کشمیر میں رہنماؤں کی گرفتاری کے خلاف ڈی ایم کے اور دیگر اپوزیشن پارٹیوں کا جنتر منتر پر احتجاجی مظاہرہ

نئی دہلی کے جنتر منتر پر جمعرات کو ڈی ایم کے کی قیادت میں کانگریس، ٹی ایم سی، آر جے ڈی، سی پی آئی اور سی پی ایم سمیت کئی دیگر پارٹیوں نے ایک ساتھ آکر جموں و کشمیر میں حالات کو نارمل کرنے، وادی میں مواصلاتی نظام کو درست کرنے اور حراست میں لئے گئے تمام سیاسی رہنماؤں کی رہائی کی مانگ کی۔
جموں و کشمیر میں حراست میں لئے گئے سیاسی رہنماؤں کی رہائی کی مانگ کو لےکر جمعرات کو نئی دہلی کے جنتر منتر پر ڈی ایم کے کی قیادت میں کانگریس، ٹی ایم سی، آر جے ڈی اور سی پی ایم سمیت کئی دیگر پارٹیوں نے ایک ساتھ آکر مظاہرہ کیا۔مظاہرہ میں شامل ہونے والے رہنماؤں میں کانگریس کے غلام نبی آزاد، سی پی ایم جنرل سکریٹری سیتارام یچوری، سی پی آئی جنرل سکریٹری ڈی راجا، ایس پی رہنما رام گوپال یادو،لوک تانترک جنتا دل کے شرد یادو، آر جے ڈی کے منوج جھا اور ٹی ایم سی کے دنیش ترویدی تھے۔ کانگریسی رہنما پی چدمبرم کے بیٹے کارتی چدمبرم بھی مظاہرہ میں شامل ہوئے۔

رہنماؤں نے جموں و کشمیر میں حالات کو معمول پر لانے، وادی میں مواصلاتی نظام کو درست کرنے اور حراست میں لئے گئے تمام سیاسی رہنماؤں کی رہائی کی مانگ کی اور نعرے لگائے۔


تین سابق وزیراعلیٰ اور ایک سابق آئی اے ایس افسر کے ساتھ جموں و کشمیر میں ایک سابق مرکزی وزیر، سات سابق ریاستی وزراء، سرینگر کے میئر اور وائس میئر، کئی ایم ایل اے کو حراست میں لیا گیا ہے۔وہیں، عالمی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق، ریاست کا خصوصی درجہ ہٹائے جانے کے بعد سے وہاں پر کم سے کم 4000 لوگوں کو گرفتار کیا گیا اور ان کو پبلک سیفٹی ایکٹ(پی ایس اے) کے تحت حراست میں رکھا گیا ہے۔

حراست میں لئے جانے والے لوگوں میں وکیل، پروفیسر، جموں و کشمیر بار ایسوسی ایشن اور سول سوسائٹی کے ممبر شامل ہیں۔ غور طلب ہے کہ ریاست میں گزشتہ 5 اگست سے کمیونیکیشن کے ذرائع کو بند کر دیا گیا ہے۔آرٹیکل 370 پر اختلاف کے باوجود ڈی ایم کے نے مظاہرہ کے لئے حمایت جٹانے کی کوشش کی اور پارٹی کے صدر ایم کے اسٹالن نے سینئر رہنما ٹی آر بالو کو یکساں نظریہ والی پارٹیوں کو یکجا کرنے کے لئے بھیجا۔

بتا دیں کہ، جہاں کانگریس، ڈی ایم کے اور لیفٹ جموں و کشمیر کے خصوصی درجے کو ہٹانے اور ریاست کو دو حصوں میں بانٹنے کی مخالفت کر رہی ہیں، وہیں ٹی ایم سی، این سی پی نے اس کے خلاف ووٹ نہیں کیا۔ اس کے ساتھ عام آدمی پارٹی اوربی ایس پی جیسی پارٹیوں نے حکومت کی حمایت کی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں