کشمیر گہری کھائی کے دہانے پہ کھڑا ہے…

طارق علی

پرتشدد جنگوں اور سامراجی قبضوں سے لبریز آج کی غیرمستحکم دنیا میں، جہاں تمام تر اقدار کو بے رحمی سے کچل دیا گیا ہے، کیا کشمیر کی آزادی ممکن ہے؟ بڑھتی ہوئی بے چینی کے پیشِ نظر ”دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت“ نے دنیا سے کشمیر کا رابطہ منقطع کردیا ہے۔ حتیٰ کہ سب سے زیادہ مصالحت پسند سیاسی قیادت کو بھی گھروں میں نظر بند کردیا گیا ہے۔ یہ پورے خطے کے عوام کے لیے کوئی نیک شگون نہیں ہے۔

تقریباً نصف صدی تک کشمیر پر دہلی سے انتہائی وحشت کے ساتھ حکمرانی کی گئی ہے۔ 2009ء میں علاقے کے بائیس میں سے تین اضلاع میں تقریباً 2700 بے نام قبروں کی دریافت نے دہائیوں کی جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت قتل عام کی تاریخ کو بے نقاب کیا۔ مرد وں اور خواتین کے ساتھ بلادکار کی رپورٹیں بھی آئیں لیکن چونکہ بھارتی فوج عملاً قانون سے بالاتر ہے اس لیے وہ بلاخوف یہ سفاک حرکتیں انجام دیتے ہیں اور کبھی جنگی جرائم کے مرتکب بھی نہیں ٹھہرتے۔

دوسری طرف بھارت کی شمال مشرقی ریاست منی پور، جہاں مقامی خواتین کو بھارتی فوج کی جانب سے مسلسل بلادکار کا سامنا ہوتا ہے، میں 2004ء میں اس جبر کے خلاف شاندار انداز میں مظاہرہ کرتے ہوئے بارہ خواتین اور لڑکیوں، جن کی عمریں آٹھ سال سے لے کر اَسی سال کے درمیان تھیں، نے بھارتی فوج کے مقامی ہیڈکوارٹر کے باہر پلے کارڈ لے کر برہنہ مارچ کیا جن پر طنزیہ انداز میں لکھا تھا، ”آؤ ہمارا بلادکار کرو!“ وہ 17ویں آسام رائفلز کے ہاتھوں ایک بتیس سالہ سیاسی کارکن تھنگجام منورامہ پر تشدد اور اس کا مبینہ طور پر بلادکار کرنے کے بعدقتل کے خلاف مظاہرہ کر رہی تھیں۔ لیکن کشمیری، جنہیں اسی طرح کی سفاکیت اور شاید اس سے بھی بد تر صورتحال کا سامنا ہے، ایسا کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتے۔

کشمیر میں بہت ساری خواتین بھارتی فوج کے ہاتھوں اپنے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کے بارے میں کچھ کہنے سے ہی خوفزدہ ہیں کیونکہ انہیں اپنے خاندانوں میں ”غیرت“ کے نام پر مردانہ ردِعمل کا خوف بھی ہوتا ہے۔ انگانا چھترجی، جو پہلے کیلیفورنیا انسٹیٹیوٹ آف انٹگرل اسٹڈیز میں سوشل اینڈ کلچرل انتھراپولوجی کی پروفیسر تھیں، نے 2006ء سے 2011ء کے دوران کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر اپنی فیلڈ ریسرچ میں ایک انتہائی ہولناک واقعے کا ذکر کیا ہے: ”بہت سے لوگوں کے سامنے ان کے خاندان کی خواتین اور بچیوں کا بلادکار کیا جاتا تھا۔ ایک ماں کو حکم دیا گیا کہ وہ فوجی اہلکار کے ہاتھوں اپنی بیٹی کا بلادکار دیکھے۔ اس نے اپنی بیٹی کی رہائی کی درخواست کی جسے مسترد کیا گیا۔ پھر اس نے کہا کہ وہ یہ منظر نہیں دیکھ سکتی اور درخواست کی کہ یا تو اسے کمرے سے باہر بھیجا جائے یا مار دیا جائے۔ سپاہی نے اس کی پیشانی پر بندوق رکھی اور کہا کہ اس کی یہ خواہش پوری کی جاتی ہے اور اسے ماردیا گیا۔ پھر اس کی بیٹی کاریپ کیا گیا۔“

1980ء کی دہائی سے بھار ت نے نوآبادیاتی طرز کی فوجی قبضہ گیری کو اپنایا ہوا ہے جس میں بے تحاشہ رشوت ستانی، ریاستی دہشت گردی، جبری گمشدگی وغیرہ کے واقعات عام سی بات بن گئے ہیں۔ ان سب زیادتیوں کی ذمہ داری واضح طور پر بھارتی حکومت پر عائد ہوتی ہے لیکن پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کی اَسی اور نوے کی دہائی کی حماقتوں نے بھی دہلی کی بہت مدد کی ہے۔ انہوں نے غلطی سے امریکہ کی سوویت یونین کے خلاف افغانستان میں سرد جنگ میں جیت کو اپنی فتح سمجھا جس میں امریکہ نے پاکستانیوں اور جہادیوں کو اپنے مہروں کے طور پر استعمال کیا۔ ان جہادی گروہوں کو ریگن اور تھیچر (اور مغرب کا لبرل میڈیا بھی) ”فریڈم فائٹر“ کہتے تھے۔ اس طرح کی تعریفوں نے ان کے پاکستانی سرپرستوں کا دماغ خراب کر دیا۔ پاکستانی جرنیلوں نے سوچا کہ اگر اسی طرح کی واردات کشمیر میں بھی کی جائے تو انہیں ایک اور کامیابی مل سکتی ہے۔

اسی لیے افغانستان میں اپنی ”کامیابی“ کے بعد پاکستان کشمیر میں جہادیوں کو بھیجنے کا ذمہ دار تھا جس کا نتیجہ تباہ کن تھا۔ کشمیر میں ایک پرامن مسلم ثقافت پائی جاتی تھی جس پر صوفیانہ اقدار کی چھاپ تھی۔ لیکن اس عمل سے وہاں کے سماجی اور ثقافتی تانے بانے بکھر گئے۔ یوں بہت سے کشمیری دونوں حکومتوں کے خلاف ہوگئے۔ ہزاروں لوگوں نے بھارت کے دوسرے علاقوں میں پناہ لی جبکہ سینکڑوں خاندانوں نے پاکستانی زیرِ انتظام کشمیر میں پناہ لی۔ ان میں سے بہت سوں نے بعد میں عسکری تربیت بھی حاصل کی۔ نوے کی دہائی کی مسلح بغاوت کو بھارت کی زیادہ طاقتور فوج نے کچل دیا۔

بالآخر جب 11 ستمبر 2001ء کے حملوں کے بعد جہادی لشکریوں کو استعمال کرنے کی حماقت کے نتائج سامنے آئے تو امریکہ نے پاکستان کو کشمیر میں اپنے شدت پسندوں کے نیٹ ورک ختم کرنے پر مجبور کیا۔ تاہم اس کی باقیات وہاں موجود رہیں اور کشمیر کے لیے ملک کے دوسرے حصوں میں حمایت پیدا کرنے میں رکاوٹ اور اسے الگ تھلگ کرنے کا کردار ادا کیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ہندوستان میں ہرمحبِ وطن نے بھارتی حکومت کی کشمیر میں کی جانے والی وارداتوں پر آنکھیں بند کر لیں۔

سیاسی بے چینی ختم نہیں ہوئی۔ 11 جون 2010ء کو نیم فوجی دستوں، جنہیں ’CRPF‘ کہا جاتا ہے، نے نوجوان مظاہرین پر آنسو گیس چلائی۔ یہ نوجوان بھارتی سکیورٹی فورسز کی جانب سے کیے جانے والے قتلِ عام کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔ آنسو گیس کا ایک کنستر سترہ سالہ طفیل احمد مٹو کے سر پر لگا جس سے اس کا سر پھٹ گیا۔ اس کی سڑک پر پڑی ہوئی لاش کی تصویر کشمیری اخباروں میں تو چھپی مگر بھارت کے دوسرے اخباروں میں یہ نہیں چھپی جہاں اس واقعہ کو نظرانداز کیا گیا۔ ایک سیاسی بغاوت امڈ پڑی۔ مٹو کے جنازے میں لاکھوں لوگ کرفیو کو توڑتے ہوئے باہر نکلے۔ اس کے چند ہفتوں بعد سو سے زیادہ طلبہ اور بے روزگار نوجوان اور قتل کیے گئے۔ نئی دہلی کے خلاف نفرت نے مختلف الخیال کشمیریوں کو اکٹھا کر دیا۔

جب قتل عام میں ملوث ریاست ایک مضبوط اتحادی ہو تو اس کی سفاکیت کوئی معنی نہیں رکھتی۔ اسرائیل، سعودی عرب، کولمبیا اور کانگو کے بعد اب بھارت بھی اس فہرست میں شامل ہوگیا ہے۔ مثلاً وزرائے اعظم بنیامین نیتن یاہو اور نریندرا مودی اب قریبی دوست ہیں اور حالیہ سالوں میں اسرائیلی مشیر کشمیر میں زیادہ نظر آنے لگے ہیں۔ اسرائیل سے انٹیلی جنس اور سیکیورٹی تعاون کو مزید مضبوط بنایا جا رہا ہے۔ یہ سلسلہ 2000ء میں شروع ہوا تھا۔ آرٹیکل 370، جو کشمیر کی ڈیموگرافی کی حفاظت کو یقینی بناتا تھا اور اس کے سیکشن 35A کے ذریعے غیر کشمیریوں کو جائیداد بیچنے پر پابندی تھی، کا خاتمہ اور کشمیر کی تین حصوں میں تقسیم اسرائیل کے فلسطین پر قبضے کی مانند ہے۔

کشمیریوں کے نقطہ نظر سے کلنٹن، بش، اوباما اور ٹرمپ سے ایک ہی پیج پر ہیں۔ سب ریاستی دہشت گردی کو نظرانداز کرتے ہیں کیونکہ امریکہ بھارت کو ایک اسٹریٹجک اتحادی سمجھتا ہے جو معاشی فائدوں کے علاوہ چین کے پڑوس میں واقع ہے اور ”دہشت گردی کے خلاف جنگ“ میں پارٹنر بھی ہے۔ ایک وقت تھا کہ امریکہ نے گجرات میں مودی کی وزارت اعلیٰ کے دوران 2002ء میں مسلمانوں کے قتل عام کی سزا کے طور پر اسے ویزہ دینے پر پابندی عائد کی ہوئی تھی۔ لیکن آج اسے ایک ایسے سیاست دان کے طور پر دیکھا جاتا ہے جو سخت فیصلے لے سکتا ہے۔ جو ٹرمپ اور نیتن یاہو کا بھارتی ملغوبہ ہے۔

تنازعہ کشمیر جس کی وجہ سے بھارت اور پاکستان کے درمیان دو جنگیں ہوئیں اور علاقے میں بدترین جبر کا آغاز ہوا‘ اسے تاریخی تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ 1947ء میں ہندوستان کی تقسیم اس بنیاد پر ہوئی کہ برٹش انڈیا کے شمالی اور مشرقی خطوں پنجاب اور بنگال، جو متنوع آبادی کے حامل بڑے صوبے تھے، کو مذہبی بنیادوں پر تقسیم کیا جائے گا۔ نتیجہ فرقہ وارانہ فسادات کی خونریزی تھی جس میں دس لاکھ سے زائد ہلاک اور لاکھوں بے گھر ہوئے جبکہ 1947ء کے معاہدے کے تحت یہ طے پایا کہ ایسے علاقے جنہیں ”دیسی ریاستیں“ کہا جا تا تھا جہاں برطانوی سول سرونٹ حکومت کرتا تھا اور برائے نام حکمرانی مہاراجہ کے پاس ہوتی تھی، وہاں اگر حکمران مسلمان ہو اور آبادی کی اکثریت ہندوہو تو وہ حکمران بھارت میں شامل ہو گا۔
حیدرآباد میں جہاں نظام (مقامی بادشاہ) نے بھارت میں شمولیت میں تاخیر کی، بھارتی فوج نے گھس کر بزور طاقت معاملے کو حل کیا۔ کشمیر میں مہاراجہ ہری سنگھ ایک ہندو تھا لیکن آبادی کا 80 فیصد مسلمان۔ تاثر یہی تھا کہ حکمران پاکستان میں شمولیت کے کاغذات پر دستخط کرے گا۔ لیکن ہری سنگھ ہچکچایا۔

پاکستانی فوج کا سربراہ اُس وقت برطانوی جنرل ڈگلس گریسی تھا جس نے طاقت کے استعمال سے انکار کیا۔ پاکستان کی حکومت نے قبائلی لشکریوں کے دستے بھیجے جن کی قیادت حاضر سروس مسلمان فوجی افسران کر رہے تھے۔ یہ دستے زیادہ تر پشتون قبائل پر مشتمل تھے اور غیر منظم تھے۔ لشکری جتھے دو دن کی تاخیر سے سری نگر کی جانب روانہ ہوئے۔ ان دو دنوں میں خوب لوٹ مار ہوئی اورعورتوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات ہوئے جو پاکستانی حکمت عملی کے لئے نقصان دہ ثابت ہوئے۔ ایک منظم فوج آسانی سے سری نگر ایئر پورٹ پر بغیر کسی مزاحمت کے قبضہ کرسکتی تھی۔

اکتوبر 1947ء میں دہلی میں نہرو کی حکومت نے اپنے برطانوی کمانڈر ان چیف اور امن پسند مہاتما گاندھی کی حمایت سے بھارتی فوجوں کو جہاز کے ذریعے اتارا۔ مہاراجہ کو بھارت میں شامل ہونے پر مجبور کیا اور صوبے کے بیشتر حصے پر قبضہ کر لیا جسے نہرو ”ہمالیہ کا برف پوش سینہ“ کہتا تھا۔

پاکستان کے ساتھ جنگ کا آغاز ہوا۔ بھارت ہی معاملے کو اقوامِ متحدہ لے گیا جس نے فوری جنگ بندی اور اس کے بعد علاقے کے مستقبل کے حوالے سے استصواب کا مطالبہ کیا۔ جنوری 1949ء میں جنگ بندی پر اتفاق ہوا۔ کشمیر کا دو تہائی حصہ بھارتی کنٹرول میں چلاگیا۔ 1950ء کی دہائی میں کانگریس پارٹی کے تمام سرکردہ رہنما بشمول نہرو اور کرشنا مینن عوامی سطح پر وعدہ کرتے تھے کہ وہ استصواب کرائیں گے۔ یہ کبھی بھی نہیں ہوا کیونکہ وہ خود سیاسی طور پر عدم تحفظ کا شکار تھے۔ انہیں یقین بھی نہیں تھا کہ لوگ کس طرف جائیں گے۔ بھارت یا پاکستان۔

جمہوریت کے اپنے مسائل ہیں۔

جب دہلی کے سیاست دانوں کو اپنے ہاتھوں بنائی گئی صورتِ حال کی سنگینی کا احساس ہوا تو انہوں نے آئین میں 370 کی شق ڈال دی جو دیگر ذیلی شقوں کے ذریعے کشمیر کو ایک حد تک خود مختاری کی ضمانت دیتی تھی۔ اس شق کے تحت کوئی بھی غیر کشمیری علاقے میں رہائش اور جائیداد خریدنے کا حق نہیں رکھتا۔ اور سب سے بڑھ کر بھارتی حکومت نے ایک ریفرنڈم کرانے کا وعدہ کیا تا کہ کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جائے۔ کانگریس کے حمایتی مشہور رہنما شیخ عبداللہ کو یہی لالچ دیا گیا۔ اس نے عبوری حکومت بناکر بھارت میں عارضی شمولیت کو قبول کیا۔

عبداللہ کے والد شالوں کی تجارت کرتے تھے۔ ہندوستان کی تقسیم سے پہلے ہی وہ ایک مشہور شخصیت بن چکے تھے۔ نوآبادیاتی دور میں وہ اپنے لوگوں کے سماجی اور سیاسی حقوق کے لیے لڑتے رہے اور اکثر اقبال کا یہ شعر دہراتے تھے:

سرما کی ہواؤں میں ہے عریاں بدن اس کا
دیتا ہے ہنر جس کا امیروں کا دوشالہ

نہرو کو پہلے ہی سے پتہ تھا کہ شیخ عبداللہ، جو ایک مسلمان تھے، کی حمایت کے بغیر کشمیر میں کچھ بھی ممکن نہیں ہے۔ لیکن ان کے درمیان مخاصمت بھی ناگزیر تھی۔
عبداللہ نے ریفرنڈم کی مانگ جاری رکھی لیکن نہرو مسلسل انکار کر تے رہے۔ دونوں میں مخاصمت پیدا ہوئی۔ عبداللہ جیل میں قید ہوتے رہے اور کشمیر کو دہلی سے ہی کنٹرول کیا جاتاتھا۔ تاہم آرٹیکل 370کو نہیں چھیڑا گیا۔ البتہ ایک طرف سے پاکستان اس کی مخالفت کرتا کیونکہ اس کے مطابق یہ شق بھارتی قبضے کو ایک مستقل بنیاد فراہم کرتی تھی اور دوسری طرف انتہائی دائیں بازو کی ہندو بنیاد پرست تنظیم راشٹریا سوائم سیوک سنگھ (RSS) اس کی مخالف تھی جو گاندھی کو 1948ء میں قتل کرکے (اپنے اس فیصلے کو وہ آج بھی صحیح مانتے ہیں) مشہور ہوئی تھی۔

1951ء میں آر ایس ایس کے کارکنوں نے موجودہ بی جے پی کے پیشرو تنظیم کی بنیاد رکھی جو کشمیر کو ”نارملائز“ کرنے کی مہم چلاتی تھی۔ آج بھارت کے وزیر اعظم خود آر ایس ایس اور بی جے پی کی پیداوار ہیں۔ انہیں بچپن سے ہی نیم فوجی رضاکار کے طور پر تربیت دی گئی۔ آج تک بی جے پی اور کانگریس کی حکومتوں نے آرٹیکل 370 کو نہیں چھیڑا۔ اگرچہ انہوں نے کشمیر پر خوب جبر کیا اور بھارتی فوج کو کلین چٹ دی ہوئی تھی۔

مودی کی پارٹی نے ایک منقسم اور کمزور اپوزیشن کے خلاف دوبارہ الیکشن جیتا۔ مودی نے معاملے کو ایک دفعہ ہی حل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ آرٹیکل 370 کی منسوخی کی تعریف کرتے ہوئے 6 اَگست کی اپنی ٹویٹ میں مودی نے لکھا، ”میں جموں، کشمیر اور لداخ کے اپنے بہنوں اور بھائیوں کی جرات کو سلام پیش کرتا ہوں۔ سالوں تک مفاد پرست گروہوں نے، جو جذباتی بلیک میلنگ پر یقین رکھتے ہیں، لوگوں کو طاقتور بنانے کے لیے کچھ نہیں کیا۔ جموں اور کشمیر آج اپنے بھیڑیوں سے آزاد ہوچکا ہے۔ ایک نئی صبح، بہتر کل ہمارا انتظار کر رہا ہے!“

اس پرفریب بیان کی بے ایمانی واضح نظر آرہی تھی: مودی نے ”بہنوں اور بھائیوں“ سے پہلے لفظ ہندو کو حذف کر دیا تھا۔

اب کیا ہوگا؟ کانگریس اور بائیں بازو کی پارٹیاں اس کے خلاف احتجاج کریں گے لیکن اس بات کو قبول نہیں کریں گے کہ ان کی اپنی پالیسیوں اور خاموشی کی وجہ سے ہی مودی کو اپنی پارٹی کے مطالبات پر عمل کرنے کا موقع ملا۔ خوف اور موقع پرستی نے لبرل بھارت کو خاموش کرا دیا ہے۔ حتیٰ کہ بالی ووڈ کے مسلمان فلم سٹار بھی حکومت کی وفاداری میں جھک گئے ہیں۔ جیسا کہ وہ کانگریس کے دور میں کیا کرتے تھے۔ وہ یہ نہیں جانتے کہ مودی کی کتاب میں ”اچھا مسلمان“ نامی کوئی لفظ ہے ہی نہیں۔ یہی چیز بھارتی میڈیا اور ٹی وی میزبانوں پر بھی منطبق ہے۔

مودی نے کہا ہے کہ جو کچھ وہ کر رہا ہے وہی کشمیر کے مسئلے کا واحد حل ہے۔ اس کے لیے یہی آخری سیاسی حل ہے اور اگر کشمیر کے مسلمان اعتراض کرتے ہیں تو انہیں کچل دیا جائے گا۔ غیر کشمیری سرمایہ داروں کے رال ٹپک رہے ہیں اور برہمن زادے بیہودہ ٹویٹ کرکے کشمیر میں آباد ہونے اور کشمیری لڑکیوں سے شادی کرنے کے خیال پر جشن منا رہے ہیں۔ پاکستان میں عمران خان کی حکومت نے اپنے سفیر کو واپس بلانے اور بھارتی سفیر کو نکالنے کا فیصلہ کیا ہے۔ نمائشی اور بے تکے الفاظ کا تبادلہ دونوں ہی غیر مؤثر ہیں۔ لیکن کیا ایک اور غیر ایٹمی جنگ حل ہے؟ یہ انتہائی مشکوک ہے۔ دونوں ممالک کے قریبی اتحادی امریکہ اور چین اس کو قبول نہیں کریں گے اور آئی ایم ایف فوری طور پر پاکستان کو دیئے جانے والے قرضوں کی ادائیگی بند کر دے گا۔

فلسطینیوں کو پہلے ہی ایک خطرناک اور تاریخی شکست کا سامنا ہوا ہے لیکن دنیا میں ان کی کچھ حمایت موجود ہے۔ مودی اور اسرائیل کا اصرار ہے کہ ”نارملائزیشن“ کا مطلب معاشی ترقی ہے۔ جیساکہ امریکی صدر کے داماد اور مشیر جیرڈ کشنر کے فلسطین کے منصوبے سے ظاہر ہوتا ہے‘ کیا لوگوں کی سیاسی اور قومی آرزوؤں کو پیسے کے بدلے خریدا جاسکتا ہے؟ نوآبادیاتی نظام کے خلاف تحریکوں کی پوری تاریخ اس کا جواب نفی میں دیتی ہے۔ اسی طرح عرب دنیا میں حالیہ نوآبادکاری کی کوششیں بھی یہی چیز ظاہر کرتی ہیں۔

پچھلے ہفتے لندن میں ایک کشمیری وکیل نے مجھے یہ پیغام بھیجا، ”میں چھ دن سے اپنے خاندان سے رابطہ نہیں کرسکا ہوں۔ اس سے بھی بد تر یہ ہے کہ نہ صرف مغرب بلکہ پوری دنیا کو ہم دکھائی نہیں دیتے… عرب حکومتوں کے شرمناک رویے کو دیکھیں اور متحدہ عرب امارات کی جانب سے مودی کی مکمل حمایت کو دیکھیں۔“

بھارت کی جانب سے اطلاعات کی مکمل بندش کے باوجود کشمیر سے کچھ تصویریں اب یوٹیوب پر آرہی ہیں۔ ایک ماں ہسپتال میں اپنے بیٹے کے لیے رو رہی ہے جسے گولی لگی ہے اور بُری طرح زخمی ہے۔ ایک دکاندار بتاتا ہے کہ کس طرح ایک سپاہی گھر میں گھس کر بغیر وجہ کے اندھا دھند فائرنگ شروع کر دیتا ہے۔ سنسان گلیوں کی تصویریں۔ مجھے ڈر ہے کہ کشمیری عوام، جنہیں دنیا سے کاٹ دیا گیا ہے، کسی بڑی مصیبت کی گہری کھائی کے کنارے کھڑے ہیں۔


نوٹ: یہ مضمون نیو یارک ریویو آف بُکس میں انگریزی زبان میں‌شائع ہوا شائع ہوا۔ اسکی تلخیص اورترجمہ حسن جان روزنامہ جدوجہد کےلئے کیا. قارئین کی دلچسپی کو مد نظر رکھتے ہوئے اسے روزنامہ مجادلہ کی ویب سائٹ پر شائع کیا جا رہا ہے


Tariq Ali

طارق علی بائیں بازو کے نامور دانشور، لکھاری، تاریخ دان اور سیاسی کارکن ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں