سٹیٹ سبجیکٹ رول کا خاتمہ جموں کشمیر اور گلگت بلتستان کے عوام کی تذلیل ہے، قراقرم نیشنل موومنٹ

ممتاز حسین ایڈووکیٹ، چیف ارگنائزر قراقرم نیشنل موومنٹ نے اپنے ایک بیان میں‌کہا ہے کہ قراقرم نیشنل موومنٹ 10 اگست شام 4 بجے گلگت پریس کلب میں پریس کانفرنس کرے گی۔یہ پریس کانفرنس مسلہ کشمیر اور مودی حکومت کی جانب سے ارٹیکل 370اور 35 اے کی منسوخی کے متعلق ہو گی۔قراقرم نیشنل موومنٹ جموان کشمیر میں بھارتی بربریت کی بھرپور مذمت کرتی ہے۔اقوام متحدہ کی قراداد ہندوستان اور پاکستان کو اس کی پابند بناتی ہے کہ کوئی بھی فریق تنہا اس مسئلہ میں کوئی تبدیلی نہیں کر سکتا۔لہذا آرٹیکل 370 اور 35Aمیں کسی قسم کی بھی تبدیلی اقوام متحدہ کی قراداد کی خلاف ورزی ہو گی۔ جموں کشمیر کے لوگوں کی اس عمل میں تذلیل کی جارہی ہے۔ یہ جموں کشمیر کے لوگوں کی توہین ہے۔ جس طرح نامور قیادت کو گرفتار کیا گیا اس سے ہندوستانی حکومت تمام سیاسی آوازوں کو ختم کرنا چاہ رہی ہے۔
شروع دن سے ہی کشمیر کی لیڈرشپ کو بتدریج انداز میں دبا دیا گیا جس سے آج کشمیر کو قابو کرنا مشکل ہو رہا ہے۔ آغاز سے ہی شیخ عبداللہ کی حکومت کو ایک کو کے ذریعے معزول کیا گیا اور آج بھی یہ ریت جاری ہے جس کی مثال یہ ہے کہ آج کشمیر کا گورنر کہہ رہا ہے کہ اسے کشمیر کے حالات کے بارے کوئی علم نہیں۔
اسی طرح پاکستان کی جانب سے قراقرم (گلگت بلتستان)سے سٹیٹ سبجیکٹ رول کا خاتمہ بھی اقوام متحدہ کی قراداد کی خلاف ورزی ہے۔ مودی حکومت جموں کشمیر سے آرٹیکل 370 اور 35Aکو ختم کر کہ جموں کشمیر کی خصوصی حالت کو کیوں ختم کرنا چاہ رہی ہے جبکہ ہندوستان میں دیگر کچھ ریاستوں کو بھی الگ حیثیت حاصل ہے جن میں۔
371Aناگالینڈ
371Bآسام
371Cمنی پور
371Dآندھرا
371Eسیکم
371Gمائزورم
371Hارونچل
371Iگوا
شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ہماچل پردیش میں بھی مقامی باشندے کے علاوہ کوئی زمین نہیں خرید سکتا۔ ایسی صورتحال میں جموں کشمیر سے خصوصی حیثیت کیوں چھینی جا رہی ہے؟ قراقرم نیشنل موومنٹ مطالبہ کرتی ہے کہ رائے شماری تک قراقرم(گلگت بلتستان) میں سٹیٹ سبجیکٹ رول جبکہ جموں کشمیر میں آرٹیکل 370 و 35Aکو بحال کیا جائے۔
اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کی 47ویں قرارداد کشمیر ایشو کے بارے میں رہنمائی فراہم کرتی ہے۔سٹیٹ سبجیکٹ رول ڈوگرہ حکومت کے دور میں گلگت بلتستان میں نافذ ہوا جسکی پاکستان کی جانب سے 1974 تک خلاف ورزی کی جاتی رہی جبکہ بعدازاں بھٹو حکومت نے بھی مقامی ریاستوں کے قوانیں کو کمزور کیا اور اس کی ڈیموگرافی و بارڈرز میں تبدیلیاں کیں۔
قراقرم نیشنل موومنٹ سمجھتی ہے کہ کشمیر کے تینوں منقسم حصوں جموں کشمیر اور گلگت بلتستان کے ذمہ داران سے مشاورت کر کہ کوئی نیا قانون عمل میں لایا جائے تاکہ یہاں بسنے والی عوام کی زندگیاں محفوظ ہوں۔
ہماری تمام جرنلسٹس، وکلاء، سماجی کارکنان، قوم پرستوں اور ترقی پسندوں سے درخواست ہے کہ وہ ہماری پریس کانفرنس میں شرکت کریں اور اس مسئلہ پر لب کشائی کریں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں