پاکستانی زیر انتظام کشمیر میں ترقی پسند و قوم پرست جماعتوں پرمشتمل پیپلز نیشنل الائنس قائم، راجہ ذوالفقار چیئرمین نامزد

پاکستانی زیر انتظام کشمیر کی ترقی پسند اورقوم پرست جماعتوں اورطلبہ تنظیموں پر مشتمل جموں کشمیر پیپلز نیشنل الائنس قائم کر دیا گیا ہے۔

چار بنیادی نکات پر تمام جماعتوں اور طلبہ تنظیموں نے ابتدائی طورپراتفاق کرتے ہوئے جدوجہد کو سائنسی بنیادوں پر منظم کرنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے پیپلز الائنس کی کوآرڈی نیشن کمیٹی قائم کر دی گئی ہے۔

جموں کشمیر پیپلزنیشنل پارٹی کے چیئرمین راجہ ذوالفقار احمد ایڈووکیٹ کو کمیٹی کا چیئرمین، نیشنل عوامی پارٹی کے صدر سردار لیاقت حیات کو کمیٹی کا جنرل سیکرٹری، کشمیر نیشنل پارٹی کے ذونل صدر افضال سلہریاکو کمیٹی کا سیکرٹری اطلاعات اور سروراجیہ انقلابی پارٹی کے جنرل سیکرٹری سجاد افضل الائنس کو کمیٹی کا سیکرٹری مالیات نامزد کیا گیا ہے۔ گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے شفقت انقلابی کو کوآرڈی نیشن کمیٹی کا گلگت بلتستان کیلئے کوآرڈینیٹر نامزد کیا گیا ہے جو گلگت بلتستان سے سیاسی جماعتوں اور طلبہ تنظیموں کو الائنس میں باضابطہ شرکت کروانے کے حوالے سے رابطہ کاری کریں گے۔

تمام ترقی پسند اور قوم پرست جماعتوں اور طلبہ تنظیموں کا ایک ایک ممبر کوآرڈینیشن کمیٹی کا ممبر ہو گا، کمیٹی مشترکہ طور پر اتفاق رائے سے جدوجہد کو منظم کرنے کے حوالہ سے فیصلہ سازی کرے گی۔

پیپلز نیشنل الائنس کی کوآرڈی نیشن کا آئندہ اجلاس اٹھارہ اگست کو راولپنڈی میں طلب کر لیا گیا ہے جس میں الائنس کے ضابطہ اخلاق، اہداف اور موقف کو حتمی شکل دی جائے گی، مذکورہ اجلاس میں تمام ممبر تنظیموں کو تحریری طور پر الائنس کے ضابطہ اخلاق، اہداف اور موقف کے حوالے سے اپنی تجاویز
مرتب کر کے پیش کرنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔

اٹھارہ اگست کے اجلاس میں گلگت بلتستان کی ترقی پسند اور قوم پرست تنظیموں کے رہنماء بھی باضابطہ شرکت کرینگے، اسی اجلاس میں الائنس کا جھنڈا، عہدیداران کے انتخاب کا طریقہ، عہدیداران کی مدت سمیت دیگر آئینی امور کو بھی حتمی شکل دی جائیگی۔

یہ فیصلہ جات جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین سردار محمد صغیر خان کی جانب سے طلب کردہ آل پارٹیز اجلاس میں کئے گئے، راولاکوٹ کے ایک مقامی گیسٹ ہاؤس میں منعقدہ اجلاس میں ترقی پسند اور قوم پرست سیاسی جماعتوں اور طلبہ تنظیموں کے مرکزی قائدین کے علاوہ کارکنان اور رہنماؤں کی ایک کثیر تعداد نے شرکت کی۔

سینکڑوں افراد پر مشتمل اس اجلاس سے سردار محمد صغیر خان ایڈووکیٹ(چیئرمین جموں کشمیر لبریشن فرنٹ)، راجہ ذوالفقار احمد ایڈووکیٹ(چیئرمین جموں کشمیر پیپلزنیشنل پارٹی)، سردار لیاقت حیات خان (مرکزی صدر نیشنل عوامی پارٹی)، سردار رؤف کشمیری(سپریم ہیڈ لبریشن فرنٹ (رؤف))، سجاد افضل (جنرل سیکرٹری سروراجیہ انقلابی پارٹی)، بشارت علی (سابق صدر این ایس ایف)، اظہر کاشر(رہنما نیشنل عوامی پارٹی)، رضوان کرامت(جموں کشمیر ورکرز پارٹی)، مشتاق خان(لبریشن فرنٹ شاہین)، یاسر یونس(صدر این ایس ایف آزاد)، احسن اسحاق(ایس ایل ایف آزاد)، عزیر شفقت(این ایس ایف ونگ)، رشید خان(لبریشن فرنٹ(یاسین))، راجہ یونس(کشمیر فریڈم موومنٹ)، یاسر ارشاد (آئی ایم ٹی)، مولانا فاروق خان(صدر سروراجیہ انقلابی پارٹی)، یاسین انجم(کشمیر نیشنل پارٹی)، توصیف خالق(سابق صدر این ایس ایف)،خضر اشرف(رہنما نیشنل عوامی پارٹی)،سائرس خلیل، فرمان عارف اور دیگر مقررین نے خطاب کیا۔

اجلاس میں بھارتی زیر انتظام کشمیر کے شہریوں سے آئینی اور سیاسی حقوق چھینے جانے کی شدید مذمت کی گئی اورکرفیو، فوجی جبر اور کشمیریوں کے قتل عام کی بھی شدید مذمت کی گئی، اجلاس میں کشمیریوں کی جدوجہد کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے انکے ساتھ بھرپور اظہار یکجہتی کیا گیا۔

اجلاس میں متفقہ طور پر ابتدائی طور پر چار نکاتی ایجنڈے پر احتجاجی تحریک چلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جس کاحتمی طورپر انیس اگست کو راولپنڈی میں پریس کانفرنس کے ذریعے اعلان کیا جائے گا۔

چار نکاتی متفقہ ایجنڈہ
منقسم ریاست جموں کشمیر کے تمام مقبوضہ حصوں میں سٹیٹ سبجیکٹ رول(قانون باشندہ ریاست) کی فی الفور بحالی کیلئے جدوجہد کی جائیگی۔

تینوں سامراجی افواج کے ریاست سے انخلاء کیلئے جدوجہد کو سائنسی خطوط پر استوار کیا جائے گا۔

گلگت بلتستان اور پاکستان زیر انتظام کشمیر میں دو آزاد و خودمختار صوبوں پر مشتمل آئین ساز حکومت کے قیام کیلئے جدوجہد کی جائیگی۔

بھارتی زیر انتظام کشمیر، گلگت بلتستان اور پاکستانی زیر انتظام کشمیر میں سیاسی اسیران کی فوری اور غیر مشروط رہائی اور لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے جدوجہد کی جائیگی۔

اس کے علاوہ اجلاس کے شرکاء اور کوآرڈینیشن کمیٹی کے عہدیداران نے اس عزم کا اظہار بھی کیا کہ مہنگائی، بیروزگاری، غربت، جہالت اور پسماندگی کے خلاف بھی جدوجہد کو سائنسی بنیادوں پر منظم کرنے کیلئے حکمت عملی ترتیب دی جائیگی۔ عہدیداران نے کہا کہ تمام لوگوں کو ساتھ لیکر چلیں گے، کوئی بھی فیصلے مسلط نہیں کرے گا، تمام فیصلہ جات جمہوری انداز میں تمام جماعتوں پرمشتمل کمیٹی کے ارکان کی مشاورت اور اکثریتی رائے سے کئے جائیں گے۔ تمام پارٹیاں برابری کی سطح پر اس الائنس میں شامل ہونگی، تعداد، پسند نا پسند یا کسی دیگر وجہ سے کسی کو کسی دوسرے پر برتری نہیں دی جائے گی۔
اگلے مرحلہ میں ضلعی، تحصیل اور یونین کونسل کی سطح تک کی کوآرڈی نیشن کمیٹیاں تشکیل دی جائیں گی۔ جو گراس روٹ لیول سے جدوجہدکو منظم کریں گی اور عام عوام کو ساتھ ملاتے ہوئے عوامی طاقت کی بنیاد پر سیاسی جدوجہد کو منظم کیا جائے گا، عوامی طاقت ہی کی بنیاد پر اپنے تمام تر اہداف کو حاصل کیا جائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں