بھارتی کشمیر میں‌کشیدگی، پتھراؤ کے واقعات، لیہ (لداخ) میں‌خوشی کی لہر

انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کے خاتمے کو دو ہفتے بیت گئے ہیں تاہم وادی میں کشیدگی اور بندشوں کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار ریاض مسرور نے خصوصی ریڈیو پروگرام نیم روز میں بات کرتے ہوئے بتایا کہ شمالی کشمیر میں شبانہ کی بنیاد پر گرفتاریوں کا سلسلہ جاری ہے۔

انھوں نے مزید بتایا کہ کل وادی میں دن کے وقت پتھراؤ اور تصادم کے متعدد واقعات رونما ہوئے ہیں۔

اس بات کا اعتراف خود ضلعی انتظامیہ نے یہ کہہ کر کیا ہے کہ ’چند واقعات رونما ہوئے ہیں جس میں چند پولیس افسر اور شہری زخمی ہو گئے اور انھیں ہسپتال سے ابتدائی طبی امداد دے کر رخصت کیا گیا۔‘

تاہم اس حوالے سے کوئی تعداد یا اعداد و شمار نہیں دیے گئے۔

ضلع سرینگر کے چاروں اطراف مخصوص جگہوں پر پتھراؤ کے واقعات رونما ہوئے۔ اس کے علاوہ آنسو گیس کی شیلنگ بھی کی جاتی رہی جس سے لوگوں کو کافی پریشانیاں اٹھانی پڑی ہیں
ریاض کا کہنا ہے کہ ’ضلع سرینگر کے چاروں اطراف مخصوص جگہوں پر پتھراؤ کے واقعات رونما ہوئے۔ اس کے علاوہ آنسو گیس کی شیلنگ بھی کی جاتی رہی جس سے لوگوں کو کافی پریشانیاں اٹھانی پڑی ہیں۔‘

جب اس حوالے سے انھوں نے والدین سے بات کی تو ان کا کہنا تھا کہ ’پانچویں اور اس سے نچلی جماعتوں میں طلبا کی عمر 10 اور چار برس کے بیچ میں ہوتی ہے تو ان حالات میں والدین پریشان رہتے ہیں۔‘

انھوں نے مزید بتایا کہ کیونکہ کشمیر میں مواصلاتی نظام پوری طرح بحال نہیں ہوا تو ایسے میں وہ اپنے بچوں کو سکول بھیجنے سے ہچکچاتے ہیں۔

ریاض مسرور کے مطابق جموں میں انٹرنیٹ کی رفتار 2-جی رکھنے کی اجازت دی گئی تھی تاہم اس پر دوبارہ پابندی لگا دی گئی ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ ’حالات معمول پر آنے کی واحد علامت یہ ہے کہ سڑکوں پر سکول بسیں دکھیں کیونکہ جہاں تک کاروباری سرگرمیوں کا تعلق ہے تو وہ مسلسل معطل ہیں۔

’اس کے علاوہ کمرشل اور پبلک ٹرانسپورٹ بھی مکمل طور پر بند ہے۔‘

لیہ کے لوگ جموں و کشمیر سے علیحدگی کیوں چاہتے تھے؟

اس حوالے سے لداخ میں لیہ کے علاقے میں لوگوں نے انڈیا کے وزیرِ اعظم نریندر مودی کی جانب سے لداخ کو جموں و کشمیر سے علیحدہ کرنے کے فیصلے کو ایک خوش آئند اقدام قرار دیا ہے۔

مارکیٹوں میں نریندر مودی کو مبارک باد دیتے پیغامات بینر کی صورت میں آویزاں کیے گئے ہیں۔

ایک خاتون ڈیہچن جو لیح کی مرکزی مارکیٹ میں سبزیاں فروخت کرتی ہیں۔ ان کی زمینیں اپنی دکان سے بس 10 سے 15 منٹ کے فاصلے پر ہیں۔

انھیں یہ تو معلوم نہیں کہ ایک یونین ریاست کے ساتھ ملنے سے ان کی زندگی پر کیا فرق پڑے گا لیکن وہ کہتی ہیں کہ ان کے خاندان اور ان کے اردگرد رہنے والے لوگ بہت خوش ہیں۔

ٹوٹی پھوٹی ہندی میں وہ کہتی ہیں کہ ‘پہلے ہم جموں و کشمیر سے منسلک تھے۔ لیکن اب یہ ہماری مرضی پر منحصر ہے۔

اس بات کا دکھ کہ لداخ کشمیر کے ساتھ منسلک تھا لیح میں بہت سارے لوگوں کی زبانوں پر تھا اور لوگ اسے ایک جذباتی مسئلہ کہتے ہیں جو ان کی ثقافت کی وجود سے آزاد ہے۔

ان کا ماننا ہے کہ کشمیر کی ثقافت، اس کے رہنما اور سیاسی ترجیحات کا لداخ خاص کر لیح کے ساتھ کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ کشمیر رہنماؤں سے نجات کی وجہ سے خوش ہیں۔

بہت سارے لوگ محرومیوں کا شکار بھی ہیں کہ انھیں ترقیاتی کاموں میں اور فنڈ میں ہوتا ہے کہ ان کے ساتھ تفریق کی گئی ہے۔

انڈیا کے کرغزستان میں سابق سفیر، لکھاری اور سیاسی تجزیہ کار جن کا تعلق لیح سے ہے یونین ریاست کے مسئلے کے حوالے سے اس سے پہلے بھی لکھ چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’جب ریاست جموں و کشمیر کی 60 فیصد زمین لداخ میں موجود ہے تو وادی کشمیر کے 15 فیصد لوگ اس کے حال اور مستقبل کا فیصلہ کیسے کر سکتے ہیں۔

انھوں نے مزید کہا کہ ’شیخ عبداللہ، وہ جو بھی تھے لیکن وہ کبھی بھی لداخ کے لوگوں کے نمائندہ نہ تھے۔ ہمارا کشمیر کے لوگوں کے ساتھ کوئی خون کا رشتہ بھی نہیں تھا نہ ہی کوئی اور رشتہ تھا۔ لیکن ہر مرحلے پر صرف وہی ہماری نمائندگی کرتے تھے۔ یہ ہمارے ساتھ نا انصافی تھی۔ یہ یہاں رہنے والے لوگوں کی بے عزتی تھی۔‘

تو لیہ میں ایک خوشی تو اس بات کی تھی کہ ان کی ثقافت کا وجود بحال ہو گیا ہے اور ساتھ اس بات کی بھی خوشی ہے اب وہ روزگار اور ترقی کی امید رکھ سکتے ہیں۔

لوگوں کا خیال ہے کہ یونین ریاست کی حیثیت پانے کے بعد یہاں نئی صنعتیں لگیں گی اور یہاں کے لوگوں کی آمدن میں اضافہ ہو سکے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں