کشمیر میں سخت پابندیوں میں عید کے موقع پر حالات پرامن

انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں سخت سکیورٹی کے سائے میں عید الاضحٰی کے موقع پر کسی قسم کے پرتشدد واقعات کی اطلاعات موصول نہیں ہوئی ہیں۔

انتطامیہ نے نماز اور قربانی کے لیے جموں و کشمیر میں کرفیو اور پابندیوں میں نرمی کی تھی۔ نماز کی ادائیگی کے بعد پابندیاں دوبارہ نافذ کر دی گئی ہیں۔

یاد رہے کہ فون اور انٹرنیٹ کی سروس معطل ہونے کی وجہ سے عام افراد اپنے رشتہ داروں سے رابطہ نہیں کر پا رہے ہیں اور نہ ہی انھیں معلومات تک رسائی حاصل ہے۔

حکومت کے ترجمان چیف سکریٹری روہت کنسل نے سری نگر میں ایک نیوز کانفرنس میں بتایا کہ ’عید کی نماز اپنے مقررہ وقت پر سری نگر، بانڈی پورہ، بارہمولہ، کپواڑہ، ترہگام، بڈگام، سوپور، کلگام، شوپیاں، پلوامہ، اونتی پورہ، اننت ناگ جموں اور دورس سبھی شہروں اور قصبوں میں روایتی مذہبی جوش وخروش کے ساتھ منائی گئی۔‘

انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں سخت پابندیوں میں مقامی مساجد میں عید کی نماز ادا کی گئی: بی بی سی اردو کے نامہ نگار ریاض مسرور کی سرینگر سے رپورٹ

Posted by BBC URDU on Monday, August 12, 2019

یاد رہے کہ کشمیر میں بی بی سی کے نامہ نگاروں کے مطابق عید کے موقع پر سری نگر میں مرکزی جامع مسجد میں عید کی نماز ادا کرنے کی اجازت نہیں تھی اور شہریوں نے اپنے محلوں کی مقامی مسجدوں میں عید کی نماز ادا کی۔

وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ ’کسی بھی جگہ سے کسی ناخوش گوار واقعے کی کوئی خبر نہیں آئی ہے۔‘

قربانی کے لیے پابندیوں کے باوجود جانوروں کی فروخت کا انتظام کیا گیا تھا۔

فون اور انٹرنیٹ پر پابندیوں کے سبب مختلف مقامات پر لوگوں کے لیے 300 ٹیلی فون بوتھوں کا انتظام کیا گیا تھا جہاں سے لوگوں نے اپنے رشتے داروں سے بات کی۔

نماز کے دوران قومی سلامتی کے مشیر اجیت کمار ڈوبال نے سری نگر، بارہمولہ، بڈگام، آونتی پورہ اور کئی دیگر علاقوں کا فضائی جائزہ لیا۔

بی بی سی کے عامر پیرزادہ کی اس رپورٹ میں دیکھیے کہ آج عید کے دن سرینگر میں کیا صورتحال رہی۔

Posted by BBC URDU on Monday, August 12, 2019

کشمیر پولیس کے انسپکٹر جنرل سویم پرکاش نے عید کے موقع پر صورتحال پر امن رہنے کے لیے شہریوں کا شکریہ ادا کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ بعض ٹوئٹر اکاؤنٹس کے ذریعے وادی کی صورتحال کے بارے میں ’گمراہ کن اور جھوٹی باتیں‘ پھیلائی جارہی تھیں جنھیں بند کرنے اور ان کے خلاف قانونی کارروائی کے لیے کہا گیا ہے۔

حکومت کے ترجمان چیف سکریٹری روہت کنسل نے کہا کہ مقامی حالات کے مطابق پابندیوں میں نرمی کا فیصلہ کیا جاتا ہے اور جس حد تک ممکن ہو اس میں نرمی کی جاتی ہے اور یہ ایک مسلسل عمل ہے اور جیسے جیسے صورتحال بہتر ہوگی اسی کی مناسبت سے پابندیوں میں نرمی کی جائیگی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں