عالمی برادری نوٹس لیکر بارڈرز ملٹری کمیشن 1949ء کی طے شدہ سرحدوں کا احترام کروائے،سیاسی قیدیوں پر مقدمات اور گرفتاریاں بند کی جائیں، لیاقت حیات، شفقت انقلابی و دیگرکی پریس کانفرنس

جموں کشمیر نیشنل عوامی پارٹی کے صدر سردار لیاقت حیات، بلوچستان نیشنل فرنٹ کے سابق سیکرٹری اطلاعات شفقت انقلابی، ایس ایم ابراہیم ایڈووکیٹ جموں کشمیر لبریشن فرنٹ، ناصر سرور جے کے ایل ایف (ر)، فاران مشتاق (جے کے این ایس ایف)، سردار سجاد (سرو راجیہ پارٹی)نے غازی ملت پریس کلب میں پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ گلگت بلتستان متنازعہ ریاست جموں کشمیر سے منسلک اہم ترین اکائی ہے جو کہ 71سالوں سے اپنی شناخت سے محروم ہے۔پاکستان نے ایک خاص مقصد کے تحت اس علاقے کو ریاست کی دوسری د ونوں اکائیوں سے ہمیشہ دور رکھنے کی کوشش کی ہے۔
گلگت بلتستان جغرافیائی اہمیت کی وجہ سے سامراجی ملکوں کا اکھاڑا
رہنماؤں کا کہنا تھاکہ پورے خطے میں گلگت بلتستان ایجنسی اپنی مخصوص جغرافیائی اہمیت کی وجہ سے پہلے دن سے ہی پاکستان اور ہندوستان کے ساتھ ساتھ چائنہ اور امریکہ کیلئے بھی انتہائی اہمیت کا حامل رہا ہے۔پاکستان اور چائنہ کے مابین سی پیک کا معائدہ طے ہونے کے بعد اس خطے کی اہمیت میں ایک بار پھر اضافہ ہوا ہے پاکستان اور چائنہ ریاست کی بند ر بانٹ کر کے گلگت بلتستان کو پاکستان کے مکمل کنٹرول میں دے کر اپنے عزائم کوپورا کرنا چاہتا ہے جبکہ امریکہ اور بھارت گلگت ہی میں چائنہ کو آگے بڑھنے سے روکنا چاہتا ہے۔پاکستان نے سب سے پہلے اس علاقے کو ریاست سے الگ رکھا پھر یہاں پر قانون باشندہ ریاست کا خاتمہ کیاگیا، غیر مقامی لوگوں کو سرکار کی مدد سے لا کرآباد کر کے مقامی آبادی کو اقلیت میں بدلنے کی کوشش جاری ہے۔ یہاں کے معدنیات غیر مقامی کمپنیوں کو لیز پر دیے جارہے ہیں۔
گلگت اور لداخ کی سرحدی خلاف ورزیوں اور قبضے کے الزامات
پریس کانفرنس میں ان رہنماؤں نے الزام عائد کیا کہ پاکستانی صوبہ خیبر پختون خوا کی جانب سے گزشتہ چالیس سالوں سے عالمی طے شدہ جموں کشمیر کے تیسرے شمالی صوبے گلگت، لداخ کے بارڈر کی مسلسل خلاف ورزیاں جاری ہیں، سب سے پہلے ضلع دیامر کے ا س مقام پر کے پی کے نے چالیس کلومیٹر اور ریاست کی حدود کے اندر آباکرنے بارڈر زبردستی طے کیا جہاں پر دیامر بھاشا ڈیم بن رہا ہے،جبکہ ضلع مانسہرہ کی جانب سے دیامر کے علاقے لولوسر پر قبضہ کیاگیا ہے دوسری جانب ضلع غذر اور کے پی کے ضلع چترال کے مابین ماضی میں طے شدہ انٹرنیشنل بارڈ لاسپور میں واقع تھا وہاں پر کے پی کے نے منظم انداز میں چترال سکاؤٹس اور ایف سی کی ایماء پر دنیا کے بلند ترین شندور پولو گراؤنڈ پر اپنا ناجائز قبضہ جما لیا۔ پچھلے مہینے دنیا کے مشہور ترین گلیشیئر قرمبر اور قرمبر جھیل پر قبضہ کی گئی کوشش کی یہ بھی ضلع غذر میں واقع ہے۔
ہندرپ نالہ پر مقامی لوگوں کا اغواء اور احتجاج
پریس کانفرنس کے دوران شفقت انقلابی نے بتایا کہ دو ہفتے قبل ہندر پ نالہ پر کوہستان کے ایک باثر شخص ملک آفرین کے غنڈوں نے قبضہ کیلئے حملہ کیا اور چار مقامی لوگوں کو اغواء کر کے کوہستان لے کر گئے، غذر کی تمام سیاسی جماعتوں نے چار دن مسلسل احتجاج کیا مگر گلگت بلتستان پولیس اور انتظامیہ اغوار کاروں کو گرفتار کرنے میں ناکام رہی، عوامی دباؤ بڑھنے پر کوہستان انتظامیہ نے مغویوں کو ایک جرگے کے ذریعے بازیاب کروایا اور انہیں ہی ملزمان بنا کر کے پی کے کے شہر داسو کی عدالت میں پیش کر کے جیل بھیجا گیا، شدید احتجا ج کے بعد انہیں ضمانت ملی دوہفتے گزر نے کے باوجود اصل ملزمان گرفتار نہیں ہوسکے، ہماری زمینوں پر قبضہ ہوا اورہمارے ہی لوگ اغواء ہوئے حکومت نے ملزمان کے خلاف کاروائی کرنے کے بجائے حالیہ ایک ہفتے سے احتجاج میں شامل قوم پرست جماعتوں، سیاسی جماعتوں، سنیئر وکلا اور سول سوسائٹی کے ذمہ داران کے خلاف انتقامی کاروائی شروع کر رکھی ہیں پچاس کے قریب سنیئر قیادت کو ایک نوٹس دیاگیاجس میں ان پر ریاست کے خلاف ہرزہ سرائی کے من گھڑت الزامات لگاتے ہوئے انہیں بدنام زمانہ قانون انسداد دہشت گردی کے تحت شیڈول فور میں ڈالنے کی دھمکی دی گئی اس وقت بھی قوم پرست رہنما اور رکن قانون ساز اسمبلی نواز خان ناجی اور دیگر قائدین کی قیادت میں احتجاجی تحریک جاری ہے۔
عطاء آباد کیس میں سزائیں اور تنقید پرمقدمات و چھاپے
شفقت انقلابی کا کہنا تھا کہ پچھلے ہفتے مشہور زمان عطاء آباد کیس میں کے این ایم کے کامریڈ افتخار کربلائی کو ایک ایف آئی آر میں انیس سال کی سزا انسداد دہشت گردی کی عدالت سے سنائی گئی،اسی کیس کی دو ایف آئی آرز میں افتخار کربلائی، کامریڈ بابا جان اور بارہ دیگر سیاسی کارکنوں کو پہلے ہی اکہتر سال کی سزا سنائی جا چکی ہے اب گیارہ بندوں کو اکہتر سال کی جبکہ افتخار کربلائی کو نوے سال کی سزا سنائی جا چکی ہے جو کہ دنیا کی تا ریخ کی لمبی ترین سزا ہے۔اس سزا پر ایک مضمون لکھ کر گلگت بلتستان میں انسداد دہشت گردی کے قانون کو غیر قانونی قرار دینے پر انسداد دہشت گردی کی عدالت کی جانب سے میرے (شفقت انقلابی کے)خلاف توہین عدالت کے نوٹس کے ساتھ ساتھ گرفتاری کے وارنٹ بھی جاری کیے گئے ہیں۔نوٹس جاری ہونے کے ساتھ ہی پولیس نے میرے گھر، والدین کے گھر، سسرال پر چھاپے مارے جو کہ غیر قانونی اور غیر اخلاقی ہیں۔ ان تمام اقدامات کی ہم بھرپور مذمت کرتے ہیں۔
عالمی برادری سے مداخلت، پاکستان پر دباؤ ڈالنے کا مطالبہ
ان رہنماؤں نے عالمی برداری سے مطالبہ کیا کہ وہ فی الفور مداخلت کرے اور پاکستان پر دباؤ بڑھائے کہ پاکستان فوری طور پر کے پی کے کی جانب سے بارڈر کی خلاف ورزیوں کو روکے اور اپنی حدود تک چلا جائے جو کہ پاکستان اور ہندوستان نے اقوام متحدہ کے مشن کے سامنے ریاست جموں کشمیر کے بارڈرز ملٹری کمیشن کے ذریعے جولائی 1949میں کراچی میں طے کیے تھے۔ گلگت بلتستان اور کے پی کے کے درمیان بین الاضلاعی یا بین الصوبائی نہیں بلکہ بین الاقوامی طے شدہ انٹرنیشنل بارڈز ہیں کراچی ملٹری ایگریمنٹ پر فوری عمل در آمد کروایاجائے،گلگت بلتستان میں سٹیٹ سبجیکٹ رول کو فی الفور بحال کیاجائے۔گلگت بلتستان جموں کشمیر کا نفلیکٹ کا اہم ترین حصہ ہے، یہاں پر کبھی عبوری صوبہ تو کبھی آئینی حقوق جیسے لالی پاپ دینے کے بجائے پاکستان اپنے وعدے کے مطابق گلگت بلتستان میں فوری طور پر لوکل اتھارٹی کے قیام کو یقینی بنائے اس سے کم تر کوئی بھی سیاسی سیٹ اپ ہرگز قبول نہیں کیاجائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں