کشمیر‘ تقسیمِ برصغیر کا ادھورا ایجنڈا (نامور دانشور طارق علی کی شہرہ آفاق تصنیف سے اقتباس)

طارق علی

طارق علی کی مشہور کتاب ”بنیاد پرستیوں کا تصادم“ میں شائع ہونے والی کشمیر کہانی سے اقتباس

کشمیر تقسیم کا ادھورا رہ جانے والا کام ہے۔ تقسیم کے معاہدے میں طے پایا تھا کہ برطانوی ہندوستان کے مسلم اکثریتی صوبوں میں ریفرنڈم اور الیکشن کے ذریعے فیصلہ ہو گا۔ نوے فیصد مسلم اکثریت والے صوبہ سرحد میں مسلم لیگ نے غفار خان کی قیادت میں موجود تقسیم مخالف قوتوں کو شکست دیدی۔ اس مقصد کے لئے دھمکیوں، ہیرا پھیری اور ضرورت پڑنے پرتشدد سے کام لیا گیا۔ مسلم لیگ سرحد میں دوبارہ کبھی الیکشن نہ جیت سکی اور غفار خان نے باقی زندگی کا اکثر حصہ جیل میں گزارا۔ ان کا 1980ء کی دہائی میں انتقال ہوا۔ وفات کے وقت وہ قید تھے، ان پر بغاوت کا مقدمہ تھا۔ ان کی شکست کسی حد تک اس بات کا ثبوت تھی کہ سیکولر مسلمان رہنما، چاہے کتنے ہی مقبول کیوں نہ ہوں، کٹر مذہبی پن کی بڑھتی ہوئی لہر کے آگے بے بس تھے۔ کیا شیخ عبداﷲ کشمیر کو متحد رکھ پاتے؟

آئینی طور پر کشمیر ایک ’دیسی ریاست‘ تھا یعنی اس کے مہاراجہ کو اختیار تھا کہ چاہے تو بھارت سے الحاق کرے چاہے تو پاکستان سے۔ ایسی صورت میں جہاں حکمران اور ریاستی آبادی کی اکثریت دو مختلف عقائد سے تعلق رکھتے تھے وہاں یہ توقع کی گئی کہ حکمران عوام کی خواہشات کا احترام کرے گا۔ حیدر آباد اور جونا گڑھ (اکثریت ہندو، حکمران مسلمان) کے حکمرانوں نے آئیں بائیں شائیں کی لیکن آخر کار انہوں نے ہندوستان کا انتخاب کر لیا۔ جناح نے اس توقع کے ساتھ مہاراجہ کشمیر کو قائل کرنا شروع کیا کہ وہ پاکستان کے حق میں فیصلہ کرے گا۔ شیخ عبداﷲ اس پر سخت برہم ہوئے۔ ہری سنگھ تذبذب کا شکار ہو گیا۔ 14 اگست 1947ء کی نصف شب، جب یونین جیک آخری بار اتارا گیا، الحاق کشمیر کا ہنوز فیصلہ نہیں ہو پایا تھا۔ آزادی۔ برصغیر میں اب دو فوجیں تھیں مگر دونوں کا سپہ سالار ایک انگریز افسر تھا اور دونوں فوجوں کے اعلیٰ عہدوں پر بڑی تعداد میں انگریز افسر متعین تھے، ہندوستان کے گورنر جنرل لارڈ ماونٹ بیٹن اور دونوں افواج کے کمانڈرانچیف فیلڈ مارشل آکن لک نے جناح پر واضح کر دیا تھا کہ کشمیر میں طاقت کا استعمال برداشت نہیں کیا جائے گا۔ اگر ایسا کیا گیا تو برطانیہ پاکستانی فوج میں موجود تمام برطانوی افسروں کو واپس بلا لے گا۔پاکستان نے سر تسلیم خم کر دیا۔اس ہاں کے پیچھے برطانوی فرمانبرداری کی پرانی لیگی روایت کا بھی ہاتھ تھا مگر یہاں کچھ دیگر عناصر بھی کارفرما تھے: اقتصادی بیرم برطانیہ کے ہاتھ میں تھا، مونٹ بیٹن کی اتھارٹی پر ناک بھوں چڑھائی جاتی تھی مگر اسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا تھا، پاکستانی نوکر شاہی ہنوز خود اعتمادی سے محروم تھی اور جناح ٹی بی کے ہاتھوں موت کی وادی میں اُتر رہے تھے گو ان کے عوام اس بات سے بے خبر تھے۔ علاوہ ازیں اونچے طبقے کے ہندوستانی مہاجر، پاکستان کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان ہرگز کوئی باغی نہیں تھے۔ وہ رخصت ہوتی سامراجی حکومت کے اس قدر قریب رہے تھے کہ اب اس کے منصوبوں کو سبوتاژ نہیں کرنا چاہتے تھے۔ انہیں اس خطے کی سیاست کا بھی پتہ نہیں تھا جسے اب پاکستان کہا جاتا تھا اور پنجاب میں لیگ پر غلبہ رکھنے والے جاگیردار سیاستدانوں سے بھی ان کی نہیں بنی یہ جاگیردارخود ملک چلانا چاہتے تھے اور جلد ہی لیاقت علی خان کو جان سے مروانے والے تھے، مگر فی الحال نہیں۔

اندریں حالات کشمیر کا بھی کچھ نہ کچھ تو کرنا تھا۔ فوج میں بے چینی پھیلی ہوئی تھی اور سیکولر سیاستدان بھی چاہتے تھے کہ کشمیر بطور مسلم ریاست پاکستان کا حصہ بنے۔ مہاراجہ نے بھارت کے ساتھ خفیہ مذاکرات شروع کر رکھے تھے اور جھنجھلاہٹ کے مارے‘ جناح نے برطانوی ہائی کمانڈ کی صریحاً نافرمانی کرتے ہوئے فوجی آپریشن کی منظوری دیدی۔ پاکستان کشمیر میں داخل ہو کر سری نگری پر قبضہ کرے گا۔ جناح نے پنجاب سے ایک نوجوان ساتھی سردار شوکت حیات کو آپریشن کی باگ ڈور سونپ دی۔ شوکت نے دوران جنگ بطور کپتان فوج میں نوکری کی تھی اور چند ماہ اٹلی کے ایک کیمپ میں بطور جنگی قیدی قید بھی کاٹی تھی۔ وطن واپسی پر انہوں نے بطور کمیشن افسر استعفیٰ دے کر مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کر لی۔ وہ پنجاب میں لیگ کے نسبتًا مقبول رہنماﺅں میں سے تھے، جناح کے عقیدت مند اور لیاقت کے سخت مخالف تھے جنہیں وہ نودولتیا سمجھتے، ’شیرِ پنجاب‘ کا لقب حاصل کرنے کے مشتاق تھے، ان کے حق میں یہ نعرہ کبھی کبھی عوامی جلسوں میں لگایا بھی جاتا۔ کمزور ، شیخی باز اور خوشامد پسند شوکت ایک چاکلیٹ کریم فوجی تھے۔ والد، جو پرانے پنجاب کے منتخب وزیر اعظم تھے، کی بے وقت وفات کے باعث شوکت کو نمایاں حیثیت حاصل ہو گئی۔ شوکت کا شمار ان لوگوں میں ہوتا تھا جو دوران بحران اپنی خامیوں سے دامن نہیں چھڑا پاتے۔ میں انہیں اچھی طرح جانتا تھا: وہ میرے ماموں تھے۔ ہاں البتہ ایک بات کی داد انہیں ضرور ملنی چاہئے کہ وہ لشکریوں کو استعمال کرنے کے خلاف تھے اور چاہتے تھے کہ آپریشن میں صرف ریٹائر یا حاضر سروس فوجی حصہ لیں۔ وزیر اعظم نے اس تجویز کو رد کردیا اور ان کا اصرار تھا کہ اس آپریشن میں ان کے بڑبولے مرید خاص خورشید انور بھی حصہ لیں گے۔ تمام عسکری مشوروں کے برعکس انور نے جہاد کی خاطر قبائلیوں کو بھرتی کر لیا۔ 6/13th فرنٹیئر فورس رجمنٹ (پرانے ہندوستانی اسے پفرز کے نام سے یاد کرتے ہیں) سے دو بریگیڈئیر، اکبر خان اور شیر خان، اس یلغار کی قیادت کے لئے منتخب کئے گئے۔

9 ستمبر 1947ء حملے کی تاریخ قرار پائی مگر اسے دو ہفتے کے لئے ملتوی کرنا پڑا: خورشید انور نے اسی روز اپنی شادی کی تاریخ رکھی تھی اور وہ شادی کے بعد تھوڑے دنوں کے لئے ہنی مون پر جانا چاہتے تھے۔ انور میں قابلیت کی کمی کا شکریہ کہ اس دوران ایک سینئر پاکستانی افسر بریگیڈئیر افتخار کو اس معاملے کا پتہ چلا تو انہوں نے یہ خبر پاکستانی فوج کے سی این سی جنرل میسوروی کو دیدی۔ میسوروی نے فوراًآکن لک کو مطلع کیا، اس نے مونٹ بیٹن کو بتایا اور مونٹ بیٹن کے ذریعے خبر ہندوستانی حکومت تک پہنچ گئی۔ یلغار کے منصوبے کو بہانہ بنا کر کانگرس نے نہرو کے نائب سردارپٹیل کو بھیجا کہ وہ مہاراجہ پر الحاق بھارت کے لئے دباﺅ ڈالے ادھر مونٹ بیٹن نے بھارتی فوجی دستوں کو حکم دیا کہ وہ سری نگر کے لئے ہنگامی فضائی روانگی کی خاطر تیار رہیں۔

پیچھے راولپنڈی میں انور کی ہنی مون سے واپسی ہو چکی تھی اور حملے کا آغاز ہوا۔ اہم ترین منصوبہ یہ تھا کہ سری نگر پر قبضہ کر کے ائر پورٹ کے ذریعے بھارتی آمد کو ناممکن بنا دیا جائے۔ ایک ہفتے کے اندر اندر مہاراجہ کی فوج ڈھے گئی۔ ہری سنگھ نے جموں میں اپنے محل میں پناہ لی۔ اس دوران بھارتی فوج کی گیارھویں سکھ رجمنٹ سری نگر پہنچ چکی تھی مگر شدت سے کمک کا انتظار کر رہی تھی اور شہر میں داخل نہیں ہوئی تھی۔ خورشیدانور کی کمان میں پشتون قبائلی بارہ مولا آکر رُک گئے، سری نگر یہاں سے بس کے ذریعے ایک گھنٹے کا سفر تھا، اور انہوں نے آگے جانے سے انکار کر دیا۔ یہاں انہوں نے لوٹ مار کا تین روزہ میلہ لگایا۔ گھر لوٹے گئے، مسلمان بھی نشانہ بنے اور ہندو بھی، مردوں اور عورتوں کی عصمت دری کی گئی اور کشمیر کے خزانے سے رقم چوری کی گئی۔ مقامی سینما گھر عصمت دری کا مرکز بنا دیا گیا، پشتونوں کے ایک گروہ نے سینٹ جوزف کا نونٹ پر دھاوا بول دیا جہاں مدر سپیرئر سمیت چار خاتون راہباﺅں کی عصمت دری کر کے قتل کیا گیا، وہا ں چھپے ہوئے ایک یورپی جوڑے کو بھی قتل کر دیا گیا۔ بربریت کی یہ خبریں پھیلنے لگیں تو کشمیریوں کی اکثریت اپنے ان ممکنہ نجات دہندوں کے خلاف ہو گئی۔ جب پشتون آخرکار سری نگر پہنچے تو وہ دکا نیں اور گھر لوٹنے میں اس قدر مصروف تھے کہ انہیں ائرپورٹ کی طرف نظر اُٹھا دیکھنے کی فرصت ہی نہیں تھی جس پر سکھوں کا قبضہ ہو چکا تھا۔

اسی دوران مہاراجہ نے بھارت سے الحاق کے کاغذات پر دستخط کر دیئے اور حملے کو پسپا کرنے کے لئے مدد طلب کر لی۔ بھارت نے بذریعہ جہاز دستے پہنچائے اور پاکستانیو ں کو واپس دھکیل دیا۔ ہلکی پھلکی لڑائی جارہی تاآنکہ بھارت نے اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل سے رجوع کیا جس نے جنگ بندی کروا کر ہندوستانی و پاکستانی مقبوضہ علاقوں کے درمیان لائن آف کنٹرول کھینچ دی۔ کشمیر مسلم کانفرنس کے رہنما وادی کو شیخ عبداﷲ کے ہاتھ میں چھوڑ کر خود پاکستانی مقبوضہ کشمیر میں مظفر آباد چلے آئے۔

اگر شیخ عبداﷲ بھی پاکستان کے حامی ہوتے تو بھارتی فوجی دستے شائد کچھ زیادہ نہ کرپاتے مگر شیخ عبداﷲ مسلم لیگ کو ایک رجعتی جماعت سمجھتے تھے اور ان کا یہ خدشہ درست تھا کہ اگر کشمیر پاکستان کا حصہ بن گیا تو مسلم لیگ پر چھائے ہوئے پنجابی جاگیردار ہر قسم کی معاشرتی و سیاسی تبدیلی کی راہ میں رکاوٹ بن جائیں گے۔ انہو ں نے اس شرط پر بھارت کی فوجی موجودگی کی حمایت کرنے کا فیصلہ کیا کہ کشمیریوں کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کی اجازت دی جائے گی۔ سری نگر میں ہونے والے ایک بہت بڑے عوامی جلسے میں شیخ عبداﷲ کے برابر کھڑے ہو کر نہرو نے سر عام وعدہ کیا کہ کشمیریوں کو اپنے مستقبل بارے فیصلہ کرنے دیا جائے گا۔ نومبر 1947ءمیں شیخ عبداﷲ کو ہنگامی انتظامیہ کا وزیراعظم مقرر کیا گیا۔ اس تقرری پر مہاراجہ نے بے چینی کا اظہار کیا تو نہرو نے مہاراجہ کے نام خط میں اس بات پر زور دیا کہ اس کے سوا کوئی متبادل موجود نہیں: کشمیر میں اگر کوئی کچھ کر سکتا ہے تو وہ شیخ عبداﷲ ہیں۔ مجھے ان کی راست بازی اور ذہانت پر پورا بھروسہ ہے۔ وہ معمولی معاملات میں کئی غلطیو ں کا ارتکاب کر سکتے ہیں مگر میرا خیال ہے بڑے فیصلوں کی بابت وہ ٹھیک ثابت ہوں گے۔ اگر کشمیرمیں کوئی اطمینان بخش حل ممکن ہے تو انہی کے ذریعے ممکن ہے۔

1944ء میں نیشنل کانفرنس نے آزاد کشمیر کی بابت آئین کی منظوری دی تھی، جس کی ابتدا یوں ہوتی ہے: ہم جموں اور کشمیر، لداخ اور سرحدی علاقہ جات بشمول پونچھ اور چنائی کے ضلع جات پر مبنی ریاست جموں کشمیر کے عوام مکمل برابری اور استصوابِ رائے کی بنیاد پر اپنے اتحاد کی تکمیل، اپنی اور اپنی آئندہ نسل کی جبر، غربت، ذلت و توہمات، قرون وسطیٰ کی تاریکی و جہالت سے ہمیشہ کے لئے نجات اور ایک ایسے مستقبل کے حصول کی خاطر جس میں اشیا کی فراوانی ہو گی، آزادی، سائنس اور محنت کا راج ہوگا،جو بیدار ہوتی اقوامِ مشرق اور دنیا بھر کے محنت کشوں کے شان شایان ہوگا۔ اور اس عزم کے ساتھ کہ ہم اپنے ملک کو ایشیا کے سنہرے ماتھے کا جھومر بنا دیں گے، ہم اپنی ریاست کے لئے مندرجہ ذیل آئین پیش کرتے ہیں …

1947-48ء کی جنگ نے آزادی کو ناممکن بنا دیا اور بھارتی آئین کی دفعہ 370 میں محض کشمیر کے ’خصوصی سٹیٹس‘ کو تسلیم کیا گیا۔ یہ سچ ہے کہ مہاراجہ کی جگہ مہاراجہ کے بیٹے کرن سنگھ کو غیر موروثی سربراہ ریاست مقرر کر دیا گیا مگر شیخ عبداﷲ خوش نہیں تھے کہ اب وہ بیٹھے دہلی کے سیاستدانوں سے شطرنج کھیل رہے تھے۔ انہیں معلوم تھا کہ نہرو اور گاندھی کے علاوہ ان سیاستدانوں کی اکثریت انہیں زندہ نگل جانا چاہے گی۔ جموں کشمیر کانفرنس میں کٹر مذہبیوں سے علیحدگی کے بعد سے شیخ عبداﷲ کا جھکاﺅ بائیں بازو کی طرف ہو گیا تھا۔ کشمیر کے منتخب وزیراعلیٰ کے طور پر شیخ عبداﷲ نے کئی اہم اور بڑی اصلاحات متعارف کروائیں، ان میں سے اہم ترین قانون سازی ’زمین کاشت کار کی‘ تھی جس نے جاگیرداروں کی کمر توڑ دی جن کی اکثریت مسلمان تھی۔ انہیں اجازت دی گئی کہ وہ اس شرط پر بیس ایکڑ زمین رکھ سکتے ہیں اگر وہ اسے خود کاشت کریں: 188,775 ایکڑ زمین 153,399 کسانوں میں بانٹی گئی جبکہ حکومت نے 90,000 ایکڑ پر اجتماعی فارم منظم کئے۔ ایک قانون کی منظوری کے ذریعے غیر کشمیریوں کو زمین کی فروخت پر پابندی لگائی گئی تاکہ خطے کی بنیادی ستھانک ویروا محفوظ رہے۔ درجنوں نئے سکول اور ہسپتال تعمیر کئے گئے، سری نگر میں ایک یونیورسٹی کی بنیاد رکھی گئی جس کے کیمپس بارے کہا جا سکتا ہے کہ شائد یہ دنیا کی خوب صورت ترین جگہ پر واقع ہے۔

ان اصلاحات کو امریکہ میں کمیونزم سے متاثرہ اقدام گردانا گیا اور امریکہ میں ان اصلاحات کو نئے اتحادی پاکستان کی حق میں حمایت حاصل کرنے کے لئے استعمال کیا گیا۔ امریکی پراپیگنڈے کی ایک کلاسیک مثال جوزف کو ربل کی تصنیف ‘ڈینجر ان کشمیر’ ہے۔ واشنگٹن جا بھگوڑا بننے سے قبل کوربل کشمیر میں اقوام متحدہ کے چیک نژاد ممبر تھے۔ 1954ء میں ان کی کتاب پرنسٹن نے شائع کی اور 1966ء میں جب اس کا دوسرا ایڈیشن شائع ہوا تو کوربل نے جن بہت سے عالموں کی ’بھرپور مدد‘ کا شکریہ ادا کیا ان میں رشین انسٹی ٹیوٹ آف کولمبیا یونیورسٹی کی مسنر میڈلین البرائٹ بھی شامل تھیں جو ان کی اپنی بیٹی تھی۔

1948ء میں نیشنل کانفرنس نے اس شرط پر بھارت سے ’عبوری الحاق‘ کی حمایت کی تھی کہ کشمیر کو خود مختار ری پبلک تسلیم کیا جائے گا اور محض دفاع، خارجہ امور اور مواصلات کی ذمہ داری مرکز کے سپرد ہو گی۔ ڈوگرہ اشرافیہ اور کشمیری پنڈتوں پر مبنی ایک چھوٹی مگر بااثر اقلیت نے، جسے اپنی مراعات کے چھن جانے کا خوف لاحق تھا، کشمیر کے خصوصی سٹیٹس کے خلاف مہم شروع کر دی۔ خاص بھارت میں انہیں انتہا پسند جن سنگھ (جو بھارتیہ جنتا پارٹی کی صورت نیا جنم لے کر تا دم تحریر نیو دہلی میں مخلوط حکومت چلا رہی ہے) کی حمایت حاصل تھی۔ جن سنگھ نے کشمیر حکومت کے خلاف احتجاج کے لئے رقم بھی فراہم کی اور رضا کار بھی۔ شیخ عبداﷲ، جنہو ں نے انتظامیہ کی ہر سطح پر ضرورت سے بڑھ غیر مسلموں کو کھپایا تھا، سخت سیخ پا ہوئے۔ ان کے نقطہ¿ نظر میں سختی آنے لگی۔ 10 اپریل 1952ء کو دشمنوں کے گڑھ جموں میں ایک عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ وہ کشمیر کی نیم خود مختاری سے کسی طور دستبردار نہیں ہوں گے:

”اکثر کشمیری اس فکر میں مبتلا ہیں کہ اگر پنڈت نہرو کو کچھ ہو گیا تو ان کا کیا بنے گا۔ ہمیں کچھ معلوم نہیں۔ حقیقت پسندی کا تقاضا ہے کہ ہم ہر قسم کے حالات کے لئے تیار رہیں… اگر بھارت میں فرقہ پرستی پھر سے سر اُٹھاتی ہے تو ہم کشمیری مسلمانوں کو کس طرح یہ بارو کرائیں گے کہ بھارت انہیں ہڑپ کرنے کے در پر نہیں ہے؟“

عبداﷲ کی غلط فہمی تھی کہ نہرو ان کی حفاظت کریں گے۔ مئی 1953ءمیں جب بھارتی وزیراعظم نے سری نگر کا دورہ کیا تو انہوں نے پورا ایک ہفتہ اپنے دوست کو اس بات پر راضی کرنے پر صرف کیا کہ وہ دہلی کی شرائط پر کوئی مستقل حل تسلیم کر لیں: اگر بھارت میں سیکولر جمہوریت کو بچانا ہے تو کشمیر کو اس کا حصہ بننا ہو گا۔ نہرو نے دلیل دی۔ شیخ عبداﷲ قائل نہ ہوئے: کشمیریوں کے بغیر بھی مسلمان بھارت اندر ایک بڑی اقلیت ہی رہیں گے۔ شیخ عبداﷲ کا خیال تھا کہ نہرو کو ان پر دباﺅ ڈالنے کی بجائے کانگرس کے ان سیاستدانوں پر دباﺅ ڈالنا چاہئے جو جن سنگھ کے شاﺅنسٹ مطالبات کے آگے گھٹنے ٹیک رہے تھے۔

تین ماہ بعد نہرو نے شاﺅنسٹوں کے آگے ہتھیار ڈال دیئے اور کشمیر میں اس عمل کی منظور ی دیدی جسے باقاعدہ بغاوت کہا جا سکتا ہے۔ کرن سنگھ نے شیخ عبداﷲ کو برطرف کرتے ہوئے ان کی جگہ ان کے ایک نائب بخشی غلام محمد کو وزیر اعلیٰ نامزد کر دیا۔ شیخ عبداﷲ پر الزام تھا کہ ان کے پاکستانی خفیہ اداروں سے رابطے تھے اور انہیں گرفتار کر لیا گیا۔ کشمیر پھٹ پڑا۔ عام ہڑتال ہوئی جو بیس دن جاری رہی۔ ہزاروں لوگ گرفتار ہوئے اور بھارتی دستوں نے کئی بار مظاہرین پر گولیاں چلائیں۔ نیشنل کانفرنس کا دعویٰ تھا کہ ایک ہزار لوگ ہلاک ہوئے: سرکاری اعداد وشمار کے مطابق ساٹھ افراد ہلاک ہوئے۔ اکبر جہاں کی منظم کی ہوئی زیر زمین وار کونسل نے سری نگر، بارہ مولا اور سوپور میں خواتین کے مظاہرے منظم کئے۔

ایک ماہ بعد ہنگامے ٹھنڈے پڑ گئے لیکن کشمیری بھارت سے پہلے سے بھی زیادہ بدگمان ہو گئے۔ پاکستانی مقبوضہ کشمیر میں بھی صورت حال کوئی زیادہ خوش گوار نہیں تھی اور اس حصے میں ایک خامی یہ بھی تھی کہ پرانی ریاست کا زیادہ تر بنجر حصہ اس طرف تھا۔ ناقابلِ بیاں حد تک بُرے حالات زندگی کا نتیجہ یہ نکلا کہ ایک بہت بڑی تعداد تلاش معاش کی خاطر ہجرت کر گئی۔ آج اتنے کشمیری میرپور اور مظفر آباد میں نہیں رہتے جتنے برمنگھم یا بریڈ فورڈ میں ر ہتے ہیں۔ ایک نیو لیبر نواب اور اسلام پسند کشمیری ہاوس آف لارڈز کا بھی رُکن ہے جبکہ ایک اور کشمیری نے گزشتہ برطانوی انتخابات میں ٹوری امیدوار کی حیثیت سے چناﺅ میں حصہ لیا۔

شیخ عبداﷲ جنہیں بغیر مقدمہ چلائے چار سال تک پابند سلاسل رکھا گیا، جنوری 1958ء کی ایک ٹھنڈی صبح بغیر اطلاع دیئے رہا کر دئےے گئے۔ انہوں نے سرکاری گاڑی میں بیٹھنے سے انکار کر دیا اور ایک کرائے کی ٹیکسی میں سری نگر پہنچے۔ کچھ دن بعد جو انہوں نے جلسے شروع کئے تو ملک بھر میں عوام جوق در جوق ان میں شریک ہو رہے تھے اور وہ جلسوں میں نہرو کو 1947ء میں کیا گیا وعدہ یاد دلاتے۔ ’اپنے قول سے کیوں پھر گئے ہو پنڈت جی!؟‘ شیخ عبداﷲ سوال کرتے اور حاضرین جلسہ یہ سوال دہراتے۔ بہار آتے آتے انہیں پھر گرفتار کیا جا چکا تھا۔ اب کی بار بھارتی حکومت نے انگریز دور کے قانون کا سہارا لیتے ہوئے شیخ عبداﷲ، ان کی اہلیہ اور دیگر قوم پرست رہنماﺅں کے خلاف سازش کیس کی تیاری شروع کی۔ اکبر جہاں کی گرفتاری کو نہرو نے ویٹو کردیا: اکبر جہاں کی مقبولیت کے پیش نظر انہیں گرفتار کرنا حماقت ہوتی۔ سازش کیس 1959ء میں شروع ہوا اور ایک سال سے زائد عرصہ تک چلتا رہا۔ 1962ء میں سپیشل مجسٹریٹ نے مقدمہ ان سفارشات کے ساتھ اعلیٰ عدالت میں بھیج دیا کہ ملزموں پر تغریراتِ ہند کے تحت مقدمہ چلایا جائے جس کے تحت اس مقدمہ میں پھانسی کی سزا تھی یا عمر قید کی۔

دسمبر 1963ء میں جب اعلیٰ عدالت اس مقدمے کا ہنوز جائزہ ہی لے رہی تھی کہ سری نگر میں حضرت بل سے موئے مبارک چوری ہو گیا۔ ہنگامہ کھڑا ہو گیا: ایکشن کمیٹی بنائی گئی اور پورا ملک عام ہڑتال اور مظاہروں کے ہاتھوں مفلوج ہو کر رہ گیا۔ جھلائے ہوئے نہرو نے حکم دیا کہ موئے مبارک تلاش کیا جائے۔ ہفتے کے اندر اندرموئے مبارک مل گیا۔ کیا یہ اصلی موئے مبارک تھا؟ ایکشن کمیٹی نے مذہبی رہنماﺅں سے کہا کہ وہ اس کی پڑتال کریں۔ فقیر میرک شاہ نے جنہیں ’برگزیدہ ترین ہستی‘ سمجھا جاتا تھا، پڑتال کی اور اعلان کیا کہ موئے مبارک اصلی ہے۔ بحران ٹل گیا۔ نہرو نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ مسئلہ کشمیر کا دیرپا حل تلاش کرنا چاہئے۔ نہرو نے شیخ عبداﷲ کے خلاف سازش کیس ختم کر دیا اور شیرِ کشمیر کو چھ سال بعد رہائی ملی۔ دس لاکھ لوگ جیل سے رہائی پر خوش آمدید کہنے کے لئے جمع ہوئے: نہرو نے پاک بھارت چپقلش کے خاتمے کی ضرورت پر ضرور دیا۔

کشمیر نہرو کے ضمیر پر بوجھ تھا۔ نہرو نے دہلی میں شیخ عبداﷲ سے ملاقات کی اور انہیں بتایا کہ وہ اپنی زندگی میں مسئلہ کشمیر کا حل چاہتے ہیں۔ نہرو نے تجویز پیش کی کہ وہ پاکستان کے لیڈ ر جنرل ایوب خان سے جا کر ملیں۔ اگر پاکستان شیخ عبداﷲ کے تجویز کردہ حل کو تسلیم کر لے تویہ حل نہرو کو بھی قبول ہو گا۔بطور ابتداءکے بھارت اس بات پر تیار تھا کہ سیز فائر لائن پر اشیا اور افراد کی آزادانہ نقل وحمل کی اجازت دی جائے ۔ 27 مئی 1964ء کو شیخ عبداﷲ پاکستانی مقبوضہ کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد پہنچے تو ایک بھرپور مجمع نے انہیں خوش آمدید کہا۔ وہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے کہ ایک ساتھی نے آکر آل انڈیا ریڈیو پر نہرو کی وفات کی خبر دی۔ شیخ عبداﷲ خود پر قابو نہیں رکھ سکے اور رونے لگے۔ انہوں نے تمام مصروفیات منسوخ کیں اور پاکستانی وزیر خارجہ ذوالفقار علی بھٹو کے ہمراہ بذریعہ ہوائی جہاز دہلی روانہ ہوگئے تاکہ اپنے پرانے دوست کی آخری رسومات میں حصہ لے سکیں۔

اس خدشے کے پیشِ نظر کہ نہرو کے بغیر پُر امن حل ممکن نہیں ہو گا، عبداﷲ نے دنیا بھر کا دورہ کیا تاکہ عالمی حمایت حاصل کی جائے اور دنیا کے کئی دارالحکومتوں میں انہیں اسی انداز میں خوش آمدید کہا گیا جو کسی سربراہ رےاست کے ِشایان شان ہو تا ہے۔ چینی وزیراعظم چواین لائی (انتہا پسندانہ وطن پرست بھارتی پریس کے مطابق ’Chew‘ اینڈ ’Lie‘) سے شیخ عبداﷲ کی ملاقات پر بھارت میں ہنگامہ کھڑا ہو گیا لہٰذا واپسی پر شیخ عبداﷲ کو ایک مرتبہ پھر جیل بھیج دیا گیا۔ اب کی بار انہیں اور انکی اہلیہ کو کشمیر سے بہت دور جیل میں رکھا گیا۔ ردعمل معمول کے مطابق تھا: ہڑتالیں، مظاہرے، گرفتاریاں اور چند ہلاکتیں۔

اس صورتحال سے شہ پا کر ستمبر 1965ء میں پاکستا ن نے بے قاعدہ فوج کے چند دستے اس توقع کے ساتھ بھیج دیئے کہ وہ ایک سرکشی شروع کروا دیں گے۔ پاکستان نے حسب معمول صورتحال کا غلط اندازہ لگایا تھا۔ بے چینی کا اظہار پاکستان کی حمایت نہیںتھا۔ پاکستانی فوج نے لائن آف کنٹرول یہ سوچتے ہوئے پار کر ڈالی کہ وہ کشمیر کو بھارت سے کاٹ کر رکھ دیں گے۔ فوجی قیادت خاصی پُر اعتماد تھی۔ حملے کے موقع پر خود ساختہ فیلڈ مارشل ایوب خان نے بڑھک لگائی کہ وہ لاہور کے قریب واقع ہندوستانی شہر امرتسر پر بھی قبضہ کر لیں گے تاکہ یہ سودے بازی کے ہتھیار کا کام دے سکے۔ اس موقع پر موجود ایک سینئر فوجی افسر (میرے ہی ایک اور چچا) زور سے بڑبڑائے: انہیں تھوڑی سی وہسکی اور پلاﺅ، ہم دہلی بھی لے لیں گے۔ اچانک افتاد سے پریشان بھارتی فوج کو سخت نقصان اُٹھانا پڑا۔ انہوں نے ڈرامائی انداز میں لاہور کے قریب پاکستانی سرحد عبور کر کے اس کا جواب دیا۔ جنگ جاری رہتی تو اس شہر پر قبضہ ہو چکا ہوتا مگر ایوب خان نے واشنگٹن سے مدد کی اپیل کی۔ واشنگٹن نے ماسکو سے بھارت پر دباﺅ ڈالنے کے لئے کہا اور یوں الیکسی کو سیجن کی ہشیار نظروں کے سامنے امن معاہدے پر دستخط ہوئے۔

جنگ بھٹو کی ذہنی اختراع تھی۔ ایوب خان نے، جو اندورن ملک اور بیرون ملک سر عام رسوا ہوئے، اپنے وزیر خارجہ کو فارغ کر دیا۔ بھٹو ہمیشہ سے اس حکومت کے ایک ناموزوں رُکن تھے اور ایک جرنیل کی حکومت میں شامل رہنے پر شرمندہ بھی تھے لہٰذا انہوں نے قوم پرستانہ واویلا شروع کر دیا۔ حکومتی وزیر گڑبڑ کے ڈر سے یونیورسٹیوں میں جانے سے پرہیز ہی کرتے تھے مگر کچھ سال قبل 1964ء میں بھٹو نے پنجاب یونیورسٹی لاہور میں کشمیر پر طلبہ کے ایک جلسے سے خطاب کرنے کا فیصلہ کیا اور اس جلسے میں میں بھی موجود تھا۔ وہ خوب بولے مگر ہم ملکی سیاست بارے زیادہ فکر مند تھے۔ طالب علم ایک دوسرے سے گپ لگانے لگے۔ بھٹو کو بے عزتی محسوس ہوئی۔ وہ تقریر کے بیچ رُکے اور غصے سے گھورنے لگے۔ ’آخر تم لوگ کیا چاہتے ہو؟ میں تمہارے سب سوالوں کا جواب دوں گا۔‘ میں نے ہاتھ کھڑا کیا۔ ’ہم سب کشمیر میں جمہوری ریفرنڈم کے حامی ہیں۔‘ میں نے بات شروع کی، ’مگر ہم پاکستان میں بھی جمہوری ریفرنڈم چاہتے ہیں۔ کوئی کشمیر میں جمہوریت بارے آپ کی بات کو کیسے سنجیدگی سے لے سکتا ہے جب ہمارے اپنے ہاں جمہوریت موجود نہیں؟‘

بھٹو نے مجھے غصے سے گھورا مگر اپنی بات سے نہیں ہٹے اور کہنے لگے کہ انہوں نے صرف کشمیر پر بات کرنے کی حامی بھری تھی۔ اس بات پر جلسے میں شور مچ گیا کیونکہ ہر کوئی جواب کا مطالبہ کر رہا تھا، سب نعرے لگا رہے تھے۔ ایک موقع پر بھٹو نے اپنا کوٹ اُتارا اور ایک شورشی کو باہر باکسنگ لڑنے کی دعوت دی۔ اس بات کا سب نے ٹھٹھہ لگایا اور جلسہ اچانک ختم ہو گیا۔ اس رات بھٹو باری باری ہم پر برستے جاتے اور ہر خالی ہونے والے جام کو دیوار پر دے مارتے، یہ حرکت انہوں نے ماسکو کے ایک سرکاری دورے کے دوران سیکھی تھی…

بشکریہ: روزنامہ جدوجہد


Tariq Ali

طارق علی بائیں بازو کے نامور دانشور، لکھاری، تاریخ دان اور سیاسی کارکن ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں