چوہدری شوگر ملز کیس: نیب نے لیگی رہنما مریم نواز کو گرفتار کرلیا، اپوزیشن کا شدید احتجاج

قومی احتساب بیورو (نیب) نے چوہدری شوگر ملز کیس میں مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کو گرفتار کر کے نیب ہیڈکوارٹر منتقل کر دیا۔

نیب کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق مریم نواز اور یوسف عباس کو چوہدری شوگر ملز کیس میں گرفتار کیا گیا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ نیب کے حکم پر ڈاکٹرز کی ٹیم ملزمان کا طبی معائنہ کرے گی جبکہ انہیں جمعہ کو ریمانڈ کے لیے احتساب عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

قبل ازیں ذرائع کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن) کی رہنما مریم نواز کو نیب نے چوہدری شوگر ملز کیس میں آج طلب کیا تھا جہاں ان سے اس کیس سے متعلق مالیاتی امور کی تفصیلات طلب کی گئی تھیں۔

تاہم مریم نواز نے نیب کے سامنے پیش ہونے سے معذرت کی تھی اور جیل میں قید اپنے والد سابق وزیر اعظم نواز شریف سے ملاقات کے لیے چلی گئی تھیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ مریم نواز کو کوٹ لکھپت جیل میں اپنے والد نواز شریف سے ملاقات کے بعد واپس جاتے ہوئے راستے سے گرفتار کیا گیا، جس کے بعد انہیں نیب ہیڈ کوارٹرز منتقل کردیا گیا۔

مریم نواز کے نیب کے سامنے پیش نہ ہونے پر باقاعدہ ان کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے تھے اور تحویل میں لیتے ہوئے انہیں وہ وارنٹ بھی دکھائے گئے۔

جب انہیں گرفتار کیا گیا تو اس وقت بڑی تعداد میں لیگی کارکنان ان کے ہمراہ موجود تھے، جن میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔

لیگی نائب صدر کی گرفتاری کے کچھ دیر بعد نیب نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کے بھتیجے یوسف عباس کو بھی گرفتار کر لیا۔

بلاول بھٹو کا مریم نواز کی گرفتاری پر قومی اسمبلی سے واک آؤٹ
مریم نواز کو نیب کی جانب سے تحویل میں لیے جانے پر اپوزیشن اراکین نے قومی اسمبلی سے واک آؤٹ کیا، جس کے بعد اجلاس ملتوی کردیا گیا۔

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین و رکن قومی اسمبلی بلاول بھٹو زرداری نے اجلاس کے دوران خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ‘ہم نے ٹی وی پر دیکھا کہ اپوزیشن جماعت کی ایک خاتون رہنما کو اس حکومت نے گرفتار کر لیا ہے۔ ‘

جذباتی انداز میں تقریر کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ‘میرا خاندان نسلوں سے سیاست کر رہا ہے، ہم نے بہت کچھ دیکھا ہے لیکن جیسا ضیا کے دور میں ہوا ویسا ہی عمرنا خان کی حکومت میں بھی ہو رہا ہے۔’

بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ تاریخ یاد رکھے گی کہ عمران خان جو انصاف کی بات کرتا تھا اس نے نئے پاکستان میں کسی الزام کے بغیر مریم نواز کو گرفتار کیا تھا۔

چیئرمین پی پی پی نے مریم نواز کی گرفتاری پر شدید ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے قومی اسمبلی کے اجلاس سے واک آؤٹ کیا۔

اجلاس ملتوی ہونے کے بعد جب حکومتی اراکین قومی اسمبلی کے باہر میڈیا سے گفتگو کرنے کے لیے جمع ہوئے تو اس موقع پر لیگی اراکین اسمبلی بھی وہاں پہنچ گئے جہاں کارکنان نے ایک دوسرے کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔

چوہدری شوگر ملز کیس
شریف خاندان کے اراکین منی لانڈرنگ کے الزامات کے تحت چوہدری شوگر ملز میں مشتبہ شراکت دار کی حیثیت سے تفتیش کا سامنا کررہے ہیں۔

مذکورہ شوگر ملز کے مالکان کے خلاف شواہد مبینہ طور پر شہباز شریف اور ان کے بیٹے حمزہ اور سلمان شہباز کی منی لانڈرنگ اور آمدن سے زائد اثاثوں کی تحقیقات میں سامنے آئے تھے۔

نیب نے شریف خاندان اور اس سے فوائد حاصل کرنے والے افراد جس میں مریم نواز اور چوہدری شوگر ملز کے دیگر مالکان بھی شامل ہیں، کی مبینہ طور پہ لاکھوں روپے کی ٹیلیگرافک ٹرانسفرز (ٹی ٹیز) کا سراغ لگایا ہے۔

اس سے قبل چوہدری شوگر ملز کیس میں تفتیش کا سامنا کرنے والے نواز شریف کے دو بھتیجوں یوسف عباس اور عبدالعزیز عباس کو مدینہ جانے والی پرواز سے آف لوڈ کردیا گیا تھا جو نواز شریف کے مرحوم بھائی عباس شریف کے بیٹے ہیں۔

خیال رہے کہ نیب نے حال ہی میں چوہدری شوگر ملز کے حوالے سے تفتیش کا آغاز کیا تھا اور اس سلسلے میں 31 جولائی کو مریم نواز کا بیان بھی قلمبند کیا گیا تھا۔

نیب نے اس کیس میں نواز شریف سے جیل میں تفتیش کرنے کی اجازت دینے کے لیے تفتیش طلب کی تھی جسے احتساب عدالت نے مسترد کردیا تھا۔

اس ضمن میں نیب نے جب مریم نواز کو طلب کیا تھا تو انہوں نے جواباً کہا تھا کہ وہ اس تفتیش میں نیب کے احترام کی وجہ سے نہیں بلکہ اسے بے نقاب کرنے کے لیے شامل ہوں گی۔

مریم نواز 31 جولائی کو نیب حکام کے سامنے پیش ہوئیں، جہاں کمپنی کی بڑی شراکت دار کی حیثیت سے انہوں نے چوہدری شوگر ملز کی مشتبہ مالی ٹرانزیکشن کے حوالے سے 45 منٹ تک اپنا بیان ریکارڈ کروایا تھا۔

نیب میں طلبی کے بعد سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ٹوئٹ کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’نیب سے واپس آگئی، انہیں بتایا کہ خاندانی کاروبار کے حوالے سے پوچھے گئے سوالات اور کھربوں دفعہ دیے گئے جوابات سے ایجنڈے پر چلنے والی جے آئی ٹی بھی کچھ نہیں پا سکی‘۔

پیغام میں ان کا مزید کہنا تھا کہ ’لیکن چونکہ نیب کو لوگوں کو نشانہ بنانے اور ہراساں کرنے کے آلہ کار کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے، لہٰذا یہ مضحکہ خیز کھیل جاری رہے گا‘۔

خیال رہے کہ اس کیس میں تحقیقات کے لیے نیب نے نواز شریف کے صاحبزادوں حسن اور حسین نواز کو بھی طلب کیا تھا البتہ وہ پیش نہ ہوئے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں