لگاتار ہلاکتوں کے باوجود کشمیری نوجوان کیوں بندوق اٹھارہے ہیں؟

نصیر احمد
صحافی و تجزیہ کار(سرینگر)

سال 2018میں اگرچہ کشمیر میں تقریباً 260 عسکریت پسند مارے گئے اور 100سے زائد مقامی نوجوان عسکری تنظیموں میں شامل ہوگئے ،مگر ان میں چندایک کی کہانی مختلف ہے۔اُن کے والد بھی عسکریت تھے جو 1990کی دہائی میں مارے گئے۔ اب وہ ایک دوسرے سے متصل قبروں میں دفن ہیں۔

اشفاق یوسف

28 دسمبر 2018 کو باندر پورہ پلوامہ میں ایک مختصر جھڑپ میں اشفاق یوسف وانی نامی عسکریت پسند مارا گیا ۔اشفاق 20 جولائی 2018کو گھر چھوڑ کر ملی ٹنسی میں شامل ہوا تھا اور گھر والوں کی درخواست کے باوجود بھی واپس نہیں لوٹا۔20جولائی 2018 کو اشفاق کے گھر چھوڑنے کے بعد اپنے شوہر کی طرح اپنے بیٹے کو کھونے کے غم میں مبتلاماں رفیقہ بانو نے کئی بار سوشل میڈیا پر وائرل ہوئے ویڈیوز میں عسکری تنظیموں کو اشفاق کو واپس گھربھیجنے کی درخواست کی مگر وہ واپس نہیں لوٹا۔

رفیقہ کے لئے یہ سمجھ سے بالا تر ہے کہ پڑھائی میں ہمیشہ اول رہنے والےاُس کے ایم بی اے بیٹے نے آخر بندوق کیوں اٹھالیا۔اشفاق نے 2015 میں ایم بی اے کرنے کے بعد تقریباً ایک سال تک ایک نجی بینک میں نوکری بھی کی اور بعد میں اسے چھوڑ کر میوہ جات کی تجارت کرنے لگاتھا۔ اس کے اچانک عسکریت کا رخ کرنے کے فیصلے نے اس کے گھر والوں کو حیرت میں ڈال دیا تھا جو بار بار اسے واپس لوٹنے کی التجا کرتے رہے۔ ملی ٹنسی میں اُس کی عمر 160دنوں کی ر ہی ا ور وہ 28 دسمبر 2018کو باندر پورہ پلوامہ میں ایک جھڑپ میں مارا گیا۔

آئی ای ڈی بنانے میں ماہر اشفاق کا والد محمد یوسف وانی عرف طاہر 1990 کی دہائی کا معروف حزب کمانڈر تھا جو 31 اگست 1996 میں پنگلنہ پلوامہ میں اپنے دو ساتھیوں کے ہمراہ فوجی دستوں کے ساتھ ہوئے تصادم میں مارا گیاتھا۔ 22 سال بعد حالات نے خود کو دہرایا اور مہلوک کمانڈر کا بیٹا اشفاق بھی ملی ٹنٹ صفوں میں شامل ہوا ۔ وہ 28دسمبر 2018 کو باندر پورہ میں ایک تصادم میں ہلاک ہوگیا۔اشفاق کو اپنی والد کی قبر سے متصل دوسری قبر میں سپر د خاک کیا گیا۔

رفیقہ کا کہنا ہے؛ اشفاق خوش تھا اور اچھا خاصا منافع کمارہا تھا ۔مگر مجھے آج تک یہ معلوم نہ ہوسکا کہ اس نے بندوق کیوں اٹھالیا۔

بیٹے کی جدائی رفیقہ کو کھار ہی ہے مگر وہ اپنے بیٹے کے فیصلے کا احترام بھی کرتی ہے۔ اشفاق اپنے پیچھے تین بھائیوں ، بہن اور ماں کو چھو ڑ گیا ہے۔ اشفاق اپنے والد کے راستے پر ملی ٹنسی میں شامل ہوا ۔ اس گھر کا سب سے بڑا بیٹا اعجاز پولیس محکمہ میں کام کر رہا ہے۔ اس گھر کی کہانی مختلف ہے۔

لیاقت منیر

10 نومبر 2018کو حفاظتی دستوں کے ساتھ جنوبی کشمیر میں مارے گئے گریجویٹ عسکریت پسند لیاقت منیر کی کہانی بھی الگ ہے۔وہ دو برس کا تھا جب پیشے سے لیبارٹری اسسٹنٹ اُس کے والد منیر نے 1989میں سرحد پار کی اور پاکستان چلا گیا۔وہ 1990 میں پاکستان سے تربیت حاصل کر کے واپس لوٹا اور9 برس تک حزب میں شامل رہا۔9 سال تک ملی ٹنسی میں شامل رہایہ عسکری حزب المجاہدین کے چیف سید صلاح الدین کا قریبی اور بھروسہ مند مانا جاتا تھا ۔اپنی جنگی حکمت عملی کے لئے کرنل جمیل کے نام سے مشہور ہوا یہ عسکری کشمیر میں حزب کا ڈویژنل کمانڈر بھی بنا ۔

منیر کے گھر والوں نے دعویٰ کیا کہ اُسے 26جنوری 1998 میں حفاظتی دستوں نے گرفتار کیااور بعد میں اُس جگہ سے چند کلومیٹر دور ایک فرضی تصادم میں مارا تھاجہاں بیس سال بعد اب اس کا بیٹا لیاقت بھی ایک تصادم میں مارا گیا۔

دو برس کی عمر میں یتیم ہوا لیاقت جب بڑا ہوا تو اس نے مزاحمت کا راستہ اپنایا۔2016 میں حزب کمانڈر برہان وانی کی ہلاکت کے بعد وادی بھر میں ہوئے شدید احتجاج میں لیاقت نے بھی حصہ لیا جس دوران اُس کے گھر کے بالکل باہر اُس کی آنکھ میں حفاظتی دستوں کی طرف سے داغے گئے پیلٹ بھی لگ گئے۔ سری نگر کے صدر ہسپتال میں لیاقت کی دو بار جراحیاں کی گئیں ۔لیاقت کے گھروالوں نے بتایا کہ اکثر اپنے والد کی ہلاکت کی باتیں کرنے والے لیاقت کے لئے اُس کی آنکھ میں لگا پیلٹ پہلے سے ا س کے اندر پل رہے غصے کے لیے ایک ٹریگر ثابت ہوا اور اس نے بالآخر 10مارچ 2010کو اسی تنظیم میں شمولیت اختیار کی جس کا ایک وقت پر اس کا والد ڈویژنل کمانڈر رہ چکا ہے۔لیاقت کا چچا زاد بھائی رئیس بھی حز ب المجاہدین کاسرگرم عسکری تھا جو مارچ 2017 میں ایک تصادم میں ہلاک ہوگیا۔لیاقت کو رئیس کی قبر کے متصل سپر د خا ک کیا گیا۔

نواز احمد وگے

17 نومبر 2018 کو ربن شوپیاں میں مارے گئے البدر تنظیم سے وابستہ عسکریت پسند نواز احمد وگے کی کہانی بھی کچھ ایسی ہی ہے۔اُسے کئی دفعہ ملی ٹنٹوں کے ساتھ رابطے میں رہنے کے الزام میں حفاظتی دستوں نے گرفتار کیا تھا۔اُردو میں پوسٹ گریجویشن کرچکے نواز نے جون2018 میں البدر تنظیم میں شمولیت اختیار کی ۔وہ جمعہ کی نما ز اد ا کرنے گھر سے نکلا تھا مگر واپس نہیں لوٹا اور لاپتہ ہونے کے چند گھنٹوں بعد ہی ہاتھوں میں ہتھیار لئے ہوئے اُس کی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی۔نواز کی والدہ سارہ بیگم کا کہنا ہے؛1996ء میں میرے شوہر غلام قادر کی ہلاکت کے بعد میں نے نواز کو کافی عاجزی سے پالا اور میں اس کے روشن مستقبل کی تمنائیں لے کر جی رہی تھی مگر اس کا دل کہیں اور تھا۔سارہ بیگم اپنے بیٹے کی جدائی کے غم سے نڈھال ہے مگر وہ بھی اب اپنے بیٹے کے فیصلے کااحترام کرتی ہے۔

نواز 17نومبر 2018کو اپنے آبائی گاؤں ربن میں ہوئے تصادم میں مارا گیا وہ اپنے پیچھے اپنی ماں ، تین بہنیں اور ایک بھائی کو چھو ڑ گیا ہے۔نواز کے کئی ہمسایوں نے دعویٰ کیا کہ نواز کے والد غلام قادر کا ملی ٹنسی سے کوئی تعلق نہیں تھا اور جماعت اسلامی کے کارکن رہے غلام قادر کو 1996میں اسی گاؤں میں اخوانیوں نے گولی مار کر ہلاک کردیا تھا۔نواز کی عمر اس وقت محض دو برس تھی جب اسکے والد کو مارا گیا تھا۔

سال 2018ریاست میں ملی ٹنٹ اور شہری ہلاکتوں کے اعتبار سے اس دہائی کا سب سے خونی سال ثابت ہوا ہے جس میں تقریباً 260ملی ٹنٹ اور 100سے زائد عام شہری بھی مارے گئے ۔2017 میں فوج کی طرف سے شروع کئے گئے اوپریشن آل آؤٹ کے بعد صدام پڈر ، سمیر ٹائیگر ، الطاف کاچرو، نوید جٹ اور منان وانی سمیت کئی ٹاپ ملی ٹنٹ کمانڈر مارے گئے تاہم پولیس ذرائع کے مطابق اس وقت 50سے 60غیر ملکی ملی ٹنٹوں سمیت کشمیر میں تقریباً 250ملی ٹنٹ سرگرم ہیں۔

سرحدی صورتحال

وادی کی سرحدی صورتحال ہر گزرتے دن کے ساتھ بگڑ رہی ہے۔ 7 جنوری کو ظاہر فوجی ذرائع کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق سال 2018 گزشتہ 15برسوں میں سب سے تشدد آمیز رہا جس میں پاکستان کی طرف سے سب سے زیادہ 2936 بار سیزفائر معاہدے کی خلاف ورزی کی گئی اور پاکستانی فوجیوں کی فائرنگ کی روزانہ اوسط 8 دفعہ رہی۔

سیز فائر کے بڑھتے واقعات، فائرنگ کے نتیجے میں لوگوں کی ہجرت اور شہری ہلاکتوں میں اضافے کے بعد مرکزی سرکار نے لائن آف کنٹرول اور بین الاقوامی سرحد کے نزدیک رہنے والے لوگوں کی سلامتی کے لئے ساڑھے14 ہزار زیرِ زمین بنکر تعمیر کرنے کیلئے 415 کروڑ روپے منظور کئے ہیں جن میں سے ابھی تک 300 بنکر تعمیر کئے گئے ہیں جبکہ اس برس مزید چار ہزار بنکر تعمیر کئے جارہے ہیں۔ ہند پاک کے مابین 26 نومبر 2003 میں سیزفائر معاہدے پر دستخط ہوئے تھے تاہم روز بروز سرحدوں پر تناؤ بڑھ رہا ہے اور سرحد سے دراندازی بھی مسلسل جاری ہے۔

گزشتہ برس 18سال سے کم عمر کے کئی طالب علموں کے عسکری تنظیموں میں شامل ہونے اور ہلاک کئے جانے کے بعد حزب المجاہدین کے چیف سید صلاح الدین نے کہا تھا کہ ملی ٹنٹ تنظیمیں 19سال سے کم عمر کے طالب علموں کو ملی ٹنسی میں شامل نہیں کریں گی۔ دوسری طرف فوجی سربراہ جنرل بپن راوت نے بھی کہا تھا کہ ان کی توجہ کشمیری نوجوانوں کو ملی ٹنسی میں شامل ہونے سے روکنے پر مرکوزہے مگر صلاح الدین اور جنر ل راوت کے دعوے کمزور ثابت ہوئے ہیں اور سال 2018 میں تقریباً165 مقامی نوجوان ملی ٹنٹ صفوں میں شامل ہوئے ہیں۔

ایک پولیس افسرنے بتایا؛ملی ٹنٹ تنظیمیں اپنی حکمت عملی تبدیل کر رہی ہیں ۔ اس سے پہلے ملی ٹنسی میں شامل ہوئے ہر ایک ملی ٹنٹ کی تصویر جان بوجھ کر سوشل میڈیا پر وائرل کی جاتی تھی مگر اب سائیلنٹ یا چھپ کر ملی ٹنسی میں شمولیت کی حکمت عملی اپنائی جارہی ہے تاکہ نئے ملی ٹنٹ سیکورٹی راڈارسے محفوظ رہیں اور مختلف علاقوں میں نقل و حمل کرسکیں۔پولیس افسر کے مطابق 2018 میں ملیٹنٹ مخالف آپریشنوں میں اس حد تک کامیابی کی سب سے بڑی وجہ موئژ ہیومن انٹلی جنس رہی۔

2019 کی شروعات اور تشدد

وادی میں سالِ گزشتہ پُر اضطراب رہنے کے بعد نئے سال 2019 کی شروعات بھی ہلاکتوں سے ہوئی ہے ۔ نئے سال کے پہلے ہی روزیکم جنوری 2019کو پلوامہ کے ہانجن پائین علاقے میں ملی ٹنٹوں نے 2018 کی طرح ایک بار پھر سمیر احمد میر نامی ایک مقامی ایس پی او کے گھر میں گھس کر اس پر گولیاں چلائیں جس کے نتیجے میں وہ ہلاک ہوگیا۔ایک دِن کے وقفے کے بعد 3جنوری کو 2019کا پہلا انکاؤنٹر پیش آیا جس میں تین مقامی ملی ٹنٹ مارے گئے اور پُر تشدد جھڑپوں میں درجنوں مظاہرین زخمی ہوئے۔2018 کی طرح ان ملی ٹنٹوں کے جنازوں میں ہزاروں شہریوں نے شرکت کی اور جنازے میں چند ملیٹنٹ بھی نمودار ہوئے۔ 4 جنوری کو ترال میں بندوق برداروں نے نو منتخبہ سرپنچ کے نوجوان بھائی سمرنجیت سنگھ پر اندھادھند گولیاں چلا کر اُسے ہلاک کر دیا۔ 5 جنوری کو ٹھٹھرتی سردی میں آری پل ترال میں ایک تازہ انکاؤنٹر ہوا ۔ انکاؤنٹر میں ایک رہائشی مکان تباہ ہوا تاہم کسی بھی ملیٹنٹ کی لاش باز یاب نہیں ہوسکی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں