جموں‌کشمیر لبریشن فرنٹ کا سات ستمبر کو تیتری نوٹ، تئیس اکتوبر کو مظفرآباد لانگ مارچ و دھرنوں کا اعلان

جموں‌کشمیر لبریشن فرنٹ نے رواں سال سات ستمبر کو تیتری نوٹ کراسنگ پوائنٹ کی طرف لانگ مارچ اور غیرمعینہ مدت تک احتجاجی دھرنا دینے اور تئیس اکتوبر کو مظفرآباد کی طرف لانگ مارچ اور قانون ساز اسمبلی کے سامنے غیر معینہ مدت تک احتجاجی دھرنا دینے کا اعلان کر دیا ہے.

پاکستانی زیر انتظام کشمیر کے شہرراولاکوٹ میں‌پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین جموں کشمیر لبریشن فرنٹ سردار محمد صغیر خان ایڈووکیٹ نے کہا کہ بھارتی مقبوضہ کشمیرمیں آرٹیکل 370 اور 35اے کے خاتمے، شہریوں‌سے جمہوری، سیاسی حقوق چھیننے جانے اور پورے مقبوضہ جموں کشمیر کو مکمل لاک ڈاؤن کئے جانے کے اقدام کے خلاف احتجاج کرنے اور مظلوم و محکوم مگر بھارتی جبر کے خلاف برسرپیکار کشمیری بھائیوں سے اظہار یکجہتی کےلئے سات ستمبر کو تیتری نوٹ کراسنگ پوائنٹ پر احتجاجی دھرنا دیا جائیگا. یہ احتجاجی دھرنا چار اہم وجوہات کو سامنے رکھتے ہوئے دیا جائے گا.

سردار محمد صغیر خان ایڈووکیٹ نے کہاکہ بھارتی مقبوضہ جموں‌کشمیر بشمول لداخ میں‌مظلوم و محکوم ہم وطنوں کے ساتھ ہم بھرپور اظہار یکجہتی کرتے ہیں جومکمل لاک ڈاؤن کی صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں، اجناس نایاب ہو چکی ہیں، ادویات ناپید ہیں اور شہری اپنے گھروں میں محصور ہیں.

جموں‌کشمیر کے مسائل، مشکلات، غلامی، جہالت، بے بسی اور بے کسی کے موجب قابض ممالک کی افواج کے مظالم ہیں اور بالعموم پورے برصغیر کے مظلوم و محکوم عوام کے مسائل کا موجب بھی انہی افواج کا جموں‌کشمیر پرغاصبانہ قبضہ اور مظالم ہیں اس لئے ہم تمام غیر ملکی افواج کے فی الفور کشمیر سے انخلاء کا مطالبہ کرتے ہیں.

لائن آف کنٹرول پر ہر دو افواج کی فائرنگ کے باعث کشمیری عوام مشکلات کا شکار ہیں، قیمتی جانیں ضائع ہو رہی ہیں، مال و اسباب برباد کیا جا رہا ہے جبکہ آبادیاں‌محصور ہوکر رہ گئی ہیں، اس لئے ہم ہر دو اطراف سے کی جانے والی معصوم کشمیریوں‌پر فوجی درندگی اور فائرنگ کی بھرپور مذمت کرتے ہیں.

انہوں‌نے کہا کہ سات ستمبر کو تیتری نوٹ کراسنگ پوائنٹ پر دھرنا دیئے جانے کا ایک مقصد بھارتی مقبوضہ کشمیر میں دفعہ پینتیس اے کی بحالی ور پاکستانی مقبوضہ کشمیر اور گلگت بلتستان میں قانون باشندہ ریاست کی اصل حالت میں بحالی کا مطالبہ کرنا بھی ہو گا.

چیئرمین لبریشن فرنٹ کا پریس کانفرنس کے دوران کہنا تھاکہ سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس میں متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا کہ دوسرے مرحلہ میں تئیس اکتوبر کو مظفرآباد کی طرف لانگ مارچ کرتے ہوئے قانون ساز اسمبلی کے سامنے احتجاجی دھرنا دیا جائے گا.

مظفرآباد میں دھرنے کا مقصد پاکستان کے زیر قبضہ جموں‌کشمیر اور گلگت بلتستان کے دوخطوں میں دو خودمختار صوبوں پرمشتمل آزاد، خودمختار اور انقلابی حکومت کے قیام کا مطالبہ کرنا ہوگا جو حکومت جموں‌کشمیر کے دیگر حصوں‌کی آزادی کی جدوجہد کو منظم کر سکے اور آزادی کی تحریک کو آزادانہ طورپر آگے بڑھا سکے.

انہوں‌نے کہا کہ مظفرآباد میں دھرنے کا مقصد پاکستانی زیر قبضہ جموں‌کشمیر بشمول گلگت بلتستان کے وسائل کا کنٹرول مقامی آبادیوں‌کو دیئے جانے اورہردو حصوں کے شہریوں‌کو تعلیم، علاج، روزگار اور دیگر بنیادی انسانی اور شہری حقوق کی فراہمی کا مطالبہ کرنا بھی ہو گا.

پریس کانفرنس میں‌چیئرمین لبریشن فرنٹ کے ہمراہ سیکرٹری جنرل سردار شعیب خان، سیکرٹری اطلاعات سردار عثمان چغتائی، ممبرسنٹرل کمیٹی عمر نذیر کشمیری، سردار ناصر جاوید سانول، سردار عبدالحمید خان، اظہر مرشد، محمد توقیر خان سمیت درجنوں دیگر عہدیداران اور ایس ایل ایف کے کارکنان و عہدیداران بھی موجود تھے.

چیئرمین لبریشن فرنٹ سردار محمد صغیر خان نے دوران پریس کانفرنس کہا کہ انکا غالب گمان ہے کہ پاکستان اور بھارت عالمی سامراج کے ہاتھوں‌ٹریپ ہو چکے ہیں اور بالخصوص جموں کشمیر اور بالعموم پورے خطے میں تباہی اور بربادی برپا ہونے والی ہے جسے روکا نہ گیا تو پورا خطہ سامراجی سازشوں‌کا گڑھ بن جائے گا اور انسانیت کا خون بہے گا.

انہوں‌نے خدشہ کا اظہارکہا کہ حالات کی خرابی کا بہانہ بنا کر اقوام متحدہ کی امن فوجوں‌کو اس خطے میں‌لایا جا سکتا ہے، امریکہ کی افغانستان سے واپسی کے بعد خطہ میں‌بالادستی قائم رکھنے کےلئے جنگ کا اگلا اکھاڑا جموں کشمیر کو بنایا جا سکتا ہے جس کا مقصد سی پیک کا راستہ روکنا ہو گا، ایسی حالت میں سامراجی دلالی کےلئے جموں‌کشمیر میں‌نام نہاد خودمختار ریاست بنائی جا سکتی ہے، لہٰذا پاکستان اور بھارت ہوش کے حکمران طبقات ہوش کے ناخن لیں اور باہم مل بیٹھ کر کشمیریوں‌کو آزادی دے کر اس خطے پر منڈلاتے خطرے سے اسے محفوظ کریں.

امریکیوں‌کے ناپاک قدموں کو اس خطے میں‌پڑنے سے روکنے کےلئے پاکستانی زیر قبضہ جموں‌کشمیر کے علاقوں‌ کو ملا کر دو خودمختار صوبوں‌پر مشتمل انقلابی حکومت قائم کی جائے، چین بھی آگے بڑھے اورپاکستان کے ساتھ ملکر اپنے زیر قبضہ علاقوں‌پر آزاد حکومت قائم کرے تاکہ اسکا اپنا منصوبہ سی پیک بھی محفوظ ہو سکے.

انہوں‌نے کہا کہ دونوں احتجاجی پروگرامات کےلئے عوامی آگاہی مہم بھرپور انداز میں‌چلائیں گے، جو لوگ ہم سے اتفاق رکھتے ہیں انہیں ہم کھلے دل سے دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے جھنڈے اوربینرز لےکر ہمارے پروگرامات میں شرکت کریں، تمام سیاسی قوتوں کو بھی ہم بھرپور شرکت کی دعوت دیتے ہیں.

ایک سوال کے جواب میں سردار محمد صغیر خان ایڈووکیٹ نے کہاکہ پیپلز نیشل الائنس جو کہ اس خطہ کی ترقی پسند اور قوم پرست قوتوں پر مشتمل اتحاد بنایا گیا ہے اس میں لبریشن فرنٹ بھرپورانداز میں شامل ہے، ہمارے یہ دو پروگرامات پہلے سے اعلان کردہ تھے اس لئے ان کی وجہ سے پی این اے کے کام میں‌کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہیں‌ہو گی، ہم پیپلز نیشنل الائنس میں‌شریک تمام سیاسی قوتوں کو بھی کہیں‌گے کہ وہ بطور پی این اے ان پروگرامات کو منعقد کریں تو بھی ہمیں کوئی اعتراض نہ ہو گا.

تاہم انکا کہنا تھاکہ پی این اے کے ابھی ٹی او آرز کا تعین ہونا باقی ہے، جن نکات پر پی این اے قائم کیا گیا ہے ان نکات پر لبریشن فرنٹ پی این اے کے پلیٹ فارم سے بھرپور قوت کے ساتھ طے کردہ پروگرامات میں شرکت کریگی، لیکن اتحاد میں شامل تمام تنظیمیں اپنے تنظیمی پروگرامات کرنے میں‌ آزاد بھی ہیں.

پریس کانفرنس کے اختتام پر متحدہ کشمیر پیپلز نیشنل پارٹی کے سرکردہ رہنما غضنفر حنیف نے چیئرمین لبریشن فرنٹ کے ہمراہ صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے لبریشن فرنٹ میں باضابطہ شمولیت کا اعلان کیا. لبریشن فرنٹ کے رہنماؤں نے یو کے پی این پی سے مستعفی ہو کر فرنٹ میں شامل ہونے پر غضنفر حنیف کو خوش آمدید کہا.

اپنا تبصرہ بھیجیں