بھارتی کشمیر: کرفیو میں نرمی کی کوشش پر فورسز اور مظاہرین کے مابین جھڑپیں، پابندیاں‌دوبارہ عائد

انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے دارالحکومت سری نگر میں مظاہرین اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان مزید جھڑپوں کے بعد وادی اور دیگر علاقوں میں دوبارہ پابندیاں سخت کر دی گئی ہیں۔

بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق گزشتہ دس دن سے مواصلات پر کڑی پابندیوں میں ہفتے کو اس وقت نرمی کر دی گئی تھی جب جزوی طور پر ٹیلی فون سروس کھول دی گئی تھی۔

سری نگر شہر اور مضافات کے علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کے ساتھ مظاہرین کی جھڑپوں کی اطلاعات موصول ہوئی تھیں۔

دو ہفتے قبل نریندر مودی کی طرف سے کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کرنے کے اعلان کے بعد سے تقریباً پوری ریاست پر غیر اعلانیہ کرفیو نافذ ہے اور ریاست کا پوری دنیا سے انٹرنیٹ اور فون کے ذریعے رابطہ منقطع ہے۔

چار ہزآر لوگ گرفتار
انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنے کے یک طرفہ فیصلے کے خلاف ممکنہ عوامی رد عمل کے خوف کے پیش نظر حکام نے ہزاروں افراد کو حراست میں لے لیا تھا۔

فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی نے سرکاری ذرائع کے حوالے سے کہا ہے کہ پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت اب تک چار ہزار سے زیادہ افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ اس متنازع قانون کے تحت حکام کسی بھی شخص کو کم از کم دو سال تک مقدمہ چلائے بغیر حراست میں رکھ سکتے ہیں۔

اے ایف پی نے ایک مجسٹریٹ جس کا نام ظاہر نہیں کیا گیا کے حوالے سے بتایا کہ زیادہ تر افراد کو ریاست سے باہر منتقل کر دیا گیا کہ کیونکہ ریاست میں حکومتی حراستی مراکز اور قید خانوں میں گنجائش باقی نہیں رہی تھی۔

اس مجسٹریٹ نے بتایا کہ انھوں نے سرکاری سٹلائٹ فون استعمال کر کے مختلف علاقوں سے یہ اعداد و شمار اکھٹے کیے ہیں۔

اسی دوران لکڑی کا کام کرنے والے ایک مقامی تاجر صدیق خان کے خاندان والوں نے بتایا کہ وہ آنسو گیس کی وجہ سے دم گھٹنے سے ہلاک ہو گئے ۔

صدیق خان کے بھتیجے مدثر احمد نے بتایا کہ سکیورٹی فورسز نے ان کے گھر کو نقصان پہنچایا اور جب ان کے چچا صدیق خان باہر نکلے تو آنسو گیس کی شدید شیلنگ کی وجہ سے دم گھٹنے سے ہلاک ہو گئے۔

حکومت کے خلاف مظاہروں کے دوران ایک اور لڑکے نے گرفتاری سے بچنے کے لیے دریا میں چھلانگ لگا دی اور وہ ڈوب کر ہلاک ہو گیا۔

حکام کی طرف سے حراست میں لیے گئے افراد کی تعداد کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا رہا سوائے ان سو کے قریب سیاسی رہنماوں کو جنہیں آئین کی شق 370 کو ختم کرنے کے حکم سے پہلے یا فوری بعد گرفتار کر لیا گیا تھا۔

گرفتار کیے جانے والوں میں سابق وزیر اعلی محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ بھی شامل ہیں جبکہ فاروق عبداللہ کو نظر بندی کا سامنا ہے۔ گزشتہ بیس برس میں یہ پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ شیخ عبداللہ کے سیاسی وارثوں کو بھی گرفتار یا نظر بند کیا گیا ہو۔

جموں اور کشمیر کی حکومت کے ترجمان روہت کنسال نے اس سے قبل کہا تھا کہ گرفتار کیے جانے والوں کے بارے میں کوئی تعداد نہیں بتائی جا سکتی۔ لیکن اے ایف پی نے سری نگر میں بہت سے سرکاری اہلکاروں سے بات کی جن میں پولیس اور سکیورٹی حکام شامل ہیں اور انھوں نے وسیع پیمانے پر گرفتاریوں کی تصدیق کی۔

ایک پولیس اہلکار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ سری نگر میں مختلف جگہوں پر حراست میں لیے جانے کے بعد چھ ہزار افراد کا طبی معائنہ کرایا گیا۔

انھوں نے بتایا کہ ان لوگوں کو پہلے سری نگر کی مرکزی جیل لے جایا گیا اور بعد میں انھیں فوجی طیاروں کے ذریعے ریاست سے باہر منتقل کر دیا گیا۔

سری نگر کے فوجی ہوائی اڈے کے قریب رہنے والوں نے بتایا کہ رات کے وقت بے شمار فوجی طیاروں کی پروازیں ہوتی ہیں۔

ایک اور سکیورٹی اہلکار نے بتایا کہ ہزاروں کو قید کیا گیا ہے لیکن اس تعداد میں وہ لوگ شامل نہیں ہیں جو تھانوں میں زیرِ حراست ہیں۔

گرفتار شدہ افراد کے اہلِخانہ اس خوف سے بات کرنے سے گریز کر رہے ہیں کہ کہیں ان کا جو رشتہ دار گرفتار ہے اس پر تشدد نہ شروع کر دیا جائے۔

سری نگر کے ایک مقامی نے اے ایف پی کو بتایا کہ ایک دکاندار کو اس وجہ سے گرفتار کر لیا گیا کیونکہ پولیس کو اس پر یہ اعتراض تھا کہ وہ باتیں بہت کرتا ہے۔

سری نگر میں غیر اعلانیہ کرفیو میں سختی
حکام نے اتوار کو دوبارہ نقل و حرکت اور مواصلات پر پابندیوں میں سختی کر دی ہیں۔ اس سے قبل انھوں نے سری نگر اور دیگر علاقوں میں لگاو پابندیوں کو نرم کرنے کا اعلان کیا تھا۔

انڈیا کی سرکاری خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق ہفتے کو سری نگر اور گرد و نواح کے علاقوں میں درجنوں مقامات پر لوگوں نے احتجاج کیا اور پولیس پر سنگ باری کی۔

حکام نے اس سے قبل ریاست میں احتجاج کی خبروں کو دبانے کی کوشش کی تھی اور کہا تھا کہ کہیں سے کسی مظاہرے یا احتجاج کی اطلاع نہیں ملی ہے۔

ریاستی ترجمان نے ہفتے کو رات گئے اخبار نویسوں کو بتایا کہ مختلف واقعات میں آٹھ افراد زخمی ہوئے ہیں لیکن اس کے علاوہ انھوں نے کوئی تفصیل فراہم نہیں کی۔

ایک اعلی سرکاری اہلکار نے اے ایف پی کو بتایا کہ اتوار کو ٹیلی فون پر بندش ختم کر دی جائے گیا گی اور پیر سے تعلیمی ادارے کھول دیے جائیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں