مریم نواز، یوسف عباس چوہدری شوگر ملز کیس میں 12 روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے

پاکستان کے صوبے پنجاب کی دارالحکومت لاہور کی احتساب عدالت نے سابق وزیراعظم نواز شریف کی بیٹی مریم نواز اور بھتیجے یوسف عباس کو 12 دن کے جسمانی ریمانڈ پر تفتیش کے لیے نیب کی تحویل میں دے دیا ہے۔

مریم نواز اور یوسف عباس کو نیب نے جمعرات کو چوہدری شوگر ملز کیس میں حراست میں لیا تھا۔ انھیں اس وقت کوٹ لکھپت جیل سے گرفتار کیا گیا تھا جب وہ اپنے والد نواز شریف سے ملاقات کے لیے گئی تھیں۔

مریم نواز اور یوسف عباس کو جمعے کی صبح جج نعیم ارشد کی عدالت میں پیش کیا گیا اور ان کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی گئی۔

احتساب عدالت کے جج نے ریمانڈ کیلیے نیب کی درخواست پر سماعت کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا اور لگ بھگ ڈیڑھ گھنٹے کے بعد فیصلہ سناتے ہوئے نیب کی درخواست منظور کر لی اور مریم نواز اور یوسف عباس کا 21 اگست تک جسمانی ریمانڈ دے دیا۔

عدالت کا ماحول
جوڈیشل کمپلیکس میں مقدمات کے سلسلے میں سیاسی شخصیات کی پیشی ایک معمول ہے لیکن نو اگست کو سابق حکمران خاندان کے اہم ارکان کی بیک وقت عدالت پیشی جوڈیشل کمپلیکس کے اندر اور باہر ایک غیر معمولی ہلچل مچا دی۔

نیب نے مریم نواز کو لاہور کی جس عدالت میں پیش کیا اسی عدالت میں ان کے چچازاد بھائی حمزہ شہباز کو پیش کیا گیا۔

مریم کو گرفتاری کے بعد جسمانی ریمانڈ لینے کیلئے پیش کیا گیا اور سماعت کے دوران حمزہ شہباز کو رمضان شوگر ملز ریفرنس میں جوڈیشل ریمانڈ کی معیاد ختم ہونے پر پیش کیا گیا۔ حمزہ شہباز اپنی کزن مریم نواز سے ملے اور سر پر پیار دیا۔

اس موقع پر مریم نواز کے شوہر کیپٹن ریٹائرڈ صفدر اور بیٹے جنید صفدر بھی موجود تھے۔

مریم نواز کی روانگی پر کمرہ عدالت میں افراد نے ’نو ایکسٹینشن، نو ایکسٹینشن‘ کے ساتھ ساتھ مریم نواز کے حق میں نعرے لگائے۔

کمرہ عدالت میں رش کی وجہ سے شدید حبس ہوگیا. مسلم لیگ نون کے مرد اور خواتین فائلوں کو پنکھا بنا کر اس سے مریم نواز کو ہوا دیتے ریے۔

مریم نواز لگ بھگ تین گھنٹے تک احتساب عدالت میں رہیں جہاں ان کی پارٹی کے وکلا نے ان کے ساتھ سیلفیاں بھی بنائیں. احتساب عدالت کے جج نے کمرہ عدالت میں تصاویر بنانے پر ناراضگی کا اظہار کیا۔

حمزہ شہباز اپنے ریفرنس پر کارروائی مکمل ہونے کے بعد مریم نواز سے پہلے عدالت سے روانہ ہوگئے۔

حمزہ شہباز کے ساتھ ان کے والد شہباز شریف نے بھی پیش ہونا تھا لیکن پارلیمان کے اجلاس کی وجہ سے وہ پیش نہیں ہوئے۔

احتساب عدالت سب سے پہلے پہنچنے والوں میں سابق گورنر سندھ محمد زبیر بھی شامل تھے جبکہ مسلم لیگ نون کی رکن پنجاب اسمبلی حنا پرویز بٹ نے خصوصی طور پر مریم نواز کی تصویر والی قمیض پہنی۔

مسلم لیگ نون کے ایک وکیل نے مریم نواز کو ان کی گرفتاری پر بلاول بھٹو زرداری کے ردعمل والی ویڈیو بھی موبائل پر دکھائی. عدالتی کارروائی کے دوران کیپٹن ریٹائرڈ صفدر مسلم لیگ نون کے رہنماؤں سے بھی ملتے رہے۔

مسلم لیگ نون کی حکومت میں ایڈیشنل اٹارنی جنرل نصیر بھٹہ نے سماعت کے دروان نشاندہی کی کہ مریم نواز کو ان کے جلسوں کے دوران کوئی سیکیورٹی نہیں دی لیکن اب سیکیورٹی کا بہانہ بنا کر کارکنوں کو روکا جا رہا ہے۔

رانا ثناء اللہ کی پیشی
جوڈیشل کمپلیکس میں احتساب عدالت کی بغل میں واقع انسداد منشیات کی عدالت میں رکن قومی اسمبلی رانا ثناء اللہ خان کو جوڈیشل ریمانڈ ختم ہونے پر پیش کیا گیا لیکن ان کی مریم نواز سے ملاقات تو نہیں ہوئی التبہ انہوں مریم نواز کی گرفتاری کو انتقامی کارروائی قرار دیا.

مقامی میڈیا میں رانا ثنا اللہ کے خلاف منشیات کے مقدمے کو اچھی خاصی کوریج دی جاتی ہے لیکن مریم نواز کی احتساب عدالت میں پیش نے تمام تر توجہ حاصل کی۔ رانا ثناء اللہ کے مقدمہ پر کارروائی مکمل ہونے کے بعد ان کے داماد کو جوڈیشل کمپلیکس کے باہر سے گرفتار کرلیا.

جوڈیشل کمپلیکس کے باہر مسلم لیگ نون اور پولیس کے درمیان تصادم بھی ہوا۔

مریم نواز ،شہباز شریف، حمزہ شہباز اور رانا ثنا اللہ کی جوڈیشل کمپلیکس میں پیشی کے موقع پر غیر معمولی حفاظتی انتظامات کئے گئے. کنٹینر اور رکاوٹیں کھڑی کر کے جوڈیشل کمپلیکس کو جانے والے راستے بند کیے گئے۔

سماعت کے دوران احتساب عدالت کے جج کے استفسار پر نیب کے وکیل نے بتایا کہ مریم نواز چوہدری شوگر ملز کہ شیئر ہولڈر ہیں اور تحقیقات کے دوران سوالوں کے تسلی بخش جواب نہیں دے سکیں.

نیب نے واضح کیا کہ مریم نے جو شیئر 2008 میں خریدے وہ نوازشریف کو 2015 میں منتقل ہو گئے تھے۔ نیب کے مطابق یوسف عباس کا اکاؤنٹ منی لانڈرنگ کے لیے استعمال ہوا۔مریم نواز کے وکیل نے اپنی موکلہ کی گرفتاری پر اعتراض کیا اور اسے بلاجواز قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا آئین شہریوں کو تحفظ دیتا ہے اور بغیر اطلاع کسی کو گرفتار نہیں کیا جا سکتا۔

‘میں بوٹ پالش نہیں کرتی، اسے برا سمجھتی ہوں’

میں بوٹ پالش نہیں کرتی، اسے برا سمجھتی ہوں: مریم نوازلاہور میں احتساب عدالت میں پیشی کے دوران مریم نواز کی صحافیوں سے گفتگو۔

Posted by BBC URDU on Friday, August 9, 2019

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ جن بنیادوں پر گرفتاری مقصود ہوتی ہے ان کے لیے متعلقہ مواد ظاہر کرنا پڑتا ہے.احتساب عدالت نے نیب کو جسمانی ریمانڈ ختم ہونے پر مریم نواز اور یوسف عباس کو دوبارہ عدالت میں پیش کرنے کا حکم بھی دیا ہے۔

مریم نواز اور یوسف عباس کی پیشی کے موقع پر عدالت کے احاطے میں سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے تھے اور جوڈیشل کمپلیکس کو جانے والے راستوں کو رکاوٹیں اور کنٹینرز کھڑے کر بند کیا گیا تھا۔

’میں جوتے پالش نہیں کرتی اور اسے برا سمجھتی ہوں‘
اس موقع پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے مریم نواز کا اس سوال پر کہ وہ ہی آخر ہدف کیوں ہیں اور ’لوگوں‘ کو کیوں اچھی نہیں لگتیں، کہنا تھا کہ ’کیونکہ میں جوتے پالش نہیں کرتی اور میں اس کو برا سمجھتی ہوں۔ میں یہ سمجھتی ہوں کہ جو عوام کے نمائندے ہوتے ہیں ان کی عزت کی جانی چاہیے۔‘

مریم نواز نے یہ بھی کہا کہ ’حکومت چلانا عوام کے نمائندوں کا کام ہے۔ آئینی اور قانونی دائرے سے جو بھی باہر نکلے گا میں اس کے خلاف آواز اٹھاؤں گی۔ظاہر ہے باقیوں کے مفاد ہیں جو اس کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں اور وہ اپنے کسی نہ کسی مفاد کی وجہ سے نہ چاہتے ہوئے بھی ان کو اس کا ساتھ دینا پڑتا ہے۔ جو سامنے چہرہ ہے بھیانک وہ عمران خان کا ہے۔‘

جب ان سے یہ سوال کیا گیا کہ انھوں نے اپنے ساتھ کچھ ہونے کی صورت میں ریکارڈنگز سامنے لانے کا جو اعلان کیا تھا اس پر کب عمل ہو گا، مریم نواز نے کہا کہ ’وہ میں سوچوں گی۔ میرا مقصد ریکارڈنگ ریلیز کرنے کا یہ تھا کہ میں میاں صاحب کی بے گناہی ثابت کر سکوں۔‘

تاہم انھوں نے کہا کہ ’میری دعا ہے کہ انھیں منظر عام پر نہ لانا پڑے۔‘

مریم نواز کا کہنا تھا کہ ان کے پاس جو ریکارڈنگز موجود ہیں وہ ’موجودہ ججوں کی ہیں اور لوگوں کی بھی ہیں اور اداروں کی بھی ہیں۔‘

خیال رہے کہ مریم نواز نے گرفتاری سے قبل گذشتہ چند ہفتوں کے دوران پنجاب کے مختلف شہروں میں بڑے عوامی جلسوں سے خطاب کیا تھا جس میں وہ لگاتار حکومت پر تنقید کرتی رہیں۔

چوہدری شوگر ملز کیس ہے کیا؟
نیب مریم نواز کو چوہدری شوگر ملز کیس میں تحقیقات کے لیے طلب کرتا رہا ہے۔ وہ 31 جولائی کو نیب میں اس معاملے میں پیش ہوئی تھیں جہاں تین رکنی ٹیم نے 45 منٹ تک ان سے تفتیش کی تھی۔ اس پیشی کے بعد نیب کے مطابق انھیں ایک نیا سوالنامہ بھی دیا گیا تھا۔

شریف خاندان کے اراکین حسن نواز، حسین نواز اور مریم نواز چوہدری شوگر ملز میں مبینہ شراکت دار کی حیثیت سے منی لانڈرنگ کے الزامات کے تحت تفتیش کا سامنا کررہے ہیں۔

اس کیس میں شریف خاندان پر چوہدری شوگر ملز میں سنہ 2001 سے 2017 کے درمیان غیر ملکیوں کے نام پر اربوں روپے کی بھاری سرمایہ کاری اور انھیں لاکھوں روپے کے حصص دینے کا الزام ہے۔

نیب کیس کے مطابق غیر ملکیوں کے نام پر حصص متعدد مرتبہ مریم نواز، حسین نواز اور نواز شریف کو بغیر کسی ادائیگی کے واپس کیے گئے جس سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ کمپنی میں بھاری سرمایہ کاری کے لیے غیر ملکیوں کا نام اس لیے بطور پراکسی استعمال کیا گیا کیوں کہ شریف خاندان کی جانب سے سرمایہ کاری کے لیے استعمال کی جانے والی رقم ‘وائٹ منی’ نہیں تھی۔

مذکورہ شوگر ملز کے مالکان کے خلاف شواہد مبینہ طور پر شہباز شریف اور ان کے بیٹے حمزہ اور سلمان شہباز کی منی لانڈرنگ اور آمدن سے زائد اثاثوں کی تحقیقات میں سامنے آئے تھے۔

نیب کے مطابق مریم نواز اور چوہدری شوگر ملز کے دیگر مالکان کی مبینہ طور پر لاکھوں روپے کی ٹیلی گرافک ٹرانسفرز (ٹی ٹیز) کا سراغ لگایا گیا ہے۔

خیال رہے کہ ماضی میں قومی احتساب بیورو نے ایون فیلڈ ریفرنس میں بھی مریم نواز کو ملزم بنایا تھا۔

نو ماہ اور 107 سماعتوں پر محیط احتساب عدالت میں جاری اس مقدمے کا فیصلہ جولائی 2018 میں آیا تھا جس کے مطابق نواز شریف، مریم نواز اور ان کے شوہر کیپٹین ریٹائرڈ صفدر کو قید اور جرمانے کی سزا سنائی گئی تھی۔

سزا سنائے جانے کے بعد وطن واپسی پر مریم نواز کو ان کے والد سمیت اڈیالہ جیل منتقل کیا گیا تھا جہاں انھوں نے تقریباً دو ماہ کا عرصہ گزارا تھا۔

اس سزا کے خلاف نواز شریف سمیت تمام ملزمان نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا جس نے ستمبر 2018 میں ان سزاؤں کو کالعدم قرار دے دیا تھا اور مریم نواز کو رہائی مل گئی تھی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں