راولاکوٹ کے نواحی علاقہ شمس آباد سے نوجوان کی نعش برآمد، پولیس تحقیقات کا آغاز

پاکستانی زیرانتظام کشمیرکے ڈویژنل صدرمقام راولاکوٹ کے نواحی علاقے شمس آباد سے پانی میں‌ ڈوبی ایک نوجوان کی نعش برآمد ہوئی ہے، ریسکیو 1122 اور پولیس نے مقامی آبادی کی طرف سے اطلاع ملنے پر نعش پانی سے نکال کر شیخ زید ہسپتال پہنچا دی ہے، جہاں پوسٹ مارٹم کے بعد نعش ورثاء کے حوالے کی جائے گی. پولیس نے ابتدائی رپورٹ درج کر لی ہے.

بدھ چودہ اگست کو شام ساڑھے پانچ بجے کے قریب مقامی آبادی نے شمس آباد کے مقام پر گوردوارا چھپانیدھار روڈ کے نزدیک پانی کے ایک تالاب میں‌ نعش کی موجودگی کی بابت پولیس تھانہ راولاکوٹ کو اطلاع دی، پولیس اورریسکیو 1122 کے اہلکاران فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئے، جنہوں نے وہاں سے نوجوان کی نعش کو نکالنے کے بعد بذریعہ ایمبولینس شیخ زیدہسپتال راولاکوٹ منتقل کیاہے.

ابتدائی معلومات کے مطابق نعش کی شناخت فیاض احمد ولد محمد اشرف سکنہ چھپانیدھار کے طورپر ہوئی ہے، جس کے اہل خانہ کے مطابق وہ عید کے روز سے لاپتہ تھا، عیدالاضحی کے روز بارہ اگست کو وہ نمازعیدکی ادائیگی کےلئے گھر سے نکلا لیکن واپس گھر نہ پہنچا، اسکے ورثاء تلاش میں‌مصروف تھے.

متوفی فیاض احمد کے کزن اور راولپنڈی میں پریکٹس کرنے والے قانون دان یاسر شفاعت نے روزنامہ مجادلہ سے گفتگوکرتے ہوئے بتایا ہے کہ فیاض احمد پیپلزپارٹی کے رہنما شیخ زرین کا ماموں‌زاد کزن ہے، گزشتہ عرصہ میں ڈپریشن کی وجہ سے زیرعلاج رہا ہے لیکن اب مکمل طور پر صحت یاب تھا، یاسر شفاعت کے مطابق اسکی کسی سے کوئی دشمنی نہیں تھی، نہ ہی اسکے بھائیوں‌کی کسی سے کوئی دشمنی تھی، تاہم ابھی یہ نہیں‌کہہ سکتے کہ اسکی موت کی کیا وجہ ہے، پوسٹ مارٹم رپورٹ کا انتظآر کیا جائے گا، اور پولیس کی آزادانہ تحقیقات کے بعد ہی معلوم ہو سکے گا کہ اسکی موت کی کیاوجہ ہے.

یاسرشفاعت کے مطابق متوفی فیاض احمد چار بھائیوں‌میں سب سے چھوٹا تھا، اس کے دیگر تین بھائی جن میں ریاض احمد، اعجاز احمد اور مسعود احمدشامل ہیں بیرون ملک ملازمت کرتے ہیں.

اپنا تبصرہ بھیجیں