راوی اور ستلج میں طغیانی: پاکستان میں انڈیا سے آنے والا پانی نعمت یا زحمت؟

عماد خالق
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

انڈیا نے مون سون بارشوں اور گلیشئرز پگھلنے کے باعث اپنے ڈیموں میں جمع ہونے والا اضافی پانی پاکستان بہہ کر آنے والے دریاؤں میں چھوڑ دیا ہے جس کے باعث گلگت بلتستان اور پنجاب کے مشرقی دریاؤں ستلج اور راوی میں طغیانی اور سیلابی ریلوں کی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔

ممکنہ سیلاب کے خطرے کے پیشِ نظر ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے پنجاب اور گلگت بلتستان میں الرٹ جاری کیا ہے۔

این ڈی ایم اے کے فوکل پرسن بریگیڈئر مختار احمد نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے ذرائع سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق انڈیا نے دریائے ستلج میں تقریباً دو لاکھ چالیس ہزار کیوسک پانی کا ریلا چھوڑا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس ریلے کے اثرات پاکستانی دریا میں آنا شروع ہو چکے ہیں اور اس وقت 27 ہزار کیوسک کا ریلا پاکستان کے سرحدی علاقے گنڈا سنگھ کے مقام میں داخل ہو چکا ہے۔

صورتحال کب اور کیسے پیدا ہو رہی ہے؟
بریگیڈئر مختار نے بتایا کہ پانی کی سطح میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے اور توقع کی جا رہی ہے کہ کل دوپہر کے بعد (20 اور 21 اگست کی درمیانی شب میں) بڑا سیلابی ریلا یہاں سے گزرے گا جو ایک لاکھ کیوسک سے ڈیڑھ لاکھ کیوسک تک ہو سکتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ انڈیا کی جانب سے لداخ ڈیم کے 3 اسپل ویز کھولے گئے ہیں جن کا پانی خامرنگ کے مقام پر دریائے سندھ میں شامل ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ دریائے سندھ کے اس مقام پر ابھی تک پانی کی سطح میں کوئی غیر معمولی اضافہ نہیں ہوا۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر دریائے سندھ میں پانی کی سطح میں اضافہ ہوتا ہے تو ہمارے پاس تربیلا ڈیم اور چشمہ بیراج میں اس پانی کو جمع کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔

بریگیڈئیر مختار احمد کے مطابق دریائے ستلج میں انڈین پنجاب سے آنے والے پانی کے بڑے ریلے کی وجہ سے سیلاب کا خطرہ ہے اور پی ڈی ایم اے پنجاب نے ضلع قصور اور اطراف کے اضلاع کی انتظامیہ کو کسی بھی ہنگامی صورتحال کے لیے تیار رہنے کی ہدایت دی ہے۔ ضلعی انتظامیہ دریا کے کنارے پر آباد افراد کے انخلا کے انتظامات کر رہی ہے۔

انھوں نے بتایا کہ سندھ طاس معاہدے کے تحت ہر برس مون سون سیزن کے آغاز سے پہلے کانفرنس میں پانی کے اخراج کے متعلق اطلاعات شیئر کرنے اور الرٹ جاری کرنے پر تبادلہ خیال ہو جاتا ہے، لیکن اس سال بدقسمتی سے دونوں ممالک میں موجودہ کشیدہ صورتحال کے پیش نظر انڈیا نے کسی بھی طرح کی تفصیلات کا تبادلہ نہیں کیا اور پانی چھوڑنے سے پہلے الرٹ جاری نہیں کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ انڈس واٹر کمیشن نے وزارت داخلہ کے ذریعے یہ معاملہ انڈین حکام کے سامنے اٹھایا ہے جس پر ابھی تک انڈیا نے کوئی جواب نہیں دیا۔

آنے والا پانی نعمت یا زحمت؟
این ڈی ایم اے کے فوکل پرسن بریگیڈئر مختار احمد کے مطابق انڈیا کی جانب سے دریائے ستلج میں آنے والے پانی میں سے کچھ ہیڈ سلیمانکی اور پنجند کے مقام پر جمع کر لیا جائے گا مگر مشرقی پٹی پر پانی ذخیرہ کرنے کی سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے زیادہ تر پانی دریائے سندھ میں گرتا ہوا سمندر برد ہو جائے گا۔

بریگیڈئیر مختار کا کہنا تھا کہ گذشتہ کئی برسوں سے دریائے ستلج میں پانی نہیں آیا تو اس پانی سے اس علاقے کی زمینوں پر اچھے اثرات مرتب ہوں گے اور زیر زمین پانی کی سطح میں بھی اضافہ ہوگا۔ یہ زحمت کے ساتھ ساتھ ایک نعمت بھی ہے۔

انڈیا کی جانب سے پانی چھوڑنے پر آبی ماہر اور پانی کے مسائل پر کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم حصار کے کونسل ممبر پرویز عامر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے تبصرہ کیا کہ ان کے خیال میں انڈیا جتنا پانی ذخیرہ کر سکتا تھا اس نے کیا اور یہ اضافی پانی ہے جسے پاکستان کی جانب بہایا گیا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ انڈیا پانی کی قدر کو سمجھتے ہوئے دریائے چناب پر چھ ڈیم تعمیر کر رہا ہے اور دریائے راوی پر بھی ایسے منصوبے زیر تعمیر ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ انڈیا کوشش کرے گا کہ اس اضافی پانی کے کچھ حصے کو راجستان کے نہری نظام کی جانب موڑ دے۔ جبکہ انڈین حدود میں نالہ ڈیک میں طغیانی کے باعث پاکستانی سرحدی علاقے میں کچھ مقامات پر نقصانات کا خدشہ ہے۔

انھوں نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ پانی دراصل ایک نعمت کے طور پر پاکستان میں آ رہا ہے لیکن پانی ذخیرہ کرنے کے وسائل نہ ہونے کے سبب ہم اس پانی کو سمندر برد کر دیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ پانی پاکستان کے صحرائی علاقوں چولستان، تھرپارکر اور تھل میں تقسیم کیا جانا چاہیے تھا لیکن ہمارے پاس ایسا نظام ہی موجود نہیں۔ یہ پانی ان علاقوں کے لیے کسی دولت سے کم نہیں۔

انھوں نے یہ رائے بھی دی کہ اس پانی کا کچھ حصہ ہیڈ تریمو اور منجند کے مقام پر رابطہ نہروں کے ذریعے استعمال ہوگا جبکہ دیگر ضائع ہو جائے گا۔

’پانی ذخیرہ رکھنے کی مدت صرف 30 دن‘
سندھ طاس معاہدے کے تحت ستلج اور راوی انڈیا کے دریا ہے۔ انڈس واٹر ٹریٹی کے ایڈیشنل کمشنر شیراز میمن کا کہنا ہے کہ یہاں ہر سال پانی نہ آنے کی وجہ سے ان دریاؤں کے کنارے اور اندر تجاوزات بن چکی ہیں جس کے باعث ہمیں انخلا اور نقصان کا سامنا ہے۔

ان کا کہنا تھا پاکستان کو پانی ذخیرہ کرنے کے حوالے سے فوری اقدامات اٹھانا ہوں گے کیونکہ پاکستان دنیا میں سب سے کم عرصہ کے لیے پانی ذخیرہ کرنے والے ممالک میں شامل ہیں۔

ہمارے پانی ذخیرہ رکھنے کی مدت صرف 30 دن ہے جبکہ دنیا کے متعدد ممالک میں دو سے تین سال تک کا پانی جمع کیا جا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ملکی واٹر پالیسی میں یہ شامل ہے کہ ہم اپنی پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت بڑھائیں گے لیکن مالی مشکلات کے سبب اب تک اس پر خاطر خواہ کام نہیں کیا گیا۔

حل کیا ہے؟
پرویز عامر کا کہنا ہے کہ جب بھی پاکستان کو انڈیا سے اضافی پانی کی صورت میں ایک نعمت ملتی ہے تو ’ہم اسے جارحیت اور ظلم کا نام دے دیتے ہیں۔ ’ہمیں پانی ذخیرہ کرنے کا نظام بہتر بنانا چاہیے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ سیہون کے قریب ہم اس پانی کو بیراج بنا کر جمع کر سکتے ہیں، اسی طرح حاکڑہ کے قریب بھی ہمارے پاس قدرتی طور پر ایک چھوٹا دریا موجود ہے جس پر بیراج بنا کر اس پانی کو ضائع ہونے سے بچایا جاسکتا ہے۔

انھوں نے بھی اس پانی سے زیر زمین پانی کی سطح میں اضافہ اور زمین کی طاقت پر پڑنے والے مثبت اثرات سے اتفاق کیا۔

پرویز عامر نے انڈیا کے جانب سے دریائے سندھ میں چھوڑے جانے والے پانی کو ذخیرہ کرنے یا استعمال کرنے پر کہا کہ ہمارے پاس وہاں پانی جمع کرنے کے وسائل موجود ہیں اس لیے اس طرف طغیانی یا سیلاب کا خدشہ کم ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو مستقبل کے لیے سوچنا ہوگا کیونکہ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث گلیشئر زیادہ پگھلیں گے اور مون سون کی زیادہ بارشوں کے باعث یہ پانی مستقبل میں بھی پاکستان آئے گا۔’اس کو ذخیرہ کرنے کے لیے مستقل بنیادوں پر ڈھانچہ اور نظام بنانے ہوگا۔‘

اپنا تبصرہ بھیجیں