’’اگر کشمیر میں حالات ٹھیک ہیں تو پھر پابندیاں کیوں؟‘‘

سیاست دانوں، انسانی حقوق کے کارکنوں اور طلبہ لیڈروں نے بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں پر اظہار تشویش کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر وہاں حالات ٹھیک ٹھاک ہیں تو پھر پابندیاں کیوں نافذ ہیں۔

مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے پیر کے روز کہا کہ آج انسان دوستی کا عالمی دن ہے۔ کشمیر میں انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزی ہو رہی ہے۔ آئیے ہم کشمیر میں انسانی حقوق اور امن کے لیے دعا کریں۔

ممتا بنرجی کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت منسوخ کرنے کی شدت سے مخالفت کرتی رہی ہیں۔

سابق آئی اے ایس افسر اور انسانی حقوق کے ایک سینئر کارکن ہرش مندر نے کشمیریوں کے انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔

انھوں نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ نہ صرف یہ کہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کی گئی بلکہ یہ کام انتہائی توہین آمیز انداز میں کیا گیا۔

ان کے بقول اس قدم سے کشمیری عوام میں غصہ بھی ہے اور رنج بھی ہے۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس فیصلے سے کشمیری خوش ہیں تو پھر انھیں اپنی خوشی کے اظہار کا موقع کیوں نہیں دیا جا رہا ۔

ہرش مندر کا کہنا ہے کہ کشمیری عوام کی ذہنی کیفیت کا اندازہ اس وقت لگے گا جب وہ باہر نکلنے کی پوزیشن میں ہوں گے۔

جے این یو طلبہ یونین کی سابق نائب صدر اور جموں و کشمیر پیپلز موومنٹ کی رہنما شہلا رشید نے ٹویٹ کر کے الزام عائد کیا کہ فوج کے جوان گھروں میں گھس رہے ہیں اور نوجوانوں کو باہر نکال رہے ہیں۔ گھروں کی تلاشی کے نام پر راشن بکھیرا جا رہا ہے اور جان بوجھ کر چاول اور دیگر اشیا میں تیل ملایا جا رہا ہے۔

شہلا رشید نے فوج پر ٹارچر کرنے کا بھی الزام لگایا اور کہا کہ شوپیاں میں چار افراد کو کیمپ میں بلایا گیا اور ان سے ایذا رسانی کے ساتھ پوچھ گچھ کی گئی۔ ان کے آگے ایک مائک رکھ دیا گیا تاکہ ان کے چلانے کی آواز دور تک جائے اور لوگ ڈر جائیں۔ اس سے علاقے میں خوف و ہراس کا عالم ہے۔

فوج نے شہلا رشید کے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔

فوج کے مطابق ایسی خبریں غیر سماجی عناصر کی جانب سے لوگوں کو مشتعل کرنے کے لیے پھیلائی جا رہی ہیں۔

مرکزی وزیر جتیندر سنگھ نے دفعہ 370 کے خاتمے کا دفاع کیا اور کہا کہ بعض عناصر اس وجہ سے مایوس ہیں کہ انھوں نے یہ بات پھیلا رکھی تھی کہ ملک کی کوئی بھی طاقت دفعہ 370 ختم نہیں کر سکتی۔

ان کے بقول مٹھی بھر لوگوں کا ایک ایجنڈہ ہے۔ ہمیں ان کی باتوں پر کوئی توجہ نہیں دینی چاہیے۔

حکومت کشمیر میں حالات کے بہتر ہونے کا دعویٰ کر رہی ہے اور اسکول کھلنے اور فون خدمات جزوی طور پر بحال ہونے کو بطور ثبوت پیش کر رہی ہے۔

دریں اثنا انسانی حقوق کے ایک سینئر کارکن اور میگسیسے ایوارڈ یافتہ سندیپ پانڈے کو ایودھیا میں کشمیر کے مسئلے پر نیوز کانفرنس نہیں کرنے دی گئی اور انھیں حراست میں لے لیا گیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں