بھارتی آئین سے آرٹیکل 370 کا خاتمہ: کشمیر کا مسئلہ کیا ہے؟

پیر کو انڈیا کے وزیرِ داخلہ امت شاہ کی جانب سے انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کو خصوصی حیثیت دینے والی آئین کی شق 370 کے خاتمے کے بعد یہ واضح ہوگیا ہے کہ گذشتہ چند دنوں سے حکومت کی جانب سے پیدا کیے گئے غیر معمولی حالات کسی ممکنہ ردِ عمل سے نمٹنے کے لیے کیے جا رہے تھے۔
اس سے قبل، انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے گورنر ستیہ پال ملک مسلسل یہ کہتے رہے کہ کشمیر میں ‘سب کچھ نارمل ہے۔’
انڈیا بھر میں سیاسی پارٹیوں نے کشمیر کے حوالے سے سکیورٹی ایڈوائزری جاری کرنے پر حکومت سے وضاحت طلب کی تھی لیکن بی جے پی حکومت کے چند نمایاں افراد کے علاوہ کسی کو نہیں پتا تھا کہ کشمیری رہنماؤں عمر عبداللہ، محبوبہ مفتی اور سجاد لون کی نظر بندیاں کیوں عمل میں آئیں، کشمیر میں دفعہ 144 کیوں نافذ کی گئی، اور یہاں تک کہ جموں میں کرفیو کا نفاذ کیا غیر معمولی عمل نہیں؟
تاہم آج کے اقدام سے انڈیا اور پاکستان کے درمیان گزشتہ 73 سالوں سے جاری کشمیر کے تنازعے کی نوعیت تبدیل ہونے کا امکان ہے۔
برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی اردو سروس نے اس سلسلے میں‌خصوصی اشاعت کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے، قارئین کی دلچسپی کو مد نظر رکھتے ہوئے بی بی سی اردو کی ویب سائٹ پر شائع ہونے والے مواد کو ہوبہو روزنامہ مجادلہ کی ویب سائٹ پر بھی شائع کیا جا رہا ہے.
مسئلہ کشمیر ہے کیا؟
مسئلہ کشمیر کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنی کہ انڈیا اور پاکستان کی۔ دونوں ممالک اس خطے پر مکمل کنٹرول کے لیے دو جنگیں لڑ چکے ہیں جبکہ دونوں جانب سے ایک دوسرے پر لائن آف کنٹرول کے ساتھ ’بلا اشتعال فائرنگ’ کے الزامات بھی لگائے جاتے رہے ہیں۔

برِ صغیر کی تقسیم کے وقت تمام ریاستوں کو یہ اختیار دیا گیا تھا کہ وہ انڈیا یا پاکستان میں سے کسی ملک کے ساتھ الحاق کر سکتے ہیں، یا پھر آزاد رہنا چاہیں تو آزاد رہ سکتے ہیں
زیادہ تر ریاستوں کے مہاراجاؤں نے اپنی آبادی کی خواہشات کی بنا پر انڈیا یا پاکستان میں شمولیت کا فیصلہ کیا مگر کشمیر کے مہاراجہ ہری سنگھ نے اپنی مسلمان اکثریتی ریاست کے آزاد رہنے کو ترجیح دی۔
مقامی آبادی کی جانب سے بغاوت اور پاکستان کے مسلح قبائلیوں کی جانب سے دراندازی ہونے پر مہاراجہ نے لارڈ ماؤنٹ بیٹن سے عسکری امداد کی اپیل کی جو کہ انھوں نے یہ کہہ کر مسترد کر دی کہ جب تک ریاست انڈیا سے الحاق کا فیصلہ نہیں کرتی، تب تک وہ کچھ نہیں کر سکتے کیونکہ وہ اب متحدہ ہندوستان کے وائسرائے نہیں بلکہ انڈیا کے گورنر جنرل ہیں۔
نتیجتاً مہاراجہ نے 26 اکتوبر 1947 کو اپنی ریاست کے انڈیا سے الحاق کی تحریری درخواست کی جو لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے اگلے دن اس شرط کے ساتھ قبول کر لی کہ دراندازوں سے ریاست خالی ہونے پر ریاست کے مقدر کا فیصلہ عوام کی خواہشات کے مطابق کیا جائے گا۔
اس کے بعد جب انڈیا کی فوج کشمیر میں داخل ہوئی تو پاکستان کی فوج نے بھی کشمیر کے حصول کے لیے اپنی فوج یہاں داخل کردیں جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان باقاعدہ جنگ کا آغاز ہوا جو کہ 1949 تک جاری رہی۔
1949 میں جنگ بندی کے بعد پاکستان اور انڈیا دونوں کے پاس کشمیر کا بالترتیب ایک تہائی اور دو تہائی حصے کا کنٹرول رہا اور سیز فائر لائن قائم ہوئی جسے بعد میں لائن آف کنٹرول قرار دیا گیا۔
اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے 21 اپریل 1948 کو ایک قرارداد منظور کی گئی جس میں اس مسئلے کے حل کے لیے تین مرحلہ وار نکات تجویز کیے گئے۔

  • پاکستان کشمیر سے اپنے تمام شہری واپس بلوائے

  • انڈیا کشمیر میں صرف اتنی فوج رکھے جو کہ امن و امان کے قیام کے لیے ضروری ہو

  • انڈیا اقوامِ متحدہ کا نامزد کردہ رائے شماری کمشنر تعینات کرے جو ریاست میں غیر جانبدار رائے شماری کروائے

اقوامِ متحدہ کے اس پانچ رکنی کمیشن نے 1949 میں استصوابِ رائے کی شرط رکھ کر انڈیا اور پاکستان کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ طے کیا تھا۔ کمیشن میں کولمبیا، چیکوسلواکیا، برما، آرجنٹینا اور بیلجیئم کے سفیر شامل تھے
دونوں ہی ممالک کو اس پر اعتراضات تھے جن کی وجہ سے اقوامِ متحدہ کا ایک نیا کمیشن قائم ہوا۔ دونوں ممالک نے اس کمیشن کی قرارداد منظور کی مگر یہ کمیشن بھی معاملے کو کسی نتیجے پر نہ پہنچا سکا اور یوں یہ مسئلہ جوں کا توں رہا۔
1965 میں پاکستان اور انڈیا کے درمیان کشمیر پر ایک اور جنگ لڑی گئی جبکہ 1999 میں دونوں ممالک ایک مرتبہ پھر کشمیر پر کنٹرول کے لیے جنگ لڑتے نظر آئے۔
سنہ 1989 کے بعد کشمیر میں شورش کا آغاز ہوگیا۔ سنہ 2003 میں پاکستان اور انڈیا کے درمیان سیز فائر کا ایک معاہدہ ہوا اور ایل او سی کو ایک سرحد تسلیم کر لیا گیا۔
مگر سنہ 2016 میں انڈین فوج کی جانب سے جب 22 برس کے علیحدگی پسند برہان وانی کو ہلاک کر دیا گیا تو انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں بڑے پیمانے پر مظاہرے پھوٹ پڑے۔ برہان وانی کے واقعے کے بعد انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں عسکریت پسندی کی نئی مہم شروع ہوئی۔
سرینگر سے 40 کلو میٹر کے فاصلے پر برہان وانی کے جنازے میں ہزاروں افراد شریک ہوئے۔ جنازے کے بعد عوام کا سیکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپیں بھی ہوئیں جس سے مزاحمت کا ایک نیا دور شروع ہو گیا اور صرف سال 2018 میں 500 سے زیادہ لوگ لقمہ اجل بن گئے۔

آرٹیکل 35 اے کا خاتمہ متوقع تھا مگر 370 کا نہیں۔۔۔
مرزا اے بی بیگ، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دہلی

گذشتہ ہفتے سے سوشل میڈیا پر افواہوں کا بازار گرم تھا کہ انڈیا کے آئین کے تحت انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کو حاصل خصوصی پوزیشن کو ختم کیا جائے گا اور امکانی عوامی ردعمل کو روکنے کے لیے فورسز کو تعینات کیا گیا ہے۔
جمعے کی دوپہر کو یہ افواہیں بھی اُڑیں کہ انڈین حکومت نے ہندو اکثریت والے جموں خطے کو علیحدہ ریاست جبکہ کشمیر اور لداخ کو مرکز کے زیرانتظام خطے قرار دینے کا فیصلہ کیا ہے اور اس فیصلے کے ردعمل کو روکنے کے یہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
اتوار کو یہ افواہ بھی اڑی کہ کشمیری رہنما یاسین ملک کی حراست میں موت ہو گئی ہے اور اس کے پیش نظر یہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
کشمیریوں کو ہمیشہ سے یہ خدشہ تھا کہ اگر انڈیا کے آئین میں موجود آرٹیکل 35 اے اور 370 کی حفاظتی دیوار گر گئی تو وہ فلسطینیوں کی طرح بے وطن ہو جائیں گے کیونکہ پھر یہاں غیر مسلم آباد کاروں کے بسنے میں کوئی رکاوٹ نہیں رہے گی۔

نظر بندیاں، کرفیو اور بندشیں
انڈیا کے آئین میں آج کی ترمیم سے کم از کم ایک ہفتہ قبل ہی جموں و کشمیر میں رہنماؤں کی نظربندیاں اور اضافی نفری کی تعیناتی شروع ہوچکی تھی۔
جموں اور کشمیر کے سابق وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ نے اتوار کے روز اپنے ٹویٹ میں لکھا کہ ‘ان کی اور دیگر رہنماؤں کی نظربندی کا عمل شروع کر دیا گیا ہے اور اس حقیقت کو جاننے کا کوئی راستہ نہیں ہے۔’


اس ٹویٹ کے جواب میں کانگریس رہنما اور سابق وزیر ششی تھرور نے لکھا: ‘عمر عبد اللہ، آپ اکیلے نہیں ہیں۔ ہر جمہوری ہندوستانی کشمیر میں مین سٹریم کے شائشتہ قائدین کے ساتھ کھڑا ہوگا۔ پارلیمان کا اجلاس جاری ہے اور ہماری آواز کو خاموش نہیں کیا جاسکتا۔’
اسی دوران پی ڈی پی رہنما محبوبہ مفتی نے بھی ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ وہ کشمیر کے لیے متحد ہیں۔

انڈیا کے اخبارات نے کیا لکھا؟
اس دوران انڈیا کے تمام سرکردہ اخباروں کے اداریے بھی کشمیر پر رہے۔ انگریزی اخبار ‘ہندوستان ٹائمز’ نے اداریے میں لکھا کہ: ’ہوشیار رہیں، لیکن شہریوں کے اندیشوں کو دور کریں۔‘
اس سرخی کے نیچے اخبار نے لکھا کہ کشمیر میں ایک ہفتے سے جاری بحران کے دو عناصر ہیں۔
اخبار کے مطابق پہلا عنصر بیرونی ہے اور اطلاعات کے مطابق حکومت کو معتبر ذرائع سے پتا چلا ہے کہ پاکستان انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں دراندازوں کو بھیجنے کی کوشش کر رہا اور انھیں مبینہ طور پر پاکستانی فوج کی پشت پناہی حاصل ہے۔ اخبار کا کہنا ہے کہ ملک کے وزیر اعظم عمران خان کا واشنگٹن میں جس طرح استقبال ہوا ہے اس سے اسلام آباد کا حوصلہ بلند ہے۔
اس کے ساتھ ہی یہ بھی لکھا ہے کہ اس بحران میں اندرونی عناصر بھی شامل ہیں۔ ہر چند کہ عملی رازداری ضروری ہے لیکن مرکز کو کشمیریوں، جن میں ریاست کی سیاسی جماعتیں، سول سوسائٹی اور شہری شامل ہیں، کو اعتماد میں لینا چاہیے۔
لیکن اس کے برعکس یہ دیکھا گیا کہ کشمیری رہنماؤں اور عوام کو وہاں کے حالات سے مکمل طور پر بے خبر رکھا گیا۔ رہنما اور اہم شخصیات نظربندی کا تو عوام کرفیو کا سامنا کرتے رہے۔
دوسری جانب اخبار ’ٹائمز آف انڈیا‘ نے ‘ٹینس کشمیر’ یعنی ’کشیدہ کشمیر‘ کے عنوان سے اپنا اداریہ شائع کیا جس میں لکھا کہ امرناتھ زائرین اور سیاحوں کے غیر روایتی انخلا کے بعد مرکز کو افواہوں کو روکنا چاہیے۔
اداریے میں لکھا کہ ’امرناتھ یاترا کو معمول سے دو ہفتے قبل ختم کر دیا گیا۔ قابل غور بات یہ ہے کہ صرف بی جے پی حکومت ہی امرناتھ یاترا کو وقت سے پہلے ختم کر سکتی تھی کیونکہ اگر کسی اور حکومت نے ایسا کیا ہوتا تو یہ بیانیہ گردش کرتا کہ دہشت گردوں کی وجہ سے ہندو زیارت کو پورا ہونے سے روک دیا گیا۔ اس حوالے سے واجب سوالات پوچھے جا رہے ہیں کہ کیا سیاحوں اور زائرین سے فوراً وادی کو خالی کروانا واقعی ضروری تھا۔‘
دوسرے مبصرین کا خیال ہے کہ اگر کسی دوسری حکومت نے ایسا کیا ہوتا تو بی جے پی نے ہی ملک گیر پیمانے پر شور شرابہ کھڑا کر دیا ہوتا۔


امرناتھ کی زیارت کے آنے والے لوگوں کو واپسی کا حکم دے دیا گیا ہے اور اس مقدس یاترا کو وقت سے پہلے ختم کر دیا گیا ہے

انڈین ایکسپریس نے ‘نئی دلی، پرانے طور’ کے عنوان سے لکھا کہ ایک بار پھر مرکز نے وادی کو پیغام دیا ہے کہ وہ تنہا فیصلہ کرے گی اور اس کی اس نے کوئی توجیہ بھی پیش نہیں کی ہے۔
اس نے طنز کرتے ہوئے لکھا ہے کہ گذشتہ چند روز کے دوران کشمیر میں جو کچھ ہوا ہے وہ این ڈی اے حکومت اور بذات خود وزیر اعظم مودی کے دعووں یعنی کشمیر کو محبت، بات چیت اور گڈ گورننس سے جیتنے کے برعکس ہے۔

اس نے مزید لکھا کہ یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ بحران کے زمانے میں عوام کو بھروسہ دلائے لیکن دو اگست سے جو ہو رہا ہے وہ اس کے بالکل برعکس ہے۔

پیر کی صبح وزیر اعظم مودی نے اپنی رہائش پر مرکزی وزیروں کی میٹنگ بلائی ہے۔ پہلے پہل تو یہ واضح نہیں تھا کہ یہ میٹنگ کشمیر پر بات چیت کے لیے بلائی گئی ہے لیکن آج کے اقدامات کے بعد یہ واضح ہوگیا ہے کہ حکومت کیا منصوبہ بندی کر رہی تھی۔
دوسری جانب پاکستان میں بھی دوپہر دو بجے کشمیر معاملے پر پارلیمانی کمیٹی کی میٹنگ طلب کی گئی ہے۔

امریکی ثالثی کا معاملہ
پاکستانی وزیر اعظم کے امریکہ کے دورے کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک سے زیادہ بار کشمیر کے مسئلے پر ثالثی کے لیے رضامندی کا اظہار کیا ہے جس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ کشمیر کے معاملے میں سب کچھ ’بہت ٹھیک’ نہیں ہے۔
بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے چین اور امریکہ سے روایتی روابط رہے ہیں لیکن صرف اسرائیل انڈیا کی طرف پوری طرح نظر آ رہا ہے۔
اتوار کو ورلڈ فرینڈشپ ڈے پر دہلی میں اسرائیل کے سفارتخانے نے دونوں ممالک کے وزرائے اعظم بنیامین نتن یاہو اور نریندر مودی کی ایک ساتھ کئی تصاویر جاری کیں اور اس کے ساتھ فلم شعلے کا معروف گیت ‘یہ دوستی ہم نہیں توڑیں گے’ بھی تھا۔
پاکستان کے امریکہ کے ساتھ تعلقات میں ٹرمپ کے صدر بننے کے بعد سے جو تلخی آئی تھی وہ بھی عمران خان کے واشنگٹن دورے سے پگھلتی نظر آ رہی ہے۔ ایسے میں انڈیا کسی قسم کی حوصلہ مند پیش قدمی سے گریز کرے گا۔
دوسری جانب اسلامی ممالک کی تنظیم (او آئی سی) نے انڈیا اور پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں بگڑتی ہوئی صورت حال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے اپنی ذمہ داری ادا کرے۔
او آئی سی نے ایک ٹویٹ میں انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کی بگڑتی ہوئی صورت حال سمیت یہاں پیراملٹری فورسز کی تعیناتی اور انڈین فوج کی جانب سے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں شہریوں کو ممنوعہ کلسٹر بموں سے نشانہ بنائے جانے پر اسلامی تعاون تنظیم کو انتہائی تشویش ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں