پیپلز نیشنل الائنس نے ”جموں‌کشمیر چھوڑ دوتحریک” کا اعلان کردیا، چھبیس اگست کو ریاست گیر مظاہرے ہونگے

پاکستانی زیر انتظام کشمیر کی ترقی پسند اور قوم پرست تنظیموں‌اورگروہوں پرمشتمل پیپلز نیشنل الائنس(پی این اے) نے” کشمیر چھوڑدو تحریک” کا اعلان کر دیاہے۔چھبیس اگست کو پاکستانی زیر انتظام جموں‌کشمیر کے تمام ضلعی ہیڈکوارٹرز میں‌احتجاجی مظاہرے منعقد کئے جائیں گے.

نیشنل پریس اسلام آباد کے راولپنڈی کیمپ آفس میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پی این اے چیئرمین ذوالفقار احمد راجہ ایڈووکیٹ، جنرل سیکرٹری لیاقت حیات خان، ترجمان افضال سلہریا نے کہا کہ ” کشمیر چھوڑدو تحریک” کے پہلے مرحلے میں 26 اگست کو پاکستانی زیر انتظام جموں‌کشمیر کے تمام ضلعی ہیڈکوارٹرز میں احتجاجی مظاہرے کئے جائیں گئے جبکہ تحریک کا دائرہ کار ریاست جموں کشمیر کی دیگر اکائیوں تک بڑھایا جائے گا ۔ ریاست جموں کشمیر کی دوکروڑ عوام کی مرضی اور منشاہ کے بغیر مسلط کیے جانے ہر فیصلہ کیخلاف بھر پور مزاحمت کی جائے گی ۔ ہندوستانی حکومت کی طرف سے یک طرفہ طورپر 35Aکاخاتمے کے بعد حکومت پاکستان بھی بھارت کے ساتھ شملہ معاہدہ سمیت دیگر دوطرفہ معاہدات سے دستبرداری کا اعلان کرے.

اس موقع پر سجاد افضل سیکرٹری مالیات پی این اے ، خلیل بابر مرکزی رہنما جے کے این ایس ایف، عثمان چغتائی سیکرٹری اطلاعات لبریشن فرنٹ (صغیر)، جے کے ایل ایف( روف) کے رہنما ناصر سرور ،ایس ایل ایف)( آزاد) کے رہنما طارق عزیز ، جموں کشمیر عوامی ورکرز پارٹی کے چیئر مین نثار شاہ ایڈووکیٹ ،گلگت بلتستان کے قوم پرست نوجوان رہنما شفقت انقلابی ،جموں کشمیر ورکز ر پارٹی کے رضوان کرامت ، آئی ایم ٹی کے یاسر ارشاد ، جے کے ایل ایف( یاسین) کے سردار انور ایڈووکیٹ ،جموں کشمیر لبریشن لیگ کے لطیف ثانی ،این ایس ایف( آزاد) کے یاسر یونس ،نیپ کے اظہر کاشر ،کے این پی کے یاسین چوہدری اور دیگر بھی موجود تھے۔

پی این اے کے قائدین نے کہا کہ 5اگست کو ہندوستان کے فاشٹ حکمران نریندرمودی کی جانب سے ریاست جموں کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے اور اسٹیٹ سیبجیکٹ رول کے خاتمے کا فیصلہ فوجی طاقت کے بل بوطے پر مسلط کیے جانے کے بعد ریاست جموں کشمیر میں اضطرابی کیفیت ہے ۔اس وقت بھارتی مقبو ضہ جموں کشمیر عملاََ دنیا کی سب سے بڑی جیل کی شکل اختیار کر چکاہے ۔ جہاں پر نولاکھ بھارتی افواج انسانی حقوق کی بدترین پامالیاں کر رہی ہے ۔ دوسری طرف پاکستان کے ذمہ دار سیاستدان اس کی گوا ہی دے رہے ہیں کہ بھارت کے اس عمل میں پاکستانی حکومت برابر کی شریک ہے جبکہ اس عمل کی سرپرستی کچھ عالمی طاقتیں کر رہی ہیں ۔

پی این اے کے قائدین نے کہا کہ چین کی درخواست پر اس مسئلے پر سیکورٹی کونسل کا ہنگامی اجلاس بھی منعقد ہوا تاہم ریاست جموں کشمیر کے دو کروڑ عوام کیے لیے یہ بات انتہائی ما یوس کن رہی کہ ریاست جموں کشمیرمیں بدترین انسانی المیے اور ریاست کے باسیوں کے بنیادی انسانی حقوق بشمول حق آزادی پر بحث کے بجائے سکیورٹی کونسل کے ممبران نے انڈیا پاکستان کو شملہ معاہدہ کے تحت معاملہ حل کر نے کا کہا ۔

اس کیفیت میں پیپلز نیشنل الائنس یہ سمجھتا ہے کہ مسئلہ کشمیر پاکستا ن اور ہندوستان کے مابین کوئی سر حدی تنازعہ نہیں بلکہ ریاست جموں کشمیر میں بسنے والے دوکروڑ انسانوں کی قومی آزادی اور بقاء کا مسئلہ ہے ۔علاقائی و بین الاقوامی حا لات کو مد نظر رکھتے ہوئے پی این اے نے ”ریاست جموں کشمیرچھوڑ دو” تحریک کے آغاز کا فیصلہ کر لیا ہے جس کا دائرہ کار ریاست کی دیگر اکائیوں تک بڑھایا جائے گا ۔پہلے مرحلہ میں 26اگست کو بھارتی مقبوضہ کشمیر میں ظالم بھارتی افواج کی جانب سے عائد شدہ کرفیو محاصرے کی وجہ سے جنم لینے والے انسانی المیے ،کرفیو کے خاتمے ، سٹیٹ سیبجیکٹ رول کی بحالی اور پوری ریاست جموں کشمیر سے غیر ملکی افواج کے انخلاء،ریاست کے دیگر حصوں بشمول گلگت بلتستان میں سٹیٹ سیبجیکٹ رول کو اس کی روح کے مطابق بحال کیے جانے اور سیاسی اسیران کی رہائی کے مطالبات پر احتجاج کیا جائے گا۔

یہ احتجاج ریاست جموں کشمیر کے ہر دو قابضین کے لیے پیغام ہوگا کہ ریاست جموں کشمیر کی عوام ریاست کی مستقل بندر بانٹ کو کسی طور تسلیم نہیں کریں گے اور ہر وہ فیصلہ جو ریاست جموں کشمیر کی دوکروڑ عوام کی مرضی اور منشاہ کے بغیر مسلط کیے جانے کی کوشش کی جائے گی ،اس کی بھر پور مزاحمت کی جائے گی ۔

پی این اے کے قائدین نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا کہ ہندوستانی حکومت نے یک طرفہ طورپر 35Aکاخاتمہ کیا ہے حکومت پاکستان بھی شملہ معاہدہ سمیت دیگر دوطرفہ معاہدات سے دستبردار ہونے کا اعلان کرے ۔ ہم پاکستانی عوام سول سوسائٹی اور ترقی پسند قوتوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اپنی حکومت کو مجبور کریں کے وہ ریاست کے اپنے زیر انتظام علاقوں (آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان)پر مشتمل آئین ساز اسمبلی کا قیام عمل میں لاتے ہوئے اس حکومت کو خود بھی تسلیم کریں اور دوست ممالک سے بھی تسلیم کروائیں تاکہ عالمی سطح پر ہندوستان کو حاصل سفارتی برتری کا خاتمہ ممکن ہوسکے اور ریاست جموں کشمیر کے شہری عالمی سطح پر اپنا کیس خود لڑ سکیں. جس کی وجہ سے ہندوستان کو بڑی پسپائی کا سامنا کرنے کے علاوہ عالمی دنیا کو مسئلہ کشمیر کے متعلق اصل حقائق سمجھانے میں آسانی ہو۔

پی این اے کے قائدین نے مقبوضہ کشمیر کی عوام کی جرات کو سلام پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے نو لاکھ بھارتی فوج کے محاصرے ، کرفیو اور ظالمانہ اقدامات کا ڈٹ کر مقابلہ کیا ۔ پی این اے کے قائدین نے کہا اگر دنیا مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے سنجیدہ ہے تو اسے ریاست جموں کشمیر کی عوام کو اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق غیر مشروط حق خودارادیت کا حق استعمال کرنے کے لئے سازگار ماحول مہیا کرنا ہوگا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں