انٹرنیٹ سروس کی بندش سے کشمیری خاندان باہمی رابطوں کیلئے پریشان

بھارتی کشمیر میں جاری فون اور انٹرنیٹ سروس کی بندش کے باعث جنگ بندی لائن کے آرپار ہزاروں کشمیری رابطوں کی بحالی کیلئے پریشان ہیں۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے سرحدی قصبہ چناری کے اعجاز میر ان منقسم خاندانوں میں شامل ہیں جن کا بھارتی کشمیر میں فون اور انٹرنیٹ پر پابندی کی وجہ سے رشتہ داروں سے رابطہ نہیں ہو رہا۔

اعجاز میر کی اہلیہ کا تعلق بھارتی کشمیر کے گرمائی دارالحکومت سرینگر سے ہے جو اپنی دو بیٹیوں کے ہمراہ 11 جون کو دو ماہ کیلئے اپنے والدین سے ملنے سرینگر گئی تھیں۔

بھارتی کشمیر میں جاری کرفیو کی وجہ سے نہ وہ واپس آ سکتی ہیں اور نہ ہی ان کا اپنے شوہر سے رابطہ ہو رہا ہے۔

اعجاز میر بتاتے ہیں کہ 4 اگست کو آخری بار اہلیہ اور بیٹی سے فون پر بات ہوئی تھی۔

بھارتی کشمیر کے حکام کی طرف سے کہا گیا ہے کہ وادی کشمیر کے بعض علاقوں میں لینڈ لائن ٹیلی فون سروس بحال کی جا رہی ہے۔

اعجاز میر بتاتے ہیں کہ ابھی تک ان کا کسی ذریعے سے بھی رشتہ داروں سے رابطہ نہیں ہو رہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ بھارتی کشمیر میں بہت کم لوگ لینڈ لائن فون استعمال کرتے ہیں۔ اس کی بحالی سے کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا۔ عوام کی اکثریت وہاں موبائل فون استعمال کرتی ہے۔

اعجاز میر بتاتے ہیں کہ انہوں نے ممبئ میں موجود ایک رشتہ دار کو سرینگر بھج کر اپنی بیوی اور بچوں کی خیریت دریافت کرائی۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان منقسم جموں و کشمیر کے دونوں حصوں میں عشروں سے جدا ہزاروں خاندان آباد ہیں جو موبائل فون اور انٹرنیٹ کے ذریعے چلنے والی سماجی رابطوں کی ویب سائٹس فیس بک اور واٹس ایپ کے ذریعے آپس میں رابطوں میں رہتے ہیں۔

لیکن بھارتی حکومت کی طرف سے پانچ اگست کو بھارتی آئین کے تحت جموں و کشمیر کو حاصل خود مختاری ختم کرنے کے ساتھ ہی انٹرنیٹ اور فون سروس بھی بند کر دی گئی جس کی وجہ سے منقسم رشتہ داروں کے درمیان رابطے ختم ہو گئے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں