بیت المقدس: عیدالاضحیٰ کے اجتماع پر اسرائیلی پولیس کی شیلنگ، درجنوں افراد زخمی ہو گئے

یروشلم میں عید الاضحیٰ کے دن فلسطینی مسلمانوں اور اسرائیلی پولیس کے درمیان جھڑپوں میں 65 افراد زخمی ہو گئے۔

امدادی تنظیم ریڈ کریسنٹ کے مطابق ان جھڑپوں میں زخمی ہونے والوں میں 61 فلسطینی جبکہ چار اسرائیلی پولیس اہلکار شامل تھے۔

اتوار کی صبح ہزاروں فلسطینی مسلمانوں نے مسجد اقصیٰ میں نماز عید ادا کی۔ اس موقع پر بڑی تعداد میں خواتین اور بچے بھی عید کی خوشیاں منانے مسجد اقصیٰ کے اجتماع میں شریک ہوئے۔


فلسطینی مسلمانوں اور اسرائیلی پولیس میں جھڑپیں اس وقت شروع ہوئی جب فلسطینی مسلمان عید کے نماز پڑھنے کے مسجد اقصیٰ میں موجود تھے اور یہودی قدامت پسند وہاں اپنی مذہبی رسومات ادا کرنے پہنچے تھے۔

کیونکہ اس برس عید الاضحٰی یہودیوں کے مذہبی تہوار ’ تیشابےِ او‘ جشن کے ساتھ ہو رہی ہے جس وجہ سے یہودی عبادت گزاروں نے مزار میں داخل ہونے کی کوشش کی۔


یہودیوں کے ایک گروہ نے ’نوبل مزار‘ یا ٹیمپل ماؤنٹ میں داخل ہونے کی بھی کوشش کی جہاں مسجد اقصیٰ واقع ہے۔

یہودی زائرین کے مسجد اقصیٰ کے ممکنہ دورے کے امکان کے پیش نظر سیکڑوں فلسطینی مسلمان اتوار کے روز علی الصبح مسجد اقصیٰ کے مغربی احاطے کے دروازے پر جمع ہوئے، کیونکہ یہودی عام طور پر اس جگہ سے داخل ہوتے ہیں اور ان کے خلاف نعرے بازی کی۔


کشیدگی کو کم کرنے کے لیے پولیس نے ابتدائی طور پر اتوار کے روز یہودیوں کے دورے پر پابندی بھی عائد کی تھی جسے بعد میں ختم کر دیا گیا۔

اس موقع پر مسلمانوں کی جانب سے قدامت پسند یہودیوں کے مسجد اقصیٰ میں داخلے پر احتجاج اور انھیں روکنے کی کوشش میں جھڑپیں شروع ہوئی۔ جس پر اسرائیلی پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کے شیل فائر کیے۔


اس دوران متعدد خواتین اور نوجوان مسلمان مظاہرین کو اسرائیلی پولیس کے جانب سے زدوکوب اور تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

اسرائیلی میڈیا کے مطابق متعدد مسلمان نمازیوں کے ساتھ ساتھ عبادت کے لیے جانے والی یہودی بھی زخمی ہوئے ہیں۔


فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اسرائیلی پولیس کے مطابق سات افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔

حالیہ برسوں میں یہودی زائرین کی بڑھتی ہوئی تعداد کے ساتھ ساتھ مسجد اقصیٰ میں یہودیوں کو عبادت کرنے کی اجازت دینے کے مطالبے نے فلسطینیوں کو خوفزدہ کیا ہوا ہے۔


واضح رہے کہ اتوار کو پیش آنے والا واقعہ اسرائیل کے 17 ستمبر کو ہونے والے انتخابات سے صرف چند ہفتوں پہلے پیش آیا ہے۔ اس وقت اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو خطے میں امن برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔

لیکن انھیں یہودی زائرین کے لیے مقدس مقام کھولنے پر انتہائی دائیں بازو کے سیاستدانوں کے دباؤ کا بھی سامنا کرنا پڑا

اپنا تبصرہ بھیجیں