا کہنا تھا ’وہ نوگام پولیس سٹیشن میں ہیں۔ وہ (سکیورٹی اہلکار) رات کے وقت آئے اور دروازے اور کھڑکیاں توڑ دیں۔ ہم نے اپیل کی کہ ہم لڑکوں کو صبح پولیس سٹیشن لے آئیں گے مگر وہ اس سے متفق نہیں ہوئے۔‘

لڑکے کی والدہ نے مزید بتایا ’چند روز پہلے گاؤں میں ایک لڑائی ہوئی تھی۔ وہ کہتے ہیں کہ وہ پتھراؤ میں ملوث ہے اور اس کے والد کو اپنے ساتھ لے گئے۔ ہم بہت خوفزدہ تھے، کیونکہ گھر میں ہم صرف خواتین ہی موجود تھیں اس لیے ہم نے دروازہ نہیں کھولا۔‘

انھوں نے الزام لگایا کہ ’سکیورٹی اہلکار گاڑیوں میں آتے ہیں اور اپنی گاڑیوں کو کچھ فاصلے پر کھڑا کر کے گلیوں میں پیدل آتے ہیں اور چھوٹے بچوں کو مارتے ہیں۔ بغیر کسی وجہ کہ وہ (سکیورٹی اہلکار) کھڑکیوں کے شیشے توڑ دیتے ہیں اور ردِعمل میں بچے ان پر پتھراؤ کرتے ہیں۔‘

مذکورہ خاتون کا یہ بھی کہنا تھا کہ ‘سکیورٹی اہلکاروں نے رات کے ڈھائی بجے ہمارے گھر پر ریڈ کیا اور کھڑکیاں توڑ ڈالیں۔ ہم بہت ڈرے ہوئے تھے۔ ہمارے گھر میں دل کا ایک مریض اور عمر رسیدہ افراد بھی ہیں۔ ہم نے ان سے التجا کی ہم صبح کو خود ہی پولیس سٹیشن آ جائیں گے۔‘

تاہم بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق ایسے اقدامات اور گرفتاریوں کے حوالے سے جب حکام سے پوچھا جاتا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ ابھی معلومات جمع کی جا رہی ہیں لہٰذا یہ اعدادو شمار بعد میں بتائے جائیں گے۔ ’حکام گذشتہ دس روز سے مسلسل اس سوال کو ٹال رہے ہیں۔‘

وادی کی صورتحال کے بارے میں ریاض مسرور کا کہنا ہے کہ چند حساس مقامات کے علاوہ باقی جگہوں پر پابندیوں اور کرفیو میں نرمی آئی ہے۔

تاہم ان کے مطابق سرینگر اور اس سے ملحقہ علاقوں میں نظامِ زندگی اب بھی معطل ہے اور کاروباری اور تعلیمی سرگرمیاں حکومت کی کوششوں کے باوجود بھی بحال نہیں ہو پا رہیں۔

نامہ نگار کا کہنا ہے کہ سرکاری حکم نامے کی وجہ سے اساتذہ تو سکولوں میں آ رہے ہیں لیکن بچے بالکل بھی سکول نہیں جا رہے ہیں۔ ’یہ عجیب صورتحال ہے کیونکہ ساری علیحدگی پسند قیادت اور ہند نواز قیادت نظربند یا قید ہے اور کسی نے بھی ہڑتال کی کال نہیں دی ہے۔‘

انھوں نے کہا ’کشمیر میں ایک خوفناک سی خاموشی ہے۔ جنوبی کشمیر میں ایسے بہت سے گاؤں ہیں جن میں سکیورٹی فورسز تعینات نہیں ہیں مگر لوگ بھی باہر نہیں ہیں۔‘

حریت رہنماؤں کی جانب سے جمعے کو ہڑتال کی خبروں کے حوالے سے ریاض مسرور نے بتایا کہ صرف صورہ کے علاقے میں اس طرح کے پوسٹر دیکھے گئے ہیں جن میں جمعے کے روز بعد از نماز جمعہ احتجاج کی کال ہے۔ تاہم اس کی تصدیق ممکن نہیں کیونکہ تمام حریت قیادت قید ہے اور دفاتر میں بھی تالہ بندی ہے۔

واضح رہے کہ صورہ کے مقام پر ہی انڈیا مخالف احتجاج میں مظاہرین پر پولیس کی شیلنگ اور چھرے لگنے سے متعدد افراد زخمی ہوئے تھے۔

وادی میں خوف کے ماحول کے بارے میں بات کرتے ہوئے ریاض مسرور نے بتایا کہ یہ کوئی نئی بات نہیں کہ کشمیر میں مہینوں تک کرفیو رکھا گیا ہو لیکن اس بار رابطے کا ایک بھی ذریعہ نہیں چھوڑا گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ وادی میں ہر کوئی بس ایک سی سوال کرتا نظر آتا ہے ’اب آگے کیا ہو گا؟‘

انھوں نے کہا ’پہلے ایک ہفتے میں تو لوگوں کو خدشہ تھا کہ انڈیا اور پاکستان میں جنگ چھڑ جائے گی لیکن ایسا نہیں ہوا تو اب لوگوں کو لگتا ہے کہ بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن ہو سکتا ہے۔ مجموعی طور پر لوگ مسلسل خوف کی کیفیت میں گرفتار ہیں۔‘

اپنا تبصرہ بھیجیں