طارق فاروق کا ماضی کی غلطیوں‌کی طرف اشارہ: لگتا ہے کارکن لے دیکر راضی ہوگئے

پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر میں قائم پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت کے وزیر حکومت حکومت چوہدری طارق فاروق نے ایک ٹویٹ کے ذریعے اس وقت سے ڈرنے کا انتباء کیا ہے کہ جب پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر کے قائدین بھی یہ کہنا شروع کر دیں گے کہ خدانخواستہ ان کے بزرگوں سے غلطی ہوئی ہے۔

طارق فاروق نے نو اگست کو اپنے ٹویٹر ہینڈل سے کی گئی ٹویٹ میں کہا کہ ”اس وقت سے ڈریں! جب عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی کی طرح آزاد جموں و کشمیر کے لیڈر بھی یہ تسلیم کرنا شروع نہ کر دیں کہ ہمارے بزرگوں سے خدا نخواستہ غلطتی ہوئی تھی“
طارق فاروق نے اپنے ٹویٹ میں وزیراعظم فاروق حیدر، معروف پاکستانی اینکر پرسن حامد میر، بٹرپاکستان کے نام سے چلنے والے ایک ٹویٹر ہینڈل اور سابق وزیر اعظم سردار عتیق احمد خان کو ٹیگ کر رکھا تھا۔

واضح رہے کہ بھارت کی جانب سے کشمیر سے متعلق آئین کے آرٹیکل 370کی تنسیخ (جس کے بعد جموں کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کر دیا گیا اور بھارتی زیر انتظام جموں کشمیر اورلداخ کو الگ الگ یونین کے علاقے قرار دیکر بنیادی آئینی اورسیاسی حقوق چھین لئے گئے) کے بعد سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے یہ بیان دیا تھا کہ ان سے ماضی میں دو قومی نظریہ کی بنیاد پر پاکستان سے الحاق نہ کرنے کی غلطی سرزد ہوئی ہے۔ جس کا اندازہ بھارت کے غیر جمہوری اقدام کی وجہ سے ہوا ہے۔ جبکہ سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ بھی بھارت سے ریاست کے الحاق کے فیصلہ کو تنقید کا نشانہ بنا کر آزادی رہنے کو ترجیح دینے جیسا بیان دے چکے ہیں۔

وزیر حکومت کو ٹویٹر صارفین نے مختلف جوابات دیئے
مسعود الحق نامی ٹویٹر صارف نے کہا کہ کشمیری نوجوان تو پہلے سے ہی یہ کہہ رہا ہے، البتہ وہ وقت جلد آنے والا ہے جب لیڈرشپ بھی اسکا اظہار شروع کر دے گی۔


ذوالفقار سدوزئی نامی صارف نے وزیر حکومت کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ”زبردست بلکہ صحیح ترجمانی کی کشمیریوں کی آپ نے“


سٹوئیک نامی ٹویٹر صارف نے کہا کہ جتنی کرپٹ آزادکشمیر حکومت ہے، صاف لگتا ہے پاکستان کے سوا ان کا کہی گزارا نہیں۔


یاسر نذیر نامی ٹویٹر صارف نے لکھا کہ کشمیر پر حکومت جعلی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے یہ بھول گئی کہ بھارت کو خوش کرنے کیلئے کرتار پور کوریڈور کھولنے کا کام پوری تندہی سے جاری ہے۔ یاسر نذیر نے کردار پور کی تصویر بھی ٹویٹر پر شیئر کی۔


توقیر نامی ٹویٹرصارف نے سخت لہجہ اپناتے ہوئے کہا کہ کہ ”ناچ نہ جانے آنگن ٹیڑھا۔ آپ جیسے خود ساختہ لیڈر کب سے ہمارے فیصلے کرنے لگے، خاندانی نوکر مت بنیں اور سوچ سمجھ کر بات کیا کریں، ہم کشمیری اس لیڈری کا نشنہ اتارنا بھی جانتے ہیں“


محمد عثمان نامی ٹویٹر صارف نے کہا کہ”چوہدری صاحب آپ کی ٹویٹ بہت کچھ کہہ رہی ہے۔ کشمیری قیادت کو سوچنا ہو گاکہ انہوں نے کیا کرنا ہے۔ اب تک کوئی روڈ میپ یا کوئی واضح پیغام نظر نہیں آیا۔


شاہدہ جرال نامی صارف کا کہنا تھا کہ ”آپ کو نہیں لگتا ہماری لیڈڑشپ کو اپنے محاسبے کی ضرورت ہے، جب تک اپنے گریبان میں جھانکے بغیر ہم دوسروں کو کھنگالتے رہیں گے، تب تک بہتری کی امید رکھنا بے وقوفی ہے۔


شاہد رضا نامی ٹویٹر صارف نے وزیر حکومت کی ٹویٹ کو پاکستان کی اندرونی سیاست سے جوڑتے ہوئے کہا کہ ”آپ کو بھی یاد تب آئی جب ماشاء اللہ ایک وقت راجہ صاحب کو بھی یاد آئی تھی۔ جب نوازشریف کو جیل میں قید کیا گیا تھا۔ اب مریم بی بی۔۔ جس کا جتنا ظرف وہ اتنی بات کرے گا۔ کرو کرپشن اور بد عنوانی کشمیر کا نام لے کر۔
ایک اور ٹویٹ میں شاہد رضا نے کہا کہ ”کارکن کو عزت دینے والے اب کہا ں چلے گئے، لگتا ہے کارکن لے دے کر راضی ہو گئے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں